اداریہ

/کب کیاہوگا؟ انسان کے علم میں نہیں!

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں اور نہ انسان اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ کر سکتا ہے۔ اس کی زندہ مثال مرحوم مفتی محمد سعید کی ہے جو گذشتہ دنوں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم اگر چہ ریاست کے وزیراعلیٰ کے منصب پر ہی تھے کہ اللہ کی مرضی سامنے آگئی اور اُن کو ابدی نیند سلادیا۔ اس بات پر ہرکسی کو یہ یقین کامل ہونا چاہیے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور اس کا مزہ ہر ایک کو چکھنا ہے، چاہیے بادشاہ ہو حکمران ہو یا نوکرہو، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مرحوم مفتی محمد سعید ریاست کے قد آور سیاست دانوں میں منفرد مقام حاصل کرنے والے ہیں، جنہوں نے پانچ دہائیوں تک ریاست کے سیاسی منظرنامے میں اپنی چھاپ چھوڑی۔مفتی محمد سعید کی قیادت میں پی ڈی پی نے 2002ء میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں 16سیٹیں حاصل کر کے کانگریس کے ساتھ اتحاد کر کے ریاست میں پہلی بار سرکار میں اس وقت شمولیت اختیارکی اور جب مفتی محمد سعید وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائض ہوئے توانہوں نے ہیلنگ ٹچ پالیسی اور سیلف رول کو اپنا سیاسی منشور قرار دیتے ہوئے ہمیشہ ریاست میں امن ، خوشحالی ، ترقی اور وقار کو بحال کرنے کے لئے سیاسی جنگ لڑی۔ 2002ء میں ریاست کی سیاست میں وزیراعلیٰ کے طور عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے ریاست کی سیاسی پوزیشن کو بحال کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو سرینگر میں ریلی سے خطاب کرنے پر مدعو کرنے کے مفتی محمد سعید کے اقدام کو ریاست میں امن کی بحالی کی کوششوں کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ہندو ستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی بحالی اور بات چیت میں علیحدگی پسندوں کی نمائندگی میں مفتی محمد سعید کا کلیدی رول رہا۔ اُن کی ریاست میں حکومت سازی میں اہم جز سیلف رول ،ہندوستان اور پاکستان کے مابین تجارت سرفہرست رہے۔مفتی محمد سعید نے ہمیشہ کراس ایل او سی تجارت پر زور دیا تاکہ برصغیر کے سیاسی منظرنامے میں بدلاؤ لایا جاسکے۔ اتنا سب کرنے کے باوجود بھی مفتی محمد سعید کے من میں اور بھی بہت سارے خیالات اور تجاویز ہوں گے جن کو مرحوم پورا نہ کر سکے کیونکہ آگے اللہ کی مرضی ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی ایک کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مفتی محمد سعید فی الوقت انتقال کریں گے اور نہ مرحوم کو خود بھی اس بات کا یقین ہوا ہوگا کہ وہ اتنے جلد خالق حقیقی سے جا ملے گے۔ ان کی اور بہت سارے خواہش ہوں گے جن کو وہ پورا کرنا چاہتے ہوں گے لیکن آگے اللہ کی مرضی ہوتی ہر انسان خواہش تو کر سکتا ہے مگر پائے تکمیل پہنچانا انسان کے بس میں نہیں ،اس لئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں انسان کے علم میں نہیں کہ کب کیا ہوگا؟