سرورق مضمون

کشمیرپھرسیلاب کی زدمیں،بہت سے علاقے زیر آب / بڈگام میں قیامت صغریٰ / حکومت متحرک ، اپوزیشن نالاں ،عوام پریشان

ڈیسک رپورٹ
پورے کشمیر میں ایک بار پھر سیلاب کا خوف پایا جاتا ہے۔ کئی دن کی لگاتار بارش کے بعد دریاؤں ، جھیلوں اور ندی نالو ں میں پانی کی سطح بہت اونچی ہوگئی ہے۔ سنگم اور رام منشی باغ میں پانی خطرے کے نشان کے اوپربہہ رہاہے۔ اس سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ تاہم یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ حکومت نے لوگوں کوبے یار ومددگارنہیں چھوڑا۔ سیلاب کی سطح بڑھنے کے فوراََ بعد جموں سے وزرا کی ایک ٹیم سرینگر پہنچ گئی اور حالات کا جائزہ لیا۔ انہو ں نے وزیراعلیٰ کو یہاں کی تشویشناک صورتحال سے باخبر کیا ۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ اور کچھ دوسرے وزرا بھی وادی پہنچ گئے۔ دوسری طرف دہلی سے مرکزی حکومت نے حالات کا جائزہ لینے کے لئے بی جے پی کے سینئر لیڈرمختار عباس نقوی کو سرینگر روانہ کیا ۔ نقوی نے واپس دہلی جاکر وزیراعظم کے سامنے صورتحال کی رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد مرکزی سرکار نے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعلیٰ نے سرینگر میں کئی علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے لوگ کی ڈھارس بندھانے کے لئے لالچوک اور راج باغ جاکر لوگو ں کو دلاسہ دیا ۔ اگلے روز آپ نے درگاہ حضرت بل جاکر وہاں دعا کی اور لوگوں کو اس مشکل مرحلے پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کی اپیل کی ۔ سیلاب کی یہ صورتحال ایک ہفتے تک سخت بارش ہونے کی وجہ سے پیدا ہوگئی۔ بارش وقفے وقفے سے ہوتے رہی اس وجہ سے پانی کی سطح گھٹتی بڑھتی رہی۔ اس کے باوجود لوگوں میں سخت تشویش دیکھی گئی ۔ پچھلے سال کے ستمبر کے دوران جس قہرآلود سیلاب سے دوچار ہونا پڑا اس وجہ سے لوگ سخت خوف و ہراس کے شکار ہیں ۔لوگوں نے پیشگی بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا۔ حکومت نے شہر میں کئی پمپ چالو کرکے شہری علاقوں سے پانی نکالنے کی سخت کوشش کی۔ اس سے لوگوں کو کافی حد تک اطمینان ملا ۔ لیکن مسلسل بارش نے ان کے اندر خوف اور تشویش پیدا کی۔ وزیراعلیٰ نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوری طور 35 کروڑ روپے واگزار کئے اور حکومتی مشنری کو متحرک کیا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے حکومت پر تساہل سے کام لینے کا الزام لگایا اور اس کی کاروائیوں کو ناتسلی بخش قرار دیا ۔ اس مسئلے کو لے کر اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں نیشنل کانفرنس کے ممبروں نے سخت ہنگامے کے بعد واک آوٹ کیا۔ صورتحال تاحال سخت تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ سیلاب کے حوالے سے سب سے سنگین حادثہ بڈگام کے لیڈن گاؤں کے حجام محلے میں پیش آئے جہاں ایک ہی خاندان کے سولہ افراد مکان کے ملبے تلے آنے سے ہلاک ہوگئے۔ یہ افراد اس مکان کو محفوظ سمجھ کر پسیاں گر آنے کے خوف سے اس مکان میں جمع ہوگئے تھے ۔ لیکن مکان اچانک گر آیا اور تمام سولہ افراد موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے ۔ اس کے بعد بچاؤ کاروائی شروع کی گئی۔ انتظامیہ نے سخت محنت کرکے دو روز کے بعد ملبے سے تمام لاشیں نکالیں ۔ اس کے بعد ان کو دفن کیا گیا۔ دفن کرنے کے موقعے پر یہاں رقت آمیز مناظر دیکھے گئے ۔ اسی طرح ترال میں چھان کتار کے مقام پر پہاڑ میں شگاف پڑگیا جس سے وہاں کے لوگوں میں تشویش پھیل گئی ۔ کپوارہ میں بھی ایک دیہات میں مکانات میں دراڑیں پڑنے سے لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کئی ہزار مکانات غیر محفوظ پائے گئے جہاں سے لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوتے دیکھا گیا۔ حکومت نے لوگوں کو راحت پہنچانے کے لئے ان کے لئے مفت راشن فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔ اسکولوں کی ایک ہفتے تک چھٹیاں کی گئیں اور لوگوں کو اسکولوں اور دوسرے سرکاری اسکولوں میں ٹھہرنے کے لئے کہا گیا۔ اس صورتحال نے وادی بھر میں تشویش پیدا کی ہے۔