نقطہ نظر

کانگریس کو اس کی کرپشن لے ڈوبی

کلدیپ نائر
کانگریس تقریباً پانچ ریاستوں آسام‘ کیرالہ‘ تامل ناڈو‘ مغربی بنگال اور پانڈیچری میں اسمبلی کے انتخابات ہار گئی ہے لیکن میرے پاس اس کی شکست پر بہانے کے لیے کوئی آنسو نہیں۔ پارٹی کو یقینا بہت شدید دھچکا لگا ہو گا اور وہ لازمی طور پر اس شکست کی وجوہات بھی تلاش کر رہی ہو گی، لیکن مصیبت یہ ہے کہ کانگریس ابھی تک اس فریب نظر سے باہر نہیں نکل سکی کہ اس کی اصل طاقت اس کے حکمران خاندان میں ہے۔
اپنی اس خام خیالی میں وہ اس قدر مبتلا ہے کہ جو انتخابی پوسٹر کانگریس نے آویزاں کیے ان میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ وادرا کی تصویر بھی تھی حالانکہ وہ اراضی کے ان مشکوک سودوں میں ملوث تھا جب کانگریس کی ہریانہ پر حکومت تھی۔ کانگریس کی شکست سے قطع نظر جس چیز نے مجھے بے حد بے چین کیا وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت تھی۔ متذکرہ پانچوں ریاستوں میں جہاں پہلے بی جے پی جیت نہیں سکی تھی اب وہاں اس کے ووٹوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ساکھ کم ہونے کے بجائے بہتر ہو رہی ہے لیکن یہ ایسی بات ہے جس سے ملک کو تشویش میں مبتلا ہو جانا چاہیے کیونکہ بی جے پی کی جیت درحقیقت ’’ہندوتوا‘‘ کی جیت ہے۔
بالفاظ دیگر یہ سیکولر ازم کی موت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ہندوتوا دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اگر بی جے پی صرف اپنے بل بوتے پر جیتتی تو جلد یا بدیر اس کا زوال بھی شروع ہو جاتا جیسے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کا ہوتا ہے لیکن بی جے پی کی سرپرستی راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کر رہی ہے جو جمہوری بھارت کو خالصتاً ہندو ریاست میں تبدیل کرنے میں درپے ہے، لیکن حیرت کی بات ہے کہ اپنے اس فرقہ وارانہ نکتہ نظر کے باوجود جو کہ سیکولر ازم کے صریح منافی ہے، بی جے پی ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔
اس کی یہ وجہ ہر گز نہیں کہ بھارتی جنتا جو کہ اپنی فطرت کے اعتبار سے متحمل مزاج ہے اپنی بنیادی خصوصیت کو کھو رہی ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ لوگ حکومت کے ہر شعبے میں کرپشن کی بھرمار سے تنگ آ چکے ہیں جب کہ بی جے پی کی حکومت میں انھیں اب تک کرپشن کا کوئی بڑا سکینڈل نظر نہیں آیا۔کانگریس میں سب سے بہترین چہرہ منموہن سنگھ کا تھا لیکن اس کے باوجود دولت مشترکہ کی کھیلوں کے انعقاد اور کوئلے کے بلاکس کے سکینڈلوں نے ان کی حکومت کو داغدار کر دیا۔
ایسے لگتا ہے کہ منموہن نے پارٹی کی حد سے بڑھی ہوئی کرپشن کی نہایت بہترین انداز میں پردہ پوشی کی۔ اب اس بات کا کافی ثبوت مل گیا ہے کہ سونیا گاندھی نے اپنے پولیٹیکل سیکریٹری احمد پٹیل کے مشورے پر ہر طرح سے روپیہ اکٹھا کرنے کی کوشش کی تا کہ پارٹی کی مشینری کو انتخاب جیتنے کے لیے رواں دواں رکھنے کی خاطر زیادہ سے زیادہ رقوم استعمال کی جا سکیں۔ یہ بات درست ہے کہ بی جے پی کی تقسیم در تقسیم کی سیاست کو دیکھتے ہوئے لوگوں کی توجہ ایک بار پھر کانگریس کی طرف مبذول ہو سکتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کا وہ قد کاٹھ نہیں جو کہ نریندر مودی کا ہے لہٰذا اگر لوک سبھا کے آیندہ انتخابات کے لیے عوام کو راہول اور مودی میں سے کسی ایک کو چننے کا موقع دیا جائے تو راہول کی برتری کا کوئی احتمال نظر نہیں آتا۔ واضح رہے ابھی لوک سبھا کے انتخابات میں پورے تین سال کا عرصہ پڑا ہے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ جو دیگر سیاسی پارٹیاں ہیں ان سب کو مل کر ایک مشترکہ انتخابی محاذ قائم کرنا چاہیے تا کہ ان کے ووٹ تقسیم نہ ہوں لیکن اس سلسلے میں ان سیاسی جماعتوں کو آیندہ کے وزیراعظم کے لیے کسی پْرکشش شخصیت کو متعین کرنا پڑے گا کیونکہ بھارت میں اگرچہ امریکا کی طرح صدارتی نظام حکومت نہیں ہے لیکن پھر بھی لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کا اگلا وزیراعظم کون ہو گا۔ ایک قابل غور چیز بی جے پی کی یہ ہے کہ اس نے آسام کے اندر سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کی حکومت نے سرحد پار سے اس ریاست میں آنیوالوں کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ اس وقت کانگریس کے لیڈر فخر الدین علی احمد تھے جو بعدازاں بھارت کے صدر بن گئے۔
وہ کھلم کھلا کہتے تھے کہ انھوں نے ’’علی‘‘ اور ’’قلی‘‘ کے ووٹوں سے انتخاب جیتا ہے۔ علی سے ان کی مراد مسلم ووٹ تھے اور قلی سے ان کی مراد بہار سے آنیوالے محنت کش لوگ تھے جن کے لیے انھوں نے ’قلی‘ کا نام استعمال کیا۔ اگر آسام میں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کا سوال دوبارہ اٹھایا جائے تو ہزاروں لوگ اس درجے میں آئیں گے۔ ہم نے پہلے بھی اس مسئلے کا سامنا کیا اور بہت سارے لوگوں کو اس بنیاد پر ریاست سے بیدخل کر دیا گیا۔ جب صرف مسلمانوں کو نکالا گیا اور کسی ہندو کو خارج نہ کیا گیا تب اس مسئلے نے فرقہ وارانہ شکل اختیار کر لی۔
کیا بھارت کے لیے ایسا کرنا روا ہے جو کہ اجتماعیت اور جمہوریت کی سیاست کا دعویدار ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر کیا اس معاشرے کو سیکولر معاشرہ کہا جا سکتا ہے؟ کیونکہ اس وقت کانگریس کی پہلے جیسی حیثیت نہیں۔ اس کے علاوہ اور کونسی پارٹی ہے جو فرقہ واریت کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے؟ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بائیں بازو کی قوتیں اجتماعیت اور سیکولرازم کے حق میں ہیں لیکن پھر یہ بات کہ ان کی حیثیت بھی زیادہ مضبوط نہیں۔ 65 سال قبل بھارت کی ریاست کیرالہ میں نمبودری پد کی قیادت میں پہلی کمیونسٹ حکومت قائم کی گئی، لیکن اس پارٹی نے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ کیرالہ کو اس زمانے میں چین کے شہر ڑان آن کا مترادف قرار دیا جاتا تھا لیکن یہ تشبیہہ بھی خواب و خیال ہوکر رہ گئی۔
یہ درست ہے کہ نریندر مودی مقبولیت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی، اس کے باوجود اس کی سحر انگیزی کا کچھ اثر باقی ہے۔ مودی کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ بیروزگاری کے کس قدر کم کر سکتے ہیں اور ملک میں آبادی کے معیار زندگی میں کتنی بہتری لا سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اقتصادی ترقی سے بنیاد پرستوں کو ایک آڑ میسر آجائے گی لیکن تعمیر و ترقی حقیقی معنوں میں ہونی چاہیے نہ کہ اس کو محض نعرے کے طور پر استعمال کیا جائے جیسا کہ اب تک کیا جا رہا ہے بلکہ بنیاد پرستی کا غوغا بھی کچھ مدھم کیا جانا چاہیے اور غالباً مودی کو اس کا احساس ہے۔ اسی لیے انھوں نے ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جس سے یہ مترشح ہو کہ ملک سیکولر ازم کے راستے سے ہٹ گیا ہے۔
مودی کا سب سے بڑا مسئلہ آر ایس ایس ہے جو چاہتی ہے کہ سارے ملک کو ’’جوگیا رنگ‘‘ میں رنگ دیا جائے جب کہ مودی کی 5 سالہ مدت ختم ہونے میں ابھی تین سال کا عرصہ باقی ہے جب کہ آر ایس ایس اس عرصے کو اپنے ایجنڈے کی کامیابی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ مودی اگلی ٹرم کے لیے بھی وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر براجمان ہونا چاہتے ہیں لیکن اگر آر ایس ایس نے اپنے زہریلے دانت باہر نکال دیے تب مودی کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں رہے گا۔
جہاں جہاں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے وہاں وہاں اس نے کانگریس کا مکمل طور پر صفایا کر دیا ہے لیکن جیسے کہا گیا ہے کہ بی جے پی کی جیت کی اصل وجہ یہ ہے کہ لوگ کانگریس کی حد سے بڑھی ہوئی کرپشن سے تنگ آ چکے تھے نہ کہ اس میں بی جے پی کے نظریات کا کوئی عمل دخل ہے۔ اگر مودی اور آر ایس ایس اس صورت حال سے حقیقی طور پر سبق سیکھ سکیں تب بی جے پی کی جیت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)