سرورق مضمون

کشتواڑ فسادات : فسادات بجرنگ دل نے کروائے /حکومت: فسادات کی ذمہ دار ولیج ڈیفنس کمیٹیاں ہیں/عوام

ڈیسک رپورٹ
حالات میں تھوڑی بہت بہتری آتے ہی جموں کے کئی علاقوں سے کرفیو ہٹایا گیا جبکہ فساد زدہ کشتواڑ میں بھی جمعہ کے روز کرفیو میں نرمی کی گئی ۔ اس سے پہلے پولیس کے سربراہ اشوک پرساد نے کہا تھاکہ کرفیو اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک حالات بہتر نہیں ہوتے ہیں۔ کشتواڑ میں سات روز تک کرفیو جاری رہنے کے بعد لوگ سخت مشکلات سے دوچار ہیں ۔اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کشتواڑ اور اس کے آس پا س کے علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور فرقہ پرست امن و امان قائم کرنے نہیں دیتے ہیں ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہاں ہندو انتہا پسند تنظیم بجرنگ دل حالات کو خراب کرنے کی ذمہ دار ہے ۔ جبکہ اپوزیشن الزام لگارہی ہے کہ علاقے میں دہشت گردی کے خلاف قائم کی گئیں ولیج ڈیفنس کمیٹیاں ان فسادات کو بھڑکانے میں اہم رول ادا کررہی ہیں ۔ مقامی لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ یہی کمیٹیاں حالات کو خراب کر رہی ہیں اور حالیہ ہلاکتوں کے موقعہ پربھی انہی لوگوں نے گولیاں چلائیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہت پہلے سے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ یہاں کسی بھی وقت فسادات بھڑک سکتے ہیں لیکن اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی ۔ اب حالات نے خطرناک رخ اختیار کیا تو سرکار حرکت میں آگئی اور ضلع کے ڈپٹی کمشنراور پولیس سربراہ کو تبدیل کیا گیا ۔ لیکن اس وقت تک حالات قابو سے باہر ہوگئے تھے ۔ فسادات جموں تک پہنچ گئے جہاں آٹھ ضلعوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ۔ اس کے باوجود ہجوم نے کئی مکانوں ، دکانوں اور گاڑیوں میں آگ لگاکر سخت مالی نقصان کیا۔جب حالات قابو میں نہ آئے تو ریاست کے امور داخلہ کے وزیر مملکت سجاد احمد کچلو نے اپنا استعفیٰ پیش کیا جو وزیراعلیٰ نے سفارشی خط کے ساتھ گورنر کو بھیج دیا ۔ گورنر نے استعفیٰ منظور کیا اور کچلو کی وزارتی کونسل سے چھٹی کردی گئی۔
کشتواڑ میں فسادات 9اگست کو عید کے روز اس وقت شروع ہوگئے جب بعض شرپسندوں نے عید نماز ادا کرنے والے لوگوں کو اشتعال دے کر ان پر پتھرائو کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ آس پاس کی پہاڑی علاقوں سے عید نماز اداکرنے کے لئے جب لوگ کشتواڑ عید گاہ کی طرف آرہے تھے تو وہ تکبیر کہتے ہوئے آرہے تھے ۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگ آزادی اور علاحدگی پسندی کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔ لوگ جلسے کی صورت میں ایک زیارت گاہ سے عید گاہ کی طرف جارہے تھے کہ اسی دوران دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان سیکوٹر پر سوار ہوکر آئے اور لوگوں کی بھیڑ میں سے گزرنے کی کوشش کی ۔ اس پر وہاں موجود لوگ سخت مشتعل ہوگئے اور انہوں نے سیکوٹر سواروں کو زبردستی روکنے کی کوشش کی۔ کئی لوگ الزام لگارہے ہیں کہ سیکوٹر سواروں کو زدوکوب کیا گیا ۔حالات نے اس وجہ سے خطرناک رخ اختیار کیا اور وہاں موجود ایک سیاسی کارکن کے محافظوں نے لوگوں پر گولیاں چلائیں ۔ گولہ باری کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہوگئے ۔ اسی طرح ایک بشیرنامی ایک سرکاری ملازم کو زندہ جلایا گیا جبکہ فساد کے دوران دو اور لوگ بھی مارے گئے ۔ کشتواڑ کے نزدیکی گائوں پاڈر میں ولیج ڈیفنس کمیٹی کے مسلحہ افراد نے بلا اشتعال گولیاں چلاکر کئی لوگوں کو زخمی کیا۔ اسطرح سے حالات کشیدہ ہوگئے۔ ادھر جموں میں ہندو انتہا پسندوں نے کشتواڑ مسئلے کو لے کر سخت تنائو پیدا کیا اور ہڑبونگ مچائی۔ اس وجہ سے جموں کے آٹھ ضلعوں میں کئی روز تک کرفیو نافذ کیا گیا ۔ جموں سرینگر شاہراہ کو بند کیا گیااور خوف کی وجہ سے ٹریفک معطل کیا گیا۔ یہاں بی جے پی کارکنوں نے مبینہ طور کشمیر سے جانے والی میوہ ٹرکوںپر پتھرائو کیا اور چار سے زائد گاڑیوں کو آگ لگادی۔ بی جے پی نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے دہلی سے اشوک جیٹلی کو کشتواڑ روانہ کیا لیکن ریاستی حکومت نے اس کو وہاں جانے نہیں دیا ۔ غلام نبی آزاد نے بھی کشتواڑ آنے کی اجازت مانگی لیکن حکومت نے اس کو وہاں نہ جانے کا مشورہ دیا ۔ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محبوبہ مفتی نے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کی کوشش کی تو اس کو گھر میں نظر بند کیا گیا ۔ اسی طرح حکومت نے فوری طور انٹر نیٹ سروس بند کی اور لوگوں کو حالات کی ہوا تک لگنے نہ دی ۔ انٹر نیٹ سروس 15اگست کی شام کو بحال کی گئی جبکہ اس روز دوپہر تک فون سہولیات بھی معطل رکھی گئیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشتواڑ میں حالات بدل رہے ہیں ۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ سات روز کے مسلسل کرفیو کے بعد کرفیو میں نرمی کی گئی ہے ۔ اس دوران یہ بات شدت سے دہرائی جارہی ہے کہ علاقے میں ڈیفنس کمیٹیوں کی موجودگی میں حالات کسی بھی وقت خطر ناک رخ اختیار کرسکتے ہیں ۔ حکومت نے ان کمیٹیوں کو غیر مسلح کرنے کا عوامی مطالبہ پہلے ہی مسترد کیا ہے اور ان کمیٹیوں کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت ضروری قرار دیا ہے۔ ان کمیٹیوں میں بھرتی کئے گئے افراد چونکہ ایک ہی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور بہت سے جرائم کا پہلے ہی ارتکاب کرچکے ہیں لہٰذا لوگ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ یہ کسی بھی حال میں امن قائم ہونے نہیں دیں گے۔ لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ مقامی انتظامیہ ان کے جرائم اور فرقہ واریت سے پوری طرح سے باخبر ہونے کے باوجود ان کے خلاف کو ئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے ۔ ایسی صورتحال کے اندر یہاں فرقہ وارانہ فسادات کا خطرہ ہر وقت موجود ہے ۔ اگر اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو حالات کو بہتر بنانا ممکن نہیں ہے