نقطہ نظر

کشمیر، بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی

کلدیپ نائر

کشمیر اتنا بدل گیا ہے کہ اب پہچانا ہی نہیں جاتا۔ پانچ سال سے بھی کم عرصے میں، جب کہ میں نے گزشتہ مرتبہ سرینگر کا وزٹ کیا تھا‘ وادی نمایاں طور پر بھارت دشمن بن چکی ہے۔
اگرچہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پاکستان نواز ہوگئی ہے گو کہ سرینگر کے اندرونی علاقوں میں سبز پرچم لہراتے نظر آتے ہیں لیکن اس کا اصل مطلب ہے کشمیریوں کی بیگانگی جو پہلے بھی نمایاں تھی لیکن اب یہ برگشتگی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ البتہ اس کے ڈل جھیل اور اس کے حسین کناروں جیسے تفریحی مقامات ویسے ہی حسب معمول ہیں جیسے کہ یہ ہوتے تھے۔
سیاح ائر پورٹ سے ڈرائیو کرتے ہوئے سیدھے یہیں آتے ہیں اور ان کو یہ حقیقت یاد نہیں رہتی کہ سری نگر کے داخلی علاقوں میں اب بھی عسکریت پسند نوجوان دستی بموں کو اچھالتے پھرتے ہیں۔ میں اس وقت سری نگر میں تھا جب تشدد کے واقعات شروع ہو گئے اور شہر کے اندرونی علاقے میں بعض دستی بم بھی پھینکے گئے۔ میں کشمیری صحافیوں کی ایک تنظیم کی دعوت پر سری نگر گیا تھا۔ دہلی کے چند دیگر صحافی بھی میرے ساتھ تھے۔
مجھے حیرت ہوئی کہ جموں کا کوئی صحافی بھی وہاں موجود نہیں تھا، بے شک انھیں بلایا ہی نہیں گیا تھا۔ کشمیریوں کا احتجاج کم و بیش پْر امن تھا جس میں اسلامی رنگ دیکھا جا سکتا تھا لیکن لگتا تھا کہ یہ ان کے اظہار کا ایک انداز ہے گو کہ بانفس اس سے وہ مراد نہیں تھی۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ کشمیری اپنا ایک علیحدہ ملک چاہتے ہیں۔ بھارت میں زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کا نعرہ محض ایک جھانسا ہے جب کہ کشمیریوں کا اصل مقصد پاکستان کے ساتھ شامل ہونا ہے۔
لیکن مجھے اس موقف سے اتفاق نہیں۔ آزادی کشمیر کا تصور مجھے تو خواب و خیال ہی لگتا ہے جس نے کشمیریوں کو ان کے قدموں سے اکھاڑ رکھا ہے۔ اگر بالفرض محال یہ خواب ایک حقیقت بن بھی گیا، جو کہ بظاہر نا ممکن نظر آتا ہے، تب پاکستان سے الحاق کے زبردست حامی بھی اپنے ایجنڈے سے دستبردار ہو جائیں گے اور کشمیر کی مکمل آزادی مانگنے والوں کے ساتھ مل جائیں گے۔
حالات کا تسلسل مجھے قائد اعظم محمد علی جناح کی سوچ یاد دلاتا ہے۔ انھوں نے پاکستان کا مطالبہ اس غرض سے کیا تھا تا کہ اس ملک میں جہاں پر ہندوؤں کی بڑی واضح اکثریت تھی مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کی جا سکیں۔ لیکن جب انھوں نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کر ہی دیا گو کہ شروع شروع میں وہ قدرے متذبذب تھے لیکن بالآخر وہ پاکستان کے واحد ترجمان کا درجہ اختیار کر گئے۔
لہٰذا کشمیریوں کی اصل تمنا کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ جب میں نے اپنی تقریر میں یہ کہا کہ اگر کشمیریوں کا مطالبہ من و عن تسلیم کر لیا جاتا ہے تو اس سے بھارت میں رہنے والے مسلمان سخت دباؤ کا شکار ہو جائیں گے۔ بھارتی ہندو یہ موقف اختیار کریں گے کہ اگر کشمیری مسلمان 70 سال تک بھارت کے ساتھ رہنے کے باوجود آزادی مانگ رہے ہیں تو بھارت میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کی وفاداری کی کیا ضمانت دی جا سکتی ہے؟
جس کانفرنس میں یہ تقاریر ہو رہی تھیں اس میں جب یہ کہا گیا کہ اگر کشمیر علیحدہ ملک بن بھی گیا جہاں پر 98فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے تب بھی بھارت سیکولر ازم کے نظریے کو ترک نہیں کرے گا۔
لیکن اس موقف کو کانفرنس میں قبول نہیں کیا گیا۔ زیادہ تر کشمیریوں کا جواب یہ تھا کہ ’’بھارت کے مسلمان بھارت کا مسئلہ ہے جس کا کشمیری مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔مجھے یاد ہے کہ جب قیام پاکستان کے بعد میں نے ان کے وزیر خارجہ عبدالستار سے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد پاکستانی مسلمانوں کی تعداد سے زیادہ ہے جنھیں قیام پاکستان کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے تو انھوں نے کہا تھا کہ انھیں اسلامی ملک پاکستان کے قیام کے لیے یہ قربانیاں تو دینا ہی پڑیں گی۔ کشمیر میں مجھے رواداری کے وہ مناظر کہیں نظر نہیں آئے جو کہ قبل ازیں اس ریاست کا خاصا تھے اور چند سال پہلے تک کماحقہ موجود تھے۔ اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں سماجی تعلقات بھی بڑی حد تک منقطع ہو چکے ہیں۔
مجھے افسوس ہے کہ یہاں مجھے ذاتی مثال دینا پڑرہی ہے۔ ماضی میں یاسین ملک مجھے اپنے گھر پر رات کے کھانے کے لیے مدعو کیا کرتے تھے اور خود مجھے آ کر اپنے گھر لے جایا کرتے تھے۔ یہ درست ہے کہ یاسین ملک پر علیحدگی پسند ہونے کا لیبل لگ چکا ہے لیکن اس کے باوجود میں ان کا انتظار کرتا رہا جو کہ بے سود ثابت ہوا۔
مجھے یہ یقین نہیں کہ یاسین ملک کو میری سری نگر میں موجودگی کا علم نہیں تھا۔ وہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں جنھوں نے سری نگر ایئر پورٹ پر اپنے آدمی متعین کر رکھے ہیں جو انھیں بتاتے ہیں کہ بھارت سے کون کون آیا ہے۔ اس سے انھیں اپنی علیحدگی پسندی کی ’فیڈ بیک‘ حاصل ہوتی ہے۔
میں نے یاسین ملک کی تامرگ بھوک ہڑتال اس شرط پر ذاتی طور پر ختم کرائی کہ میں کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی از خود تحقیقات کراؤں گا۔ انھوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بجائے میری پیش کش قبول کر لی۔ ہم نے ایک رپورٹ تیار کی جس میں ثابت ہوا کہ یاسین ملک کے الزامات زیادہ تر درست تھے۔ اس رپورٹ کی پاکستان میں بڑے وسیع پیمانے پر اشاعت ہوئی جس سے کہ بھارتی حکومت کو بہت خجالت ہوئی۔یہ سچ ہے کہ یاسین ملک کہتے ہیں کہ وہ بھارتی شہری نہیں ہیں لیکن ہمارے تعلقات قومیت کی بنیاد پر نہیں تھے۔
کیا یہ تلخی ذاتی مراسم کو بھی ختم کر دے گی؟ کیا میں یہ یقین کر لوں کہ بہت سی باتوں کے بارے میں میرا اندازہ غلط ثابت ہوتا ہے اور یہ کہ سیاسی اتار چڑھاؤ کے آگے ذاتی تعلقات کی کوئی حیثیت نہیں؟ اس حقیقت کا احساس مجھے کشمیر میں آ کر ہوا۔ اس حوالے سے ایک اور ذاتی مثال یہ ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے کس طرح شخصی تعلقات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جیسے کہ شبیر شاہ آج ایک یکسر بدلا ہوا شخص ہے۔ ایک وقت تھا کہ وہ خود کو میرا چیلا کہا کرتا تھا۔
تب وہ بھارت نواز تھا۔ اب وہ بھارت کا بڑی شدت سے مخالف ہو چکا ہے لیکن مجھے پھر بھی یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر ذاتی تعلقات کس طرح ختم ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو مجھے شبیر شاہ کے خیالات کی تبدیلی پر ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ کشمیر بلاشبہ توجہ کا طلب گار ہے بالخصوص ان کے لیے جو لوگ سیکولر جمہوری بھارت پر یقین رکھتے ہیں ان کی جتنی مرضی مخالفت کی جائے انھیں اپنا اصول ترک نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر وہ بھی تبدیل ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کا پہلا نظریہ باطل تھا۔ یہ پورے بھارت کے لیے بڑی اچھی بات ہے۔
مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو نے‘ جنھوں نے کہ ہمیں آزادی لے کر دی ان کا یہی نظریہ تھا۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ بعض آوازیں نتھورام گوڈسے کے حق میں بھی بلند ہونے لگی ہیں جس نے کہ مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔ اگر بھارت اس نظریے پر چل پڑا تو مسلمانوں کی اکثریت والی ریاست کشمیر غیر محفوظ ہو جائے گی۔ ایک کشمیری مسلمان انجینئر جس نے کہ اپنی گاڑی میں مجھے ایئر پورٹ پہنچایا‘ اس کا کہنا تھا کہ اسے بنگلور جیسی آزاد خیال ریاست میں بھی شک کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے اسے خواہ مخواہ ہراساں کیا۔ سیاسی جماعتوں نے سیاست کو ذات پات اور مذہب تک محدود کر دیا ہے۔عوام کو آزاد خیالی پر زور دینا چاہیے اور مذہب اور ذات پات کے زہریلے اثرات کے پھیلنے کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ اگر قوم اس مقصد میں ناکام ہو گئی تو نہ صرف کشمیر بلکہ بھارت کے کئی اور علاقے بھی انتشار کی دلدل میں جا گریں گے۔ ہمارا ملک ایک کڑے امتحان سے دو چار ہے۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)