سرورق مضمون

کانگریسی وزیر کی رسوائی ، وزارت سے الگ ، روپوشی اور پولیس کے سامنے حاضری

کانگریسی وزیر کی رسوائی ، وزارت سے الگ ، روپوشی اور پولیس کے سامنے حاضری

ڈیسک رپورٹ
کئی دن کی لیت و لیل کے بعد سابق وزیرصحت شبیر خان کو آخر کار پولیس کے سامنے سرنڈر کرنا پڑا ۔ اس کے بعد خان کو پچیس ہزار کے مچلکے پر ضمانت ملی ۔ تاہم انہیں اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ شبیر خان کو اس وقت اپنے عہدے سے استعفیٰ پیش کرنے کے لئے کہا گیا جب ایک لیڈی ڈاکٹر نے الزام لگا یا کہ خان نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس کا استعفیٰ وزیراعلیٰ نے فوری طور گورنر کو منظوری کے لئے بھیجدیا ۔ اس کے بعد خان نے پیشگی ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن ان کی درخواست عدالت نے نا منظور کی۔ عدالت نے اسے پولیس کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی ۔ کئی دنوں تک روپوش رہنے کے بعد خان نے آخر کار پولیس کے سامنے سرنڈر کیا جہاں اس کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔ اس معاملے پر ایوان کے جاری اجلاس میں اپوزیشن نے سخت شور شرابا کیا اور الزام لگایا کہ حکومت خان کو بچانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے ۔ اس کے بعد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا کہ پولیس انہیں تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہے اور جلد ہی اس کو گرفتار کیا جائے گا۔ ادھر کیس کی مدعی لیڈی ڈاکٹر کا الزام ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر شبیر خان کے خلاف کوئی کاروائی کرنے میں دھیری کردی اور اس کو بچانے میں مدد کی ۔ لیڈی ڈاکٹر کے ہم پیشہ کئی ڈاکٹروں نے ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کے جھنڈے تلے ایک جلوس نکالا اورہیلتھ منسٹر کے کردار کی کڑی نکتہ چینی کی ۔ یاد رہے کہ ہیلتھ منسٹر نے مبینہ طور ایک سینئر لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ناشائستہ زبان استعمال کی اور اس کو اپنے ہوس کا شکار بنانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس پرمذکورہ لیڈی ڈاکٹر نے شہید گنج تھانے میں منسٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ۔ لیکن تھانے دار نے کوئی کاروائی کرنے سے معذرت کی ۔ اس کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ عدالت نے پولیس کو کاروائی کرنے کی ہدایت دی اور معاملہ کافی شہرت پاگیا ۔ ملزم کو سخت رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنی وزارت سے ہاتھ بھی دھونا پڑا ۔
شبیر خان موجودہ وزارت میں پہلے وزیر نہیں ہیں جس کو کسی وجہ سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا ۔ اس سے پہلے غلام احمد میر کو سیکس سکنڈل میں ملوث ٹھہرانے پر وزارت سے کچھ عرصے کے لئے الگ ہونا پڑا ۔ اسی طرح پیرزادہ سعید کو اپنے متبنیٰ بیٹے کو نقل امتحان میں نقل دکھانے کی بنیاد پر وارت تعلیم سے الگ ہونا پڑا ۔ شبیر خان کانگریس کے ساتویں وزیر ہیں جس کو وزارت سے الگ ہونا پڑا ۔ اس طرح سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں سیاسی لیڈروں خاص کر وزرا کا حال کس قدر شرمندگی کا باعث بن رہا ہے ۔ ریاست کے کانگریس کے سربراہ نے کانگریسی وزیروں پر لگنے والے اس طرح کے الزامات کو پارٹی کی بدقسمتی قرار دیا ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شبیر خان ایسے واحد وزیر نہیں جو اس طرح کے شرمناک کھیل میں ملوث ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے بیشتر وزیر ایسی حرکات کے عادی بن گئے ہیں ۔کشمیر میں سیکس کا کاروبار کافی پھیل چکا ہے اور نچلی سطح سے لے کر سیاسی اہلکاروں یہاں تک کہ کابینہ درجے کے وزیر بھی اس میں ملوث پائے جارہے ہیں۔ شبیر خان نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی حرکت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مطمئن ہیں اور عدالت سے رہائی پائیں گے ۔ انہوں نے عدالت پراعتماد ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ کیس میں باعزت طور رہا ہونگے ۔ اب کیس عدالت میں زیر سماعت ہے اور دیکھنا ہے کہ آگے کیا کاروائی ہوتی ہے ۔ تاہم بہت سے لوگ الزام کو بلا سبب قرار نہیں دیتے ہیں ۔ یہ ایک پیچیدہ کیس ہے ۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ الزام لگانا جس قدر آسان ہے اسی قدر ثابت کرنا مشکل ہے ۔ لیڈی ڈاکٹر اپنے بیان پر بضد ہے اور الزام لگا رہی ہے کہ خان نے سیول سیکٹریٹ کے آفس میں اس کی عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے علاوہ بھی اس نے کئی طرح کے الزامات لگائے ہیں ۔ ان کی طرف سے ہائی کورٹ کے سینئر وکیل کیس لڑ رہے ہیں۔ لوگوں کی نظریں کیس کے آخری نتیجہ پر لگی ہوئی ہیں ۔