سرورق مضمون

کانگریس ،بی جے پی انتخابی جنگ عروج پر / کشمیر میں پی ڈی پی کا پلڑا بھاری

ڈیسک رپورٹ
دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک بھارت میں 7 اپریل کو لوک سبھا کے لئے ہونے والے انتخابات کا پہلا مرحلہ طے ہوا ۔ کانگریس دعویٰ کررہی ہے کہ وہ ان انتخابات کے نتیجے میں ایک بار پھرملک کا اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ دوسری طرف دائیں بازو کی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سب سے بڑی پارٹی کے روپ میں ابھر آئے گی۔ اس پارٹی نے گجرات کے ویراعلیٰ نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کے لئے امیدوار کے طور نامزد کیا ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ مودی کے حق میں بڑے پیمانے پر ووٹروں میں ہمدردی پائی جاتی ہے۔ مودی کے دور میں گجرات میں بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات ہوئے ۔ اس وجہ سے مسلمانوں میں مودی کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ البتہ اس دوران ریاست نے معاشی لحاظ سے کافی ترقی کی۔ اس معاشی ترقی کو دیکھ کر بہت سے لوگ مودی کو ملک کے معاشی بحران کا مسیحا قرار دے رہے ہیں اور اس کو وزیراعظم بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ تجارتی حلقے کانگریس کے برعکس اس انتخاب میں مودی کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پنڈت مودی کے وزیراعظم بن جانے کو یقینی قرار دے رہے ہیں۔بی جے پی اور کانگریس کے درمیان انتخابی جنگ عروج پر ہے ۔کانگریس کی انتخابی مہم کی قیادت راہول گاندھی کررہے ہیں ۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے روایتی حلقے رائے بریلی سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں۔ ان کی بیٹی پریانکا گاندھی نے بنارس حلقے سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔پچھلے لوک سبھا میں 58 فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا اظہار کیا تھا ۔ اب کی بار ٹرن آوٹ میں اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔
ملک میں لوک سبھا کی 543 نشستوں پرانتخاب9 مرحلوں میں طے ہونے والاہے۔ریاست میں ان انتخابات کا پہلا مرحلہ 10 اپریل کو ہوا ۔ اس مرحلے میں جموں پونچھ سیٹ پر18 لاکھ میں سے68 فیصد سے زائد ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔ جموں میں 70 فیصد جبکہ راجوری میں ووٹنگ شرح 60 فیصد رہی۔اسی طرح پونچھ میں 57 فیصد اور سانبہ میں 75 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے ۔ ووٹنگ کی اس شرح سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ بی جے پی کو فائدہ ملے گا ۔ جن علاقوں میں زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ وہاں بی جے پی کا غلبہ پایا جاتا ہے۔ کانگریس کو مسلم اکثریتی علاقوں میں زیادہ ووٹ ملنے کی امید تھی ۔ لیکن وہاں کم تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ اس نشست پر 11 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں۔اب تک ہوئے انتخابات میں یہاں کانگریس نے سات مرتبہ جبکہ بی جے پی نے دو بار الیکشن جیتا ہے ۔آج کے انتخاب میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے ۔ یہاں مودی نے بی جے پی کی انتخابی ریلے سے خطاب کیا۔اس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس سے بی جے پی والے اپنی کامیابی کا دعویٰ کررہے ہیں۔ادھر سرینگر نشست کے لئے فاروق عبداللہ کے بعد پی ڈی پی کے طارق حمید قرہ نے بھی کاغذات نامزدگی داخل کئے۔ اس نشست پر عام آدمی کی طرف سے ڈاکٹر مظفر نے بھی قسمت آزمائی کے لئے کاغذات بھر لئے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں این سی اور پی ڈی زوروشورسے مہم چلارہے ہیں۔ این سی کی طرف سے نورآباد میں ایک بڑا عوامی جلسہ بلایاگیاجبکہ شوپیان میں پی ڈی پی ریلے پر نامعلوم افراد نے سنگ باری کی ۔ یہاں پی ڈی پی کو کامیابی کی امید ہے۔ تاہم بائیکاٹ کی صورت میں این سی کو فائدہ ملنے کی امید ہے ۔