اداریہ

کس کا ہوگا پلڑا بھاری

ریاست جموں وکشمیر میں پارلیمانی انتخابات کیا ہوئے سبھوں کے نظروں میں عیاں ہے۔ریاست کی پارلیمانی چھ نشستوں کی اگر بات کی جائے تو سبھی پارلیمانی حلقوں میں پولنگ اب اختتام کو بھی پہنچا ہے اور رواں مہینے کے 16 تاریخ کو ملک کی سبھی نشستوں کے ساتھ ساتھ ریاست کے چھ سیٹوں کے نتائج بھی سامنے آنے والے ہیں۔ 16 تاریخ کو اب یہ دیکھنا ہے کہ ریاست میں پلڑا کس پارٹی کا بھاری ہوگا اور کون پارٹی آگے جانے والی ہے ۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو جموں صوبے کے مقابلے میں کشمیر صوبے میں پولنگ کی شرح بہت کم رہی ہے۔ پولنگ کی شرح کم رہے یا زیادہ البتہ کامیاب امیدواروں کے حق میں فیصلہ ہو ہی جاتا ہے یعنی جیتنے والا جیت جاتا ہے۔ چاہیے وہ لاکھ سے ، ہزار سے یا ایک ووٹ سے جیتے اس سے یہاں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
ریاست میں اگر چہ تین بڑی پارٹیاں تقریبا ہر ایک کے ذہن میں درج ہیں ان میں نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی شامل ہے۔اگر چہ ان تینوں پارٹیوں میں پی ڈی پی کی ساکھ خاص کر وادی کشمیر میں کچھ حد تک دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں بہتر ہے تاہم کانگریس پارٹی بھی نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے ساتھ بار بار اقتدار میں رہنے سے دن بہ دن مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے ۔
رواں لوک سبھا انتخابات کیلئے ریاست میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے اگر چہ مشترکہ امیدوار میدان میں اتارے ہیں تاہم کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بار نیشنل کانفرنس امیدوار کے حق میں کئی جگہوں پر خالص نیشنلی ورکروں نے ہی ساتھ دیا جبکہ کانگریس ورکروں نے پی ڈی پی کے امیدواروں کو ہی مضبوط کرنے کو ترجیح دی۔ حقیقت بھی ہے یہ کہ پردیش کانگریس کے کئی لیڈر نیشنل کانفرنس کے مقابلے میں پی ڈی پی کو اعتماد دینے کے حق میں ہیں تاہم ان پر مرکز سے دباؤ بنا ہوا ہے کہ وہ نیشنل کانفرنس کی سربراہی والی حکومت کا بھر پور ساتھ دیں تاکہ اگر ریاست کے چھ نشستوں پر مخلوط اتحاد کے مشترکہ امیدوار کامیاب ہوئے تو مرکز میں کانگریس کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے۔اس کے برعکس بھی اننت ناگ اور بارہمولہ نشستوں میں کئی جگہوں پر اس بات کا اعتراف ہوا ہے کہ کانگریس ووٹروں نے پی ڈی پی کے حق میں ووٹ دیا ہے جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ کانگریس کے کئی لیڈر پی ڈی پی کے ساتھ اقتدار میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اب جبکہ چناؤ نتائج آنے میں چند دن ہی باقی ہے البتہ عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ وادی میں پی ڈی پی میدان مار رہا ہے، عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ وادی میں کم از کم پی ڈی پی دو نشستوں پر قابض ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ ایک رائے ہے البتہ حتمی نتائج 16 تاریخ کو ہی سامنے آئیں گے۔