خبریں

کشمیرکی صورتحال پر آل پارٹیز میٹنگ کا انعقاد

کشمیرکی صورتحال پر آل پارٹیز میٹنگ کا انعقاد

کشمیر کے معاملے پر نئی دلی میں منعقدہ کل جماعتی اجلاس کے دوران علیحدگی پسندوں سمیت تمام متعلقین کے ساتھ مذاکرات ،افسپا کی واپسی اور پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی کے اپوزیشن پارٹیوں کے مطالبات کے بیچ وزیراعظم نریندر مودی نے قومی سلامتی پر سمجھوتے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے ریاستی عوام کا اعتماد جیتنے اور مسئلہ کشمیر کے مستحکم و پر امن حل کا عزم ظاہر کیا۔دلی میں پارلیمنٹ کے میٹنگ ہال میں آل پارٹی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔دوپہر ساڑھے12بجے بند کمرے میں شروع ہونے والی میٹنگ کی صدارت وزیراعظم ہند نریندر مودی نے کی اور اس میں تمام مرکزی پارٹیوں کے سینئر لیڈران اور دیگرنمائندوں نے شرکت کی۔ان میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، وزیر خارجہ سشما سوراج، کانگریس کے ملک ارجن کھارگے، غلام نبی آزاد، سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو، سی پی آئی ایم کے سیتا رام یچوری اور تیلگو دیسم پارٹی کے وائی ایس چوہدری اور فیاج احمد میر کے نام قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ ڈی ایم کے، اے آئی ڈی ایم کے ، اے آئی ایم آئی ایم، سی پی آئی، آر جے ڈی، جے ڈی یواور دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ تاہم جموں کشمیر میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی نیشنل کانفرنس کے کسی بھی نمائندے نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ میٹنگ کے دوران کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سیر حاصل بحث کی گئی جس دوران اپوزیشن پارٹیوں نے وادی کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے اپنے وہی مطالبات دہرائے جن کا انہوں نے پارلیمنٹ میں پہلے ہی مطالبہ کیا ہے۔حزب اختلاف کی بیشتر جماعتوں نے کشمیر کے حوالے سے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا جن میں علیحدگی پسندوں سمیت متعلقین کے ساتھ مذاکرات، آرمڈ فورسز سپیشل پاؤرس ایکٹ کی واپسی، آبادی والے علاقوں سے فورسز کا انخلاء اور مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال پر فوری پابندی شامل ہیں۔اپوزیشن لیڈران کا کہنا تھا کہ کشمیر کو لیکر ماضی میں بھی بات چیت کا راستہ اختیار کیا گیا جسے دہرانے کی ضرورت ہے۔میٹنگ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ انہیں کشمیر کے بارے میں ایک ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہئے جس سے کشمیریوں کو اس بات کا احساس دلایا جاسکے کہ مرکزی سرکار ان کیلئے فکر مند ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال فوری توجہ کا تقاضا کرتی ہے، لہٰذا مرکز کو مزید تاخیر کئے بغیر ٹھوس اقدامات کرنے چاہئے۔مرکز ی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے میٹنگ کے شرکاء کو آگاہ کیا کہ اجلاس میں شرکت کیلئے نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن انہوں نے مصروفیات کی وجہ سے میٹنگ میں حصہ لینے سے معذرت ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار جموں کشمیر کے بارے میں80ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج پر کام کررہی ہے۔وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ مرکزی سرکار کو قوام متحدہ ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے کہ جس میں کمیشن نے کشمیر کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کی یہ پالیسی رہی ہے کہ کسی بھی ملک یہاں تک کہ اقوام متحدہ کو کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہ دی جائے۔ میٹنگ کے اختتام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بات زور دیکر کہی ’’ہمیں جموں کشمیر کے عوام کا اعتماد جیتنا ہوگا‘‘۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، البتہ لیڈران کو ریاستی عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان کی سرکار مسئلہ کشمیر کے پر امن اور مستحکم حل کیلئے پر عزم ہے۔وزیر اعظم کا کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کہنا تھا’’ہر ہندوستانی کی طرح مجھے بھی جموں کشمیر میں پیش آئے حالیہ واقعات پر انتہائی تکلیف ہوئی ہے ‘‘۔انہوں نے کشمیر کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرنے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں صورتحال بہتر ہونے کے بعد ایک کل جماعتی وفد بھیجنے کے امکانات پر غور کیا جائے گا جو وہاں کی صورتحال کا از خود جائزہ لے گا۔