خبریں

کشمیریوں کو فیصلہ کرنے دیاجائے

کشمیریوں کو فیصلہ کرنے دیاجائے

نئی دہلی کی طرف سے جموں وکشمیر کے عوام کو مذاکراتی عمل سے ’بے دخل‘ کرنے پر اپنی رد عمل میں شدت لاتے ہوئے(ع) حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے حد متارکہ کو ختم کرنے کی مانگ کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس خونی لکیر کو ختم کر کے آر پار کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ انتخابات کے ذریعہ ریاست جموں و کشمیر کو مذہبی و علاقائی بنیادو ںپر بانٹنے کی سازشوں سے عوام کو خبردار کرتے ہوئے میرواعظ مولوی عمر فاروق نے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کا دوطرفہ مسئلہ قرار دئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہیں۔حریت (ع ) چیرمین نے کہا کہ جموں کشمیرکا مسئلہ نہ تو قیادت کے حصول ، نا حکومتی نظام کی تبدیلی کا مسئلہ ہے اور نہ ہی اقتصادی پیکیجوں کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل بامعنی سیاسی کوششوں سے ہی بار آور ہوسکتا ہے۔ حریت(ع)سربراہ کے مطابق مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی علاقائی یا سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ جموں کشمیر کے حدودمیںرہنے والے ایک کروڑ بیس لاکھ عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے۔اور ریاست جموں وکشمیر کے عوام اس مسئلہ کے بنیادی فریق ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مسئلہ کشمیر پر دئے گئے بیان کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ تاریخ اور واقعات اس بات کے شاہد ہیں کہ ماضی میں اب تک کئے گئے دو طرفہ مذاکرات چاہے وہ تاشقند ہو ، شملہ ہو ، لاہورہو، یا آگرہ ہو برْی طرح ناکام ہوئے۔ اسی لئے ہمارا یہ اصولی مطالبہ ہے کہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کو یاتو بین الاقومی اصولوں کے مطابق یا پھر تمام فریقین ، کشمیر ، ہندوستان اور پاکستان کے مابین مذاکرات کے ذریعے پرْ امن ذرایعہ سے دائمی بنیادوں پر حل کیا جائے۔مسئلہ کشمیر کے تعلق سے کشمیری عوام کو بنیادی فریق قراردیتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ آرپار کشمیریوں کے درمیان جو خونی لکیر کھینچی گئی ہے وہ ختم کی جانی چاہئے تاکہ آر پار کے کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ مسئلہ کشمیر کوئی ہندومسلم مسئلہ نہیں اور ناہی کوئی مذہبی و علاقائی مسئلہ ہے۔ میر واعظ نے کہا گزشتہ تقریباً سات دہائیوں سے کشمیری عوام نے بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دے کر اس مسئلہ کو زندہ رکھا ہے اوراس مسئلہ کے حوالے سے جو بیش بہا قربانیاں دی جارہی ہیںجنہیںکسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں انتخابی عمل سے ریاستی عوام کو مذہب اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازشوں کا آغاز ہو چکاہے لیکن ریاست جموں کشمیر کے باشعور اور حقیقت کو سمجھنے والے لوگ اس مکروہ منصوبہ بندی کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔میر واعظ نے موجودہ حالات میں عوام کو خون سے مزین تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لئے ہر سطح پر استقامت ، استقلال اور ہمت و یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ میر واعظ نے جموں کشمیر عوامی مجلس عمل کے بانی چیئرمین میر واعظ مولوی محمد فاروق صاحب اور 25 شوال کے دیگر شہداء کو ان کے25 ویں یوم شہادت پر زبردست الفاظ خراج عقیدت ادا کیا۔