سرورق مضمون

کرگل2!کیرن سیکٹرمیں نئی لڑائی پاکستان کا ملوث ہونے سے انکار

کرگل2!کیرن سیکٹرمیں نئی لڑائی پاکستان کا ملوث ہونے سے انکار

ڈیسک رپورٹ
فوج پچھلے بارہ دنوں سے لائن آف کنٹرول کے کیرن سیکٹر میں جنگ لڑ رہی ہے۔اس بات کا انکشاف بدھ وار کو جلدی میں بلائی گئی ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا ۔ بادامی باغ کنٹونمنٹ ایریامیں بلائی گئی اس کانفرنس میں فوج کے ایک سینئر آفیسر نے ان خبروں کی تصدیق کی کہ کیرن سیکٹر میں فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے ۔ تاہم اس نے یہ بات ماننے سے انکار کیا کہ یہاں کو ئی کرگل طرز کی لڑائی ہورہی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ شدید لڑائی تو جاری ہے ۔ البتہ اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے کہ لڑائی میں ملی ٹنٹوں کے علاوہ پاکستانی فوجی شامل ہیں ۔ فوج کی 15ویں کو ر کے کمانڈرلفٹنٹ جنرل گورمیت سنگھ نے تسلیم کیا کہ فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور فوجی جوان سخت مشکلات سے دوچار ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں پائے جانے والے گھنے جنگلات میں فوج کے لئے آگے بڑھنا سخت مشکل ہورہاہے۔ اس بات پرزور دیا گیا کہ فوج کا مقابلہ کچھ تربیت یافتہ لوگوں سے ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک فوج کے پانچ سپاہی زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دوسرے فریق کے نقصان کے بارے میں صحیح جانکاری نہیں ہے ۔
کیرن سیکٹر میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب یہاں تعینات فوج نے کچھ افراد کی نقل و حمل محسوس کی۔ انہیں یہ دیکھ کر بڑی پریشانی ہوئی کہ انہوں نے ایک گاؤں کو اپنے قبضے میں لے کر وہاں پوزیشنیں سنبھالی ہیں۔ اگرچہ فوج نے اس بات سے انکار کیا کہ ان لوگوں نے کسی گاؤں پر قبضہ کیا ہے۔ تاہم یہ بات تسلیم کی ہے کہ فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے ۔ فوج اب تک یہ معلوم نہ کرسکی کہ اس کی مزاحمت کرنے والے جنگجو ہیں یا باضابطہ پاکستانی فوجی ہیں۔ فوج نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ۔ البتہ مان لیا کہ مزاحمت کار بہت ہی تربیت یافتہ ہیں اور لڑائی میں انہوں نے کافی مہارت دکھائی ہے۔شروع میں فوج نے عام انداز کی لڑائی شروع کی تھی ۔ لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ مزاحمت کارکافی تعداد میں موجود ہونے کے علاوہ کافی تربیت یافتہ ہیں۔ اس کے بعد فوج نے جنگی ہیلی کاپٹر اور کچھ دوسرے جدید آلات کا سہارا لیا۔ یہ لڑائی ابھی تک جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں کرگل طرز کی لڑائی شروع ہورہی ہے ۔ کئی لوگ الزام لگارہے ہیں کہ اس جنگ میں پاکستانی فوج کے کچھ تربیت یافتہ کمانڈوز حصہ لے رہے ہیں۔ فوج نے ایسی کو ئی بات ماننے سے انکار کیا ہے۔ فوج کے 15ویں کور کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ اس قسم کی کوئی جنگ نہیں ہے۔ بلکہ یہ بڑے پیمانے پر کی گئی دراندازی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فوج دراندازی کی اس کوشش کے خلاف مصروف ہے ۔ ادھر سابق فوجی سربراہ وی کے سنگھ نے کیرن سیکٹر واقعے کو انٹلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صاف طور ان ایجنسیوں کی ناکامی ظاہر کرتی ہے۔ فوج نے یہ بات ماننے سے بھی انکار کیاہے کہ دراندازوں نے کسی گاؤں پر قبضہ کرلیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرے سے کوئی بستی ہی نہیں ہے ۔ لہٰذا قبضہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ البتہ یہ بات انہوں نے تسلیم کی کہ ہماری فوجوں کو آگے بڑھنے میں مشکلات آرہی ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے گھنے جنگلات کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ لیفٹنٹ جنرل سنگھ کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے بڑے پیمانے پر سرحد پار کرکے اپنی پوزیشنیں سنبھالی ہیں۔ یہ لوگ پانچ پانچ دس دس کی ٹولیوں میں یہاں آئے اور علاقے میں پھیل گئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ بہت ہی تربیت یافتہ لوگ موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کو سخت دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس کاروائی میں پاکستان کے ملوث ہونے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ تربیت یافتہ لوگوں کی موجودگی سے مراد پاکستانی کمانڈوز ہے۔ لیکن دہلی سرکار کی طرف سے اس بارے میں ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ اسلام آباد سے تازہ اطلاع یہ ہے کہ پاکستان نے ایسی کسی بھی اطلاع کو غلط قرار دیا ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرے سے ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے اور یہ محض بھارتی فوج کا پروپگنڈا ہے ۔ وزارت خارجہ سے وابستہ اعزاز چودھری نے اس کو بے بنیاد الزام قرار دیا او ر اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاکستان اپنی سر زمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا ۔ اس طرح انہوں نے اس قسم کے کسی بھی واقعہ میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ملوث ہونے سے انکار کیا ہے ۔
دونوں طرف کے بیانات سے اصل صورتحال سامنے نہیں آرہی ہے ۔ ابھی تک فوجی اطلاعات پر ہی انحصار کیا جارہا ہے اور حقیقی صورتحال سے کوئی واقف نہیں ہے ۔ اس وجہ سے تمام لوگ شک و شبہے کا شکار ہیں ۔