مضامین

کبھی حمایت تو کبھی مخالفت

سہیل انجم
گجرات کے وزیر اعلی اور وزیر اعظم کے عہدے کے بھاجپائی امیدوار نریندر مودی کے تعلق سے یوں تو بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ کبھی ان کی حمایت میں تو کبھی ان کی مخالفت میں۔ ان بیانات میں دونوں جانب سے انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ان کے مداح ان کو ہندوستان کے تمام مسائل کو حل کرنے والے سیاست داں کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں تو ان کے مخالفین ان پر نکتہ چینی میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ ہاں لیکن ایک بات ہے کہ جس نے بھی انھیں ’’پھینکو‘‘ کا خطاب دیا ہے اس نے بالکل صحیح اور برجستہ دیا ہے۔ یہ صفت ان کی ذات پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔ وہ اپنی تقریروں میں مبالغہ آرائی کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل پاتے۔ گجرات میں ترقیات کا ایسا ڈھول پیٹتے ہیں جیسے اور کہیں ترقی ہوئی ہی نہیں ہے۔ حالانکہ دوسری ریاستوں میں بھی ترقی ہوئی ہے اور خود بی جے پی کی ایک ریاست مدھیہ پردیش میں بھی ہوئی ہے اور گجرات سے زیادہ ہوئی ہے۔ یہ دعوی خود بی جے پی کے کئی لیڈر کر چکے ہیں۔ اور گجرات میں بھی جتنی ترقی ہوئی ہے اس سے کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بہر حال حالیہ دنوں میں مزید دو تازہ بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایک انتخابی بیان ہے اور اس وجہ سے تقریباً غیر سنجیدہ ہے اور دوسرا ایک امریکی کمیشن کے دو ممبران کا بیان ہے اور وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ پہلا بیان سماج وادی پارٹی کے لیڈر نریش اگروال کا ہے۔ انھوں نے مودی کے ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک چائے بیچنے والے کی سوچ قومی سطح کی نہیں ہو سکتی اور اسے قومی امور کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے ان کے جلسوں میں اکٹھی ہو رہی بھیڑ کے بارے میں کہا ہے کہ بھیڑ تو مداری بھی اکٹھا کر لیتے ہیں۔
اگر چہ ہم جیسے بہت سے لوگ مودی کو پسند نہیں کرتے۔ ان کے نظریات کے مخالف ہیں۔ ان کے ماضی کے کارناموں کی وجہ سے ان کے حامی نہیں ہیں۔ گجرات فسادات میں مسلم کشی کی وجہ سے مودی کی تعریف نہیں کر سکتے۔ لیکن ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کسی چائے بیچنے والے کی ذہنیت اور اس کی سوچ قومی سطح کی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ سوچ کا تعلق پیشے سے نہیں ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ اگر بچپن میں کسی نے کوئی چھوٹا کام کیا ہے تو وہ زندگی میں بڑا کام نہیں کر سکتا۔ اور کام تو کوئی بھی چھوٹا نہیں ہوتا۔ یو ں بھی دنیا میں ایسی بہت سی شخصیات گزری ہیں جنھوں نے بچپن انتہائی غربت، کسمپرسی، بے چارگی اور بد حالی میں گزارا لیکن بڑے ہو کر انھوں نے بڑے کام کیے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مودی نے کوئی بڑا کام کیا ہے لیکن یہی کیا کم ہے کہ وہ آر ایس ایس کی گود میں بیٹھ کر ہی ایک ریاست کے تین بار وزیر اعلی بنے اور اب وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مودی کے طرفدار یا حمایتی ہیں۔ کیونکہ مودی کی پالیسیوں اور ان کے پروگراموں اور ان کی شرانگیزیوں کی وجہ سے کوئی بھی انصاف پسند، سیکولر اور امن پسند شخص ان کی حمایت نہیں کر سکتا۔ لیکن نریش اگروال نے جو کچھ کہا ہے ہم اس کی بھی تائید نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بہر حال کسی کو بھی اور خاص طور پر عوامی زندگی میں رہنے والے شخص کو اپنی گفتگو، بول چال اور کردار کے معاملے میں شائستہ اور مہذب ہونا چاہیے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ عوامی زندگی کے لوگ ہی غیر شائستہ ہو گئے ہیں اور الیکشن کا موسم جب بھی قریب آتا ہے ان میں غیر شائستگی عود کر آتی ہے اور ان کا اجڈ پن کھل کر سامنے آجاتا ہے۔
دوسرا بیان امریکی کانگریس کے ذریعے تشکیل کردہ ایک کمیشن کی دو معزز او راعلی خاتون ارکان کی جانب سے آیا ہے۔ انھوں نے گجرات فسادات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی تشدد برپا کرنے والوں کو سزا دلانے میں ’’ہندوستان کی ناکامی کی علامت‘‘ بن گئے ہیں۔ سی این این کے لیے تحریر کردہ ایک خصوصی کالم میں کمیشن کی ارکان کیٹرینہ لینٹوس اسٹیو اور میری این گلینڈن نے گجرات کے ایک سپوت مہاتما گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد اور ان کی انسانیت نوازی کی ستائش کی ہے او رکہا ہے کہ گجرات کے ایک سپوت نے ایک وسیع تر کثیر مذہبی اور روادار معاشرے کے قیام کا خواب دیکھا تھا لیکن ایک دوسرے سپوت کے خواب کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جوں جوں 2014کے انتخاب کا وقت قریب آتا جا رہا ہے دیکھنا ہوگا کہ کس کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاتا ہے اور کس کے خواب کو رد کر دیا جاتا ہے۔ کون سا ہندوستان بنے گا مذہبی رواداری اور تحمل و برداشت والا یا عدم تحمل اور عدم رواداری و عدم برداشت والا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس قسم کے سماج کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ یاد رہے کہ مذکورہ دونوں امریکہ میں مذہبی آزادی سے متعلق ایک کمیشن سے وابستہ ہیں۔ کیٹرینہ لینٹوس کمیشن کی نائب صدر ہیں اور این گلینڈن اس کی کمشنر ہیں۔
سی این این کے مقبول عام پروگرام گلوبل پبلک اسکوائر کے بلاگ پر یہ مضمون شائع ہوا ہے او راس کا عنوان ہے ’’ہندوستان کے دو چہرے‘‘۔ خیال رہے کہ ہند نژاد صحافی اور مصنف فرید زکریا اس پروگرام کے میزبان ہیں۔ مذکورہ دونوں شخصیات نے لکھا ہے نریندرمودی گجرات فسادات کے وقت بھی ریاست کے وزیر اعلی تھے۔ لیکن وہ تشدد برپا کرنے والوں کو سزا نہیں دے سکے۔ گویا وہ قصورواروں کو سزا نہ دلا پانے میں ہندوستان کی ناکامی کی علامت بن گئے ہیں۔ گجرات ہائی کورٹ نے مودی کی ناکامی پر ان کی گوشمالی کی ہے اور انھیں لتاڑا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عدالت نے انھیں حکم دیا کہ وہ تباہ شدہ مذہبی عبادتگاہوں کو معاوضہ دیں۔ 2005میں امریکی وزارت خارجہ نے یو ایس سی آئی آر ایف اور دوسروں کی سفارش پر مودی کا ویزا رد کر دیا۔ اس کالم میں ایس آئی ٹی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے او رلکھا گیا ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی جانے والی ایس آئی ٹی تقریباً 70افراد کے قتل کے ایک معاملے میں مودی اور بعض دوسروں کے خلاف الزامات ثابت نہیں کر پائی لیکن مودی گجرات کے دوسرے معاملات میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی جانچ کی جانی اور فیصلہ سنایا جانا باقی ہے۔ انھوں نے اس کا بھی ذکر کیا ہے کہ ہندوستان کے پچاس سے زائد ممبران پارلیمنٹ نے امریکی حکومت کو مکتوب ارسال کرکے درخواست کی ہے کہ انھیں امریکہ کا ویزا نہ دیا جائے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکہ کے کسی محکمے یا کسی ادارے نے مودی کی سرزنش کی ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی اپنے یہاں ان کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے گزشتہ دنوں ایک اداریہ لکھ کر گجرات فسادات کے حوالے سے ان کی مذمت کی ہے۔ حالانکہ امریکہ ہی میں ایسے بہت سے ہندوستانی ہیں جو مودی کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ جنھوں نے گزشتہ دنوں سیٹلائیٹ کے ذریعے مودی سے تقریر کروائی تھی۔ آر ایس ایس سے وابستہ بہت سے لوگ امریکہ میں مودی کی رسائی کے سلسلے میں کافی کوششیں کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک ان کو کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ ہاں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دو ایک ملکوں کے ذمہ داروں نے جب یہ دیکھا کہ مودی کو وزارت عظمی کا امیدوار بنایا گیا ہے اور میڈیا میں ان کے بارے میں ہوا بھی بنائی جارہی ہے تو وہ اس مصنوعی ہوا سے متاثر ہو گئے اور مودی کے تئیں نرم روی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے یہ سوچ کر کہ ممکن ہے کہ مودی وزیر اعظم بن ہی جائیں ان سے رسم و راہ بڑھانے کا سلسلہ شروع کر دیا لیکن یہ سلسلہ زیادہ تیز نہیں ہو سکا۔ کیونکہ بہر حال پوری دنیا کو معلوم ہے کہ مودی کا سیاسی قد کتنا بڑا ہے۔ کوئی بھی شخص لاشوں پر کھڑے ہو کر یا دوسروں کے کندھوں پر کھڑے ہو کر اپنا قد نہیں بڑھا سکتا۔ وہ تو فطری طور پر ہوتا ہے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ سیاست میں مودی کی کیا حیثیت ہے اور یہ بھی لوگ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے مودی وزیر اعظم کی کرسی تک نہیں پہنچ سکتے۔ اگر بی جے پی حکومت سازی کی پوزیشن میں آ بھی جائے جب بھی وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک متوقع وزیر اعظم کے تعلق سے جو جوش و خروش ملک و بیرون ملک میں ہونا چاہیے وہ کہیں بھی نظر نہیں آتا۔