سرورق مضمون

کسان ایجی ٹیشن کڑا رخ اختیار کررہی ہے / کشمیر میں الیکشن کا بخار زوروں پر

سرینگر ٹوڈےڈیسک
دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے الزام لگایا ہے کہ انہیں کسانوں سے ملنے پر پولیس نے گھر میں نظر بند کیا ۔ حکومت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی نظر بند رکھا گیا۔ تاہم نائب وزیراعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہیں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ اس موقعے پر انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی رہائش گاہ کے صدر دروازے پر پہرہ بٹھادیا گیا ۔ لوگوں کو اندر جانے دیا گیا نہ وزیراعلیٰ کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ درجے کے وزیروں کو بھی وزیراعلیٰ سے ملنے نہیں دیا گیا ۔ یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب وزیراعلیٰ کیجریوال نے ان کسانوں کے پاس جاکر ان سے ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار کیا جو پچھلے مہینے سے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ کسان مانگ کررہے ہیں کہ حکومت ان قوانین کو منسوخ کرے جو حال ہی میں بی جے پی سرکار نے بنائے ہیں۔کسانوں کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ ان کا الزام ہے کہ اس سے بڑے بڑے کاروباری شخصیات کو فائدہ ہوگا جبکہ کسان خسارے میں ہونگے۔ تاہم سرکار کا کہنا ہے کہ قوانین کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے گئے۔ کانگریس سربراہ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ قوانین وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کو فائدہ دینے کے لئے بنائے گئے ۔ انہوں نے ایجی ٹیشن کرنے والے کسانوں سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امبانی اور اڈانی کے لئے بنائے گئے ان قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ اس سے پہلے کسانوں نے یک روزہ ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔ ہڑتال کی قریب قریب تمام اپوزیشن پارٹیوں نے حمایت کی۔ بی جے پی کے لیڈر الزام لگارہے کہ کسان ایجی ٹیشن میں زیادہ تر سکھ اور مسلمان حصہ لے رہے ہیں ۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ ایجی ٹیشن پاکستان اور چین کے کہنے پر چلائی جارہی ہے ۔ یہ کسان دہلی کی سرحد پر احتجاج کررہے ہیں ۔ انہیں تاحال دہلی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مرکزی سرکار نے کسانوں کو دعوت دے کر مرکزی وزیرداخلہ سے بات چیت کرنے کو کہا تاکہ رسہ کشی کو دور کیا جاسکے ۔ یہ بات چیت کہا جاتا ہے ناکام رہی ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کسان ایجی ٹیشن کے لیڈر کسی سمجھوتے پر تیار نہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پہلے بنائے گئے قانون منسوخ کرنے کی اجازت دی جائے ۔ پھر وہ بات چیت کرنے کو تیار ہونگے ۔ اس دوران اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کو کسان ایجی ٹیشن کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ کسان تحریک کے لیڈروں نے دھمکی دی ہے کہ حکومت قوانین منسوخ کرنے کا اعلان کرے تو دس دسمبر کے بعد کسی بھی وقت ریل روکو نعرے کا اعلان کیا جائے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ کسان ریل روکواپنے اعلان کو کامیاب بنانے کے لئے کسی بھی حد کو جائیں گے ۔ کسان ایجی ٹیشن نے پورے ملک میں تشویش کی لہر پیدا کی ہے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے ان کی آمدنی پر منفی اثرات پڑیں گے اور وہ ان قوانین کو ختم کرکے ہی رہیں گے۔ مرکزی سرکار تاحال اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور کسانوں کے مطالبات ماننے سے انکار کررہی ہے ۔
جموں کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے پانچ مرحلے مکمل ہوچکے ہیں ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انتخابات بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ان انتخابات کے دوران کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔ اس سے پہلے کشمیر میں جو بھی انتخابات ہوئے خون خرابے کا باعث بنے ۔ اس کے برعکس آج کے انتخابات بہت حد تک پر امن رہے ۔ پتھر چلانے کے اکا دکا واقعات پیش آنے کے سوا کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا ۔ جنوبی کشمیر کے کوکرناگ علاقے میں انتخابات میں حصہ لینے والے ایک امیدوار پر گولی چلاکر اسے زخمی کیا گیا ۔ اس کے علاوہ جمعہ کے روز پلوامہ کے ایک گائوں میں ایک نوجوان کو گولی کا نشانہ بناکر زخمی کیا گیا ۔ پلوامہ میں ووٹ ڈالنے کی شرح باقی علاقوں کی نسبت بہت کم رہی ۔ یہاں ووٹ ڈالنے کی شرح دو فیصد سے دس فیصد تک رہی ۔ اس کے علاوہ درجنوں پولنگ بوتھوں پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا ۔ تاہم کئی علاقوں میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مجموعی ووٹنگ شرح پچاس فیصد کے قریب رہی ۔ شمالی کشمیر میں کچھ امیدواروں نے جلسے جلوس کئے ۔ البتہ بیشتر حلقوں میں گھرگھر جاکر امیدواروں نے لوگوں سے ووٹ ڈالنے کی گزارش کی ۔ جموں کشمیر میں پہلی بار ڈی ڈی سی انتخابات ہورہے ہیں ۔ یہ انتخابات بلاک لیول پر ہورہے ہیں ۔ انتخابات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن اور بی جے پی کا براہ راست مقابلہ ہے ۔ تاہم کئی حلقوں پر اپنی پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے بھی اپنے امیدوار اتارے ہیں ۔ عدالت کی طرف سے ایکزٹ پول پر پابندی کی وجہ سے جیتنے والے امیدواروں کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ پیپلز الائنس کا دعویٰ ہے کہ جیت اسی کی ہوگی ۔ ادھر بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں اسے لوگوں کی بہت زیادہ حمایت مل رہی ہے ۔ سرکاری طور نتائج ظاہر ہونے تک مخمصہ جاری ہے ۔ تاہم الیکشن کا پر امن انعقاد حکومت کی بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے ۔