نقطہ نظر

کرم چند گاندھی کا قتل

کلدیپ نائر
کسی واقعہ کے بارے میں کوئی عمومی تاثر قائم کرنا اور بات ہے مگر اس واقعے کے بارے میں ٹھوس شہادتوں اور ثبوتوں کا موجود ہونا یکسر بہت مختلف ہے۔ چنانچہ جب کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ آر ایس ایس مہاتما گاندھی کے قتل کی ذمے دار ہے تو وہ دراصل اس عمومی تاثر کا اظہار کر رہے ہیں جو عام طور پر لوگوں میں پایا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی لگا دی تھی تاہم جب اس تنظیم نے لکھ کر دیدیا کہ یہ صرف ایک ثقافتی تنظیم ہے تو انھوں نے پابندی اٹھا لی البتہ وہ تاثر جس طرف راہول نے اشارہ کیا ہے وہ آج بھی قائم ہے۔ بی جے پی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آر ایس ایس کا سیاسی بازو ہے جس نے کہ گاندھی کے قتل کے الزام کی ہمیشہ تردید کی ہے لیکن بی جے پی کے عناصر کے پاس اپنی صفائی میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ثبوت ہے جو الزام لگاتے ہیں۔
کانگریس جو مہاتما گاندھی کے قتل کا الزام لگانے میں سب سے پیش پیش ہے اس نے عوام کے سامنے کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا کہ گاندھی کو کسی سازش کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ کانگریس 50 سال سے زیادہ عرصے تک مرکز میں حکمران رہی ہے تو کیا وہ اتنے طویل عرصے کے دوران انٹیلی جنس رپورٹس کو شایع نہیں کر سکتی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ یہ قتل آر ایس ایس نے کیا اور نہ ہی بی جے پی اپنے اقتدار کے دوران ایسا کر سکی ہے کہ وہ ایسی چیزیں شایع کر دے جس سے اس پر عائد کردہ الزام دھل سکے۔
جو راہول نے کہا ہے وہ دراصل اس تعصب کی نمایندگی کرتا ہے جو کہ آج بھی ملک بھر میں اور بیرون ملک قائم ہے۔ اس موقع پر آر ایس ایس کے عناصر دفاعی پوزیشن اختیار کر گئے اور عام طور پر انھوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی لیکن اس سے اسی تاثر کو تقویت ملی کہ مہاتما کو ناتھورام گوڈسے نامی ایک جنونی ہندو نے ہلاک کیا۔ راقم الحروف اْس زمانے میں ’’انجام‘‘ نامی اردو اخبار میں کام کر رہا تھا۔ ہم سب اپنے آفس میں بیٹھے تھے جب پی ٹی آئی کی ٹیلی پرنٹر مشین کی گھنٹیاں بجنا اور فلیش لائٹ چمکنا شروع ہو گئی۔ ہم ٹیلی پرنٹر کی طرف بھاگے جس پر یہ پیغام آرہا تھا ’’گاندھی کو گولی مار دی گئی‘‘۔ میں کوئی وقت ضایع کیے بغیر اپنے اسکوٹر پر سیدھا برلا ہاؤس پہنچا۔
میرا دفتر جامع مسجد کے قریب تھا اور میں دریا گنج کے علاقے سے اسکوٹر چلاتا ہوا وہاں پہنچا۔ پورا علاقہ خاموش تھا اور انھیں اتنے بڑے المیے کا پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ برلا ہاؤس پر لکڑی کا ایک دروازہ لگا تھا جب کہ کسی آنے جانے والے کو روکنے کے لیے کوئی سیکورٹی نہیں تھی۔ میں سیدھا اس پلیٹ فارم پر گیا جہاں گاندھی جی کی میت سفید کھڈی کے کپڑے میں لپٹی رکھی تھی۔ آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن میرے وہاں پہنچنے کے بعد آئے۔ انھوں نے میت کو سیلوٹ کیا جب کہ وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور وزیر داخلہ سردار پٹیل بھی ان کے پیچھے آرہے تھے اور دونوں پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ اس وقت تک مجمع بھی بڑھنا شروع ہو گیا تھا۔ مہاتما کا قاتل ناتھورام گوڈسے جو موقع سے فرار نہیں ہوا تھا وہ بھی وہاں موجود تھا اور مجھے حیرت ہوئی کہ اسے اپنے فعل پر کوئی ندامت نہیں تھی۔
گاندھی جی کی میت راج پاتھ سے گاڑی پر لیجائی گئی جس پر نہرو اور پٹیل دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ اس علاقے کو آج راج گھاٹ کہا جاتا ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ گاندھی‘ جنہوں نے عمر بھر عدم تشدد کے نئے نظریے کا پرچار کیا ان کا آخری سفر فوجی گاڑی پر طے ہوا جسے مہاتما خود کبھی بھی پسند نہ کرتے۔
راہول گاندھی تو اس وقت پیدا بھی نہ ہوئے تھے البتہ ان کی خوش قسمتی کہ وہ حکمران خاندان میں پیدا ہوئے جس نے قومی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا تھا البتہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ آر ایس ایس ہی اس قتل کے پیچھے تھی۔ گرفتاری کے بعد گوڈسے کو انبالہ جیل میں قید کیا گیا جہاں اس نے جیلر کے نام اپنے خط میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے یہ دلیل دی کہ کانگریس کے لیڈر ملک کو کمزور کر رہے تھے جو کہ پاکستان کا بہ آسانی نشانہ بن سکتا تھا۔ یہ ایک کھوکھلی دلیل ہے جسے اس اعترافی خط کے اخبارات میں شایع ہونے کے بعد عوام نے تسلیم ہی نہ کیا۔ اب تک وقت کی گرد میں بہت سے حقائق دب کر نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں لہٰذا اب وثوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر ناگپور سے اور کون کون اس سازش میں شامل تھا۔
بھارت میں نظریات کی بنیاد پر کیا جانے والا یہ غالباً پہلا جرم تھا۔ البتہ اب حالات کافی بدل چکے ہیں اور ہر معاملے میں سیاست شامل ہو چکی ہے اور ملک میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کی بات کو بغیر رد و کد کے تسلیم کر لیا جائے جب کہ آر ایس ایس اب بھی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے اور گاندھی کے قتل سے انکار کرتی ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ معاملہ اب پارٹی کے ترجمان کے سپرد کر دیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس پہلے ہی اپنے موقف سے دستبردار ہونے کی تیاری کر رہی ہے لیکن اگر واقعی پارٹی ایسا کرتی ہے تو اس کی ساکھ خراب ہو جائے گی اور اس سے بھی زیادہ خود راہول گاندھی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ جائے گا جس کو کہ لوک سبھا کے آیندہ انتخابات میں پارٹی لیڈر کے طور پر نمایاں کیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے سپرد ہے جس پر فیصلہ کرنا خاصا مشکل کام ہے کیونکہ اس کا فیصلہ یا تو کانگریس کے حق میں ہو گا یا آر ایس ایس کے حق میں۔ لیکن یہ دونوں صورتیں سپریم کورٹ کی ساکھ کو متاثر کریں گی۔ جو چیز دکھ دینے والی ہے وہ یہ کہ ملک کی سیکولر طاقتیں اپنی قوت دکھانے میں ناکام رہی ہیں کیونکہ بھارت کو ایک ایسا جمہوری ملک ہونا چاہیے تھا جو فرقہ پرستی کے سختی سے خلاف ہو۔ آزادی کی جدوجہد میں ملک کو اجتماعیت پر مبنی معاشرے کا حامل بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مہاتما گاندھی کو عدم تشدد کا پرچار کرنیوالا کمیونسٹ قرار دیا گیا جب کہ کمیونسٹ انھیں سامراجیت کا حاشیہ بردار قرار دیتے تھے۔ کمیونسٹوں کو بھی اپنی غلطی کی تصحیح کر کے کولکتہ میں اپنے ہیڈ کوارٹرز پر مہاتما کی تصویر آویزاں کر لینی چاہیے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیے بھی میری نصیحت یہی ہے۔
گاندھی پس ماندہ اور کچلے ہوئے لوگوں کے لیے امید کی روشنی تھے۔ انھوں نے قومی جدوجہد کی نمایندگی کی اور انگریزوں سے ملک کو آزادی حاصل کر کے دی۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں پر تمام پارٹیوں کو اتفاق کر لینا چاہیے اور اس امر میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کہ گاندھی جی نے 150 سالہ غیرملکی حکومت کا بستر گول کر دیا۔ جہاں تک راہول گاندھی کے الزامات کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لے لیا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ممکن ہے کہ بہت سے حیرت انگیز انکشافات ہونے لگیں۔ اب چونکہ کانگریس کے نائب صدر نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے تو ہم یہی امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر قائم رہیں گے۔ اب عدالت میں ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گا۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)