سرورق مضمون

کانگریس تمام برائیوں کی جڑ /مودی

کانگریس تمام برائیوں کی جڑ /مودی

ڈیسک رپورٹ
26 مارچ کوگجرات کے وزیراعلیٰ اور بی جے پی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے لئے نامزد امیدوار نریندر مودی نے جموں میں عوامی جلسے میں الزام لگایا کہ کانگریس ملک میں موجود تمام برائیوں اور خرابیوں کی جڑہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس نے ملک میں خاندانی راج نافذ کرکے جمہوریت کو سخت نقصان پہنچایا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس نے اپنے بانی لیڈر لال بہادر شاستری کے نعرے جے جوان جے کسان کو پوری طرح سے بدل دیا اور لوگوں کو زندگی دینے کے بجائے مروادیا ۔ مودی نے ریاستی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ عمر عبداللہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر میرے جلسے کی چوکیداری کررہے ہیں ۔ کانگریس اور این سی پر لگائے گئے ان الزامات کی دونوں پارٹیوں نے تردید کی اور جواب میں بی جے پی کے علاوہ پی ڈی پی کی بھی سخت تنقید کی ۔ نیشنل کانفرنس کے سرپرست اور مرکزی وزیر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ پی ڈی پی کو ووٹ دینا بی جے پی کو ووٹ دینے کے برابر ہے ۔
نریندر مودی جموں میں ایک الیکشن ریلے سے خطاب کرنے کے لئے آئے تھے ۔ یہ ریلے ہیرا نگر میں ’بھارت وجے ریلی ‘کے عنوان سے بلائی گئی تھی۔ ریلی میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جو بی جے پی اور مودی کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔ مودی نے جموں پہنچتے ہی پہلے کٹرا میں وشنودیوی میں حاضری دی۔ اس کے بعد آپ ہیرا نگر پہنچے جہاں لوگ بڑی تعداد میں آپ کا انتظار کررہے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کے جوش و خروش پر ان کا شکریہ کیا اور اپنی پارٹی کی پالیسی واضح کی۔ انہوں نے کشمیر کا خاص طور سے ذکر کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلہ جواہر لال نہرو کی پیداوار ہے ۔ مودی نے یقین دلایا کہ ان کے اقتدار میں آنے سے کشمیر کے لوگوں کو راحت ملے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ کشمیر پر ان کی وہی پالیسی رہے گی جو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی رہی ہے ۔ مودی نے واضح طور کہا کہ وہ اسی پالیسی کو لے کر آگے بڑھیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ واجپائی مزید پانچ سال وزیر اعظم رہتے تو کشمیر کے حالت بدل گئے ہوتے اور لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کیا جاتا۔ اس موقعہ پر انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ ملک سے بدامنی اور رشوت ستانی کا خاتمہ کرنے کے لئے بی جے پی کو ووٹ دیا جائے ۔ مودی نے اعلان کیا کہ وہ پانچ سال اقتدار پر رہنے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کی چوکیداری کرنے کے لئے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی یقینی ہے اور ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح کشمیر میں بھی تبدیلی کی ہوا چلی ہے۔انہوں نے کانگریس کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس پر بھی تابڑ توڑ حملے کئے۔ اس پر نیشنل کانفرنس سخت سیخ پا ہوگئی ہے ۔ مودی کے بیان پر پارٹی لیڈر فاروق عبداللہ اور وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ۔ عمرعبداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مودی کو جموں میں خاندانی راج کے خلاف باتیں کرنے کے بجائے پنجاب یا مہاراشٹر میں اس طرح کا بیان دینا چاہئے ۔عمر نے سماجی ویب سائٹ ٹویٹر کا استعمال کرتے ہوئے مودی پر الزام لگایا کہ وہ سچائی کو روند کر آگے جارہے ہیں ۔ مودی کے جلسے کی ہیلی کاپٹر سے چوکیداری کرنے کی بات کو انہوں نے سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شادمانی کے ساتھ اس جلسے کو نظر ا نداز کیا ۔ اس طرح سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ آنے والے پارلیمانی انتخاب کے دوران مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان سخت بیان بازی کابازار گرم ہوگا۔
ہیرانگر میں مودی کے جلسے کے دوران کشمیر میں پولیس ٹاسک فورس کے بانی آفیسر فاروق خان اور صحافی جہانگیر بدر نے بی جے پی میں شامل ہونے کااعلان کیا۔