خبریں

کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھناالمناک اور ناقابلِ قبول/ پاکستان. جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ/بھارت

کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھناالمناک اور ناقابلِ قبول/ پاکستان. جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ/بھارت

انڈونیشیاء کے دارالحکومت جکارتا میں منعقد ہونے والی ایشیاء افریقی کانفرنس کے دوران ہند وپاک نمائندوں کے مابین اْس وقت تنازعہ کشمیرکو لیکربحث ہوئی جب پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کشمیری عوام کو حق خودارادیت سے محروم رکھنے کو‘‘المناک اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا جبکہ بھارتی سیکریٹری خارجہ (ایسٹ) نے ان ریمارکس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جموں کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا۔ ایشیائی اور افریقی ممالک کی یہ کانفرنس 1955میں منعقدہ بندْنگ ایشین افریقن کانفرنس کے 60سال مکمل ہونے کے موقعے پر منعقد کی جارہی ہے جس میں بھارت کی نمائندگی وزیر خارجہ سشما سوراج جبکہ پاکستان کی نمائندگی پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز کررہے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کے ساتھ حق خود ارادیت کو لیکر کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا اپنے بنیادی ، پیدائشی اور ناقابل تنسٰیخ حق سے مسلسل محروم رہنا قابل قبول نہیں ہے اور اس طویل انتظار کو ختم کیا جانا چاہئے۔سرتاج عزیز نے کہا’’بندنگ کانفرنس1955 بنیادی انسانی حقو ق کے احترام پر مرکوز رہی جس میں حق خودارادیت بھی شامل ہے،یہاں موجود کئی ممالک کو آزاد اور خود مختار ہونے پر فخر ہوگا جو اْس وقت نوآبادیاتی نظام میں پسے جارہے تھے، تب سے ہم نے ایک لمبا سفر طے کیا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ یہ انتہائی المناک اور ناقابل قبول ہے کہ ان اصولوں پر عمل کرنے کا اعادہ کرنے کے60سال بعد بھی فلسطین سے لیکر کشمیر کے لوگ اب بھی اپنے ناقابل تنسیخ حق یعنی حق خودارادیت کے حصول کیلئے انتظار کررہے ہیں‘‘۔اس موقعے پر بھارتی وزارت خارجہ کے سیکریٹری(ایسٹ) انیل واڈوانے فوری اعتراض ظاہر کیا اور جواب دینے کا حق استعمال کرتے ہوئے سرتاج عزیز کے بیان کو’’ناقابل قبول ‘‘قرار دیا۔انہوں نے کہا’’یہ انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر جموں کشمیر جو کہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ،کے بارے میں غلط ریمارکس ظاہر کرنے کیلئے ایک بین الاقوامی فورم کا استعمال کیا‘‘۔انیل واڈوا کا مزید کہنا تھا’’پاکستان کے نمائندے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جولائی1972کے شملہ سمجھوتے اورفروری1999کے لاہور اعلامیہ کے تحت بھارت اور پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کو دوطرفہ طور پرامن مذاکرات اور آپسی اشتراک کے ذریعے حل کرنے کے پابند ہیں،نہ کہ ایفرو ایشین میٹنگ جیسے کسی بین الاقوامی فورم کے ذریعے جا کا انعقاد صرف بندنگ کانفرنس کا اعادہ کرنے کیلئے کیا گیا ہے‘‘۔ سرتاج عزیز نے یہ بات دہرائی کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور تمام تصفیہ طلب معاملات پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تعلقات برابری اور آپسی احترام کی بنیاد پر قائم کئے جائیں گے۔