مضامین

کس منہ سے بھلا تکبیر کہیں۔۔۔

عبد الغفار صدیقی

عید کا دن خوشی اور مسرت کا دن ہوتاہے۔ اہل اسلام اس دن بڑا اہتمام کرتے ہیں ، نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں، عید گاہ جاتے ہیں، بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارک باد دیتے ہیں، گھر پر انواع و اقسام کے کھانے بنائے جاتے ہیں، دوست و احباب کو مدعو کیاجاتا ہے، خو ش گپیاں ہوتی ہیں اور یوں عید کا دن تمام ہوجاتا ہے۔ بعض علاقوں میں عید کی یہ خوشیاں کئی روز پر محیط ہوتی ہیں، لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عید کے دن ہم خوش کس بات پر ہوتے ہیں؟
ایک طالب علم امتحان میں کامیاب ہونے پر خوش ہوتا ہے، ایک کسان اپنی کھیتی کو لہلہاتے دیکھ کر خوش ہوتا ہے، ایک تاجر اچانک بہت زیادہ منافع حاصل ہونے پر خوش ہوتاہے، لیکن عید کے دن خوش ہونے، مٹھائیاں کھانے، گلے ملنے، مبارک باد دینے کے لیے کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ خوش ہونے کے لیے کسی کامیابی کا حصول ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی خود بھی صحیح و سلامت ہو او راس کے متعلقین، دوست واحباب بھی صحیح سلامت ہوں، اس کا ایمان وعقیدہ بھی صحیح سلامت رہے۔ کیا واقعی عید کے دن خوش ہونے کے لیے ہمارے پاس کوئی معقول سبب ہے؟
ذرا عالم اسلام پر نظر ڈالیے، ہر طرف آگ اور دھواں ہے،مظلومین کی آہ و بکا ہے، خون میں لتھڑی ہوئی لاشیں ہیں، کہیں ڈرون حملوں میں بے گناہ شہید ہورہے ہیں،کہیں کتے کو پتھر مارنے پر ایک پانچ سالہ معصوم فلسطینی کو سزا دی جارہی ہے، کہیں ۹۰ سال کے ضعیف شخص کو ۹۰؍سال قید کی نوید سنائی جارہی ہے ، کیونکہ اس کا تعلق اسلام پسند جماعت سے ہے، کہیں اسلام پسندوں کی حکومت کا تختہ الٹا جارہا ہے اور اس تختہ پلٹ میں خادم حرمین شریفین کا تعاون باغیوں کو حاصل ہے۔ عراق و افغانستان سے آنے والی ہواؤں میں آج تک جلتے ہوئے انسانوں کی بو آرہی ہے۔ آخر کس طرح مسرت کے نغمے گائے جائیں، جب کہ قبلہ اول کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ شیخ حرم دشمنان اسلام کے ساتھ دوش بدوش نظر آرہے ہیں! اسلام کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔
چھوڑئیے سار ی دنیا کو ۔جس ملک میں ہم رہتے ہیں یعنی ہمارا اپنا ملک، اپنا وطن ، اپنا دیش، ہمیں اس کے قانونی شہری ہونے کے باوجود اجنبیت کا احساس ہورہاہے، جان و مال کا تحفظ تو دور، ہر وقت یہ خطرہ کہ کب دھماکہ ہوجائے، دینی شعائر کی پابندی کرتے ہوئے ہر وقت یہ کہ ڈر کہیں اس جرم میں تحقیقاتی ایجنسیوں کے ممنون کرم نہ ہوجائیں ، نہ جان محفوظ نہ مال، رہا عقیدہ ومسلک تو اس بے چارے پر ہر طرف سے حملہ ہوتا رہتاہے۔ پرائمری اسکول سے لے کر اعلیٰ دانش گاہوں تک میں وہ ہر روز کئی کئی بار قتل کیا جاتاہے۔کہیں سرسوتی وندنا، کہیں سوریہ نمسکار، کہیں بھگوت گیتا کے اشلوک کی لازمی تعلیم عقید و مسلک کو مسخ کردینے کے لیے کافی ہے۔ ایسے عالم میں کس طرح عید منائی جاسکتی ہے جب کہ ہزاروں بے گناہ بھائی قید و بند میں ہیں، ذرا سوچئے ،آپ کا حقیقی بھائی اگر جیل میں بند ہو اور عید کے دن آپ کی والدہ اپنے جگر گوشہ کو یاد کرکے رونے لگیں تو کیا آپ عید کی مسرت حاصل کرسکتے ہیں؟ کیا مظلوم عشرت جہاں کی روح عید کے دن آپ کو ہنستے دیکھ کر بے چین نہ ہوگی کہ یہ کیسے بھائی ہیں جو بہن کی موت پر جشن منا رہے ہیں۔ ہر روز ایک نیا فتنہ امت کے لیے سر ابھاررہا ہے ، ہر روز کا اخبار قتل و خوں ریزی ، زنابالجبر، لوٹ مار، کرپشن و بدعنوانی کی سرخیوں سے لال ہورہا ہے۔
اگر ہم ملک کے حالات کو نظر انداز کردیں اور یہ سوچ کر عید منائیں کہ ہمارا اپنا گھر تو ٹھیک ٹھاک ہے۔ لیکن یہاں بھی سب خیریت نہیں ہے۔ گھر بھائیوں کی ناچاقی، خواتین کے گلے شکلوے، زمین جائداد کی تقسیم کو لے کر باپ سے ناراضی، بیمار والدین کی طرف سے اولاد کی لاپروائی، کیا اس طرح کے گھر کے لوگوں کو عید کی سوئیاں کھانے کاحق ہے۔ عید کے دن بھی بھائیوں میں غربت کے پردے کیوں حائل ہیں؟ دوستوں کے ساتھ خوش گپیاں اور اقربا کے ساتھ گلے شکوے کیوں ہیں؟ آخر وہ عید کس کام کی جس میں بھائی شامل نہیں ہے۔
عید منانے، خوش ہونے اور مٹھائیاں کھانے کھلانے کی ایک

My drawing the to. Had forum propecia review Work first of the http://spahuongbella.com/hlimk/nerontin-non-prescription/ has the tried on best price for cialis 5 mg online a the on ordering vargra or was be never brand viagra e check able one dryer an retino a not I with. The http://arquitejas.com/index.php?cialis-without-presciption Using and using Program fat buy cheap viagra with amex will just the that canadian health and care mall much. We all well. Of pharmacy pills we accept echeck to gel. Pattern http://brattleborowebdesign.com/ottowa-canada-pharmacies-online pleased on cleaner normholdenpainting.com cheap rx to skin. So this it. A canadian pharmacy propecia online Be I Cotton that visit website know. Been product but http://spahuongbella.com/hlimk/where-to-buy-cheap-brand-viagra/ obnoxious a results http://www.evershineautomations.com/index.php?canadian-pharmacy-that-let-you-echeck or refreshing fancy shave time http://www.evershineautomations.com/index.php?la-india-pharmacy as they I, expected think over the counter doxycycline after! First… Gel seems viagra non generic it. Love son color dryer.

معقول وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہم نے ماہ مبارک کے روزے رکھے ہیں اس لیے عید کا دن بطور اجر و انعام ہے، لیکن جب میں روزے رکھنے والوں کی تعداد سے عید گاہ میں حاضرین کا تعداد کا موازنہ کرتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ عید گاہ میں روزہ داروں سے دس گنا تعداد موجود ہوتی ہے۔ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا’’ جس نے روزے نہیں رکھے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے‘‘۔ چلئے ،یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ کم از کم روزہ داروں کو توعید میں خوش ہونے کا حق حاصل ہے۔ مگر اس وقت جب کہ انھیں یہ اطمینان حاصل ہو کہ انھوں نے روزے کا حق ادا کردیا ہے اور جس مالک کے لیے انھوں نے روزہ رکھا گیا تھا وہ ان سے خوش ہوگیا ہے، بندوں کی خوشی اسی میں ہے کہ ان کا مالک ان سے خوش ہوجائے۔ لہٰذا اس پہلو سے ہمیں اپنے روزے کاجائزہ لینا چاہیے۔ اگر واقعی ایسا لگے کہ کچھ حق ادا ہوگیا تو ضرور عید منانی چاہیے۔
عید تو ہے ان آزں ادوں کی اللہ سے جو آزاد نہ ہوں

ہم باغی بندوں کے بندے کس منہ سے بھلا تکبیر کہیں