مضامین

کشمیری عوام کی اصل قاتل مین اسٹریم / الزام فوج، فورسز اور پولیس پر …!

اسمبل انتخابات کی رو دیکھ کر وادی کشمیر میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حالت دیکھ کر اس کے ساتھ مرکز میں کانگریس کے خاندانی راج اور ریاست میں نیشنل کانفرنس کے موروثی راج کے خاتمے کا رجحان دیکھ کر نہ صرف دل بدلو سیاست کا چلن زوروں پر ہے بلکہ بعض ریٹائر بیوروکریٹ اور پولیس آفیسر حالات کی نہج دیکھ کر چڑھتے سورج کی پوجا کو لے کر بی جے پی اور پی ڈی پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس سے نکلنے والے سیاسی لیڈر اور بیوروکریٹ جب پی ڈی پی میں شامل ہوتے ہیں تو ان کو گند سے تعبیر کر کے پارٹی کو گندگی سے صاف ہونے کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔ اس وقت نیشنل کانفرنس کی قیادت بھول جاتی ہے کہ یہ گنداگر اب تک نیشنل کانفرنس کے اندر تھی تو برداشت کیوں اور کیسے ہو رہی تھی؟ اس گند کو اپنایا کیوں جا رہا تھا؟ اور سینے سے کیوں لگایا جا رہا تھا؟ چونکہ نیشنل کانفرنس جنم سے لے کر اب اس کے اختتام تک کوئی اصول نہیں رہا ہے۔ لہٰذا کل کی بات بھول کر آج بھی دھوکے کی سیاست چلا رہی ہے۔ پی ڈی پی بھی کانگریس کا روٹھا بھائی ہے اور ہمارا یہ ماننا ہے پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید کانگریسی ہے اور ان کی رگوں میں کانگریسی خون دوڑ رہا ہے۔ انہوں نے ساری زندگی کانگریس میں گزاری ہے چند سال سے اپنی الگ پارٹی ضرور بنائی ہے البتہ ان کی سوچ اور اپروچ کانگریسی ہے۔ کشمیر کے بارے میں کانگریس کی سوچ اور اپروچ جھوٹ، دھوکہ اور فریب پر مبنی ہے جہان یہ کانگریس پارٹی کشمیری مسلمانوں کے تئیں بڑی ظالم جابر اور غاصب رہی ہے۔ کشمیر میں حقوق مانگنے پر رائے شماری کے بارے میں کانگریس کے پہلے صدر اور ملک کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو  یاد دلانے پر اس پارٹی نے جو یہاں قتل و غارت کرائی، لوٹ مار کرائی، وہ اس پارٹی کے ماتھے پر بھیانک اور بد نما دھبہ ہے۔ کانگریس نے ریاست میں عموماً اور وادی کشمیر میں خصوصاً مسلمانوں کی نسل کشی کرائی، نوجوانوں کو جیلوں میں بھر کر وہیں سڑایا۔ لاپتہ کر کے گمنام قبروں میں سلایا، بچوں کو یتیم اور خواتین کو بیوہ بنایا۔ اس کے ساتھ اس پارٹی نے جو سب سے بڑی اور بھیانک کارروائی کرائی وہ یہاں کی مستورات کی آبرو ریزی ہے۔ اس کے ساتھ ظلم و ستم قہرو غضب اور تشدد کرا کے جو وحشیانہ درندگی کا مظاہرہ کرایا اس کی بھی کہیں مثال نہیں مل سکتی ۔
مفتی محمد سعید اسی کانگریس کی پیداوار ہے۔ مفتی محمد سعید جب مرکز میں ہوم منسٹر تھے ریاست میں عسکری تحریک کا آغاز ہوا، عوام نے اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے آزادی کی تحریک چلائی اس تحریک کو کچلنے کیلئے ہوم منسٹر کی حیثیت سے مفتی محمد سعید نے بدنام زمانہ جگموہن کو ریاست کا گورنر نامزد کر کے انہیں تحریک آزادی کو کچلنے کے مکمل اختیارات دے دئے۔ جگموہن کی آمد پر نیشنل کانفرنس کی سرکار نے راہ فرار اختیار کر لیا۔ پورے چھ سال تک ایک کے بعد ایک گورنر نے پوری ریاست میں مسلم آبادی پر جو قہر کیا اس نے چنگیز خان ہلاکو خان اور ہٹلر کا قتل عام بھلا دیا۔ کشمیر وادی کو تخت و تاراج کیا گیا۔ لہو کی ندیاں بہائی گئی انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا۔ اس کے باوجود جب تحریک آزادی نہ دب سکی تو قانونی لاچاری کومد نظر رکھ کر لندن سے فاروق عبداللہ کو بلا کر انہیں اقتدار سونپا گیا۔
فاروق عبداللہ نے اقتدار سنبھالتے ہی نوجوانوں کی نسل کشی کے لئے ٹاسک فورسز بنائی، اس فورس کیلئے عاشق بخاری کو ایک اہم عہدہ تفویض کیا گیا۔ اس فورسز میں زیادہ تر گوجر بکروال اور پہاڑی باشندوں کو بھرتی کر کے انہیں کشمیری مسلم جوانوں کی نسل کشی کا مکمل اختیار دے دیا۔ ماہانہ تنخواہ کے علاوہ انہیں ملی ٹینٹوں اور ان کے کمانڈروں کے قتل پر انعامات سے بھی نوازا گیا۔ چنانچہ انعامات کی لالچ میں ملی ٹینٹ یا کمانڈر کی لیبل لگا کر انہوں نے پڑھے لکھے نو جوانوں پر اسی طرح جھپٹا مارنا شروع کیا جس طرح چیل چوزے پر چھپٹا مارتی ہے۔اپنے پنجوں میں جکڑ کر دور لے جاتی ہے۔ وہاں اس کو نوچ کر ان کا کچو مر نکالتی ہے۔ ٹاسک فورسز کے جوانوں نے بے شمار جوانوں کو لاپتہ کیا، ان کے جسم کے اندرونی اعضا نکال کر ان کا کاروبار کیا۔ ان کے اعضاء ملک بھر کے میڈیکل کالجوں کو فروخت کئے اور پھر ان کے ڈھانچے گمنام قبروں میں دفنائے۔ ایک سرسری اندازے کے مطابق چھ ہزر سات سو سے زائد کشمیری جوان کو ٹاسک فورسز نے قتل کئے۔ کتنی ہی خواتین کی آبرو ریزی بھی کی، بچوں کو اغوا کر کے ان کے لواحقین سے تاوان وصول کر لیا۔ لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا۔ یہ سارا کچھ یہاں کے حکمرانوں نے کرایا۔ چونکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں نہیں کرایا بلکہ ٹاسک فورس سے کرایا لہٰذا آج عاشق بخاری اس قتل نا حق کے ملزم ٹھہرائے جا رہے ہیں۔ کیونکہ ایک انہوں نے سیاسی لبادہ اوڑھنے کی کوشش کی جو سرنہ چڑھ سکی۔
سن 2002 ء لے کر 2008 ء تک پی ڈی پی اور کانگریس نے ملکر فوج فورسز اور پولیس کے علاوہ اخوانیوں اور ٹاسک فورسز سے جو قتل و غارت کرایا، لوٹ مار کرائی، نوجوانوں کی نس کشی کرائی، خواتین کی بے حرمتی کرائی۔ اس کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے وردی پوشوں پر ڈالا جا رہا ہے۔2008 سے لے کر آج 2014 ء تک  جو یہاں کے حکمرانوں نے 2010 ء میں جو معصوم طالب علموں کا وردی پوشوں کے ہاتھوں قتل کروایا۔ اس کی کمان کس وادی پوش  کے ہاتھوں میں سونپی گئی۔ یہ الگ بات ہے البتہ حکمرانوں نے اختیارات دے کر ان 125 معصوم طالب علموں کے ساتھ دیگر جوانوں کا فرضی مڈبھیڑ میں قتل کروایا آج اس کا الزام بھی  وردی پوشوں کے سرتھوپا جا رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عاشق بخاری جیسے پولیس آفیسر پر الزام ریاست کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ لگا رہے ہیں۔ اس طرح وزیراعلیٰ خود کو بچا کر قتل عام کا ذمہ دار عاشق بخاری کو ٹھہرا رہے ہیں۔
عاشق بخاری کی پی ڈی پی میں شمولیت گھاٹے کا سودا بنی لہٰذا پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے یوٹرن لے لی۔
بالآخر محبوبہ مفتی کو اس بارے میں بیان جاری کرنا پڑا۔ پی ڈی پی صدر نے کہا کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق عاشق بخاری نیشنل کانفرنس کا پرانا ساتھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران نیشنل کانفرنس نے 120 نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیل کر یہ ثابت کر دیا کہ اقتدار کی لالچ میں نیشنل کانفرنس کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہے اس کیلئے لوگوں کا خون بہانہ این سی کیلئے معمولی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب کے دوران سنگبازوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا اور 2010 میں نیشنل کانفرنس نے مذکورہ نوجوانوں کو لشکر طیبہ کی لبیل لگانے سے بھی گریز نہیں کیا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ سابق ایس ایس پی سرینگر عاشق بخاری نیشنل کانفرنس کا پرانا ساتھی ہے۔ عاشق بخاری نے پی ڈی پی جوائن نہیں کیا بلکہ اس ضمن میں نیشنل کانفرنس افواہیں پھیلا رہی ہیں۔ ایک جلسے کے دوران عاشق بخاری نمودار ہوئے نہ کہ اس نے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی، پی ڈی پی صدر نے نیشنل کانفرنس پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا کہ 2010 کی عوامی ایجی ٹیشن کے دوران این سی نے خون کی ہولی کھیل کر 120 نوجوانوں کا قتل کر کے اقتدار حاصل کیا۔2010 کی عوامی ایجی ٹیشن میں ملوث پولیس و فورسز اہلکاروں کو سزا نہ دینا اس بات کی عکاسی ہے کہ نیشنل کانفرنس اور پولیس و فورسز نے مل جل کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیا۔ عاشق بخاری نیشنل کانفرنس کی سربراہی والی حکومت میں ایس ایس پی سرینگر تھا اور پی ڈی پی کو مورد الزام ٹھہرنا سمجھ سے باہر ہے۔ ایس پی نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر شہر سرینگر کے نوجوانوں کا قافیہ حیات تنگ کر کے انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیلوں کو منتقل کیا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ٹاسک فورس نیشنل کانفرنس کی پیداوار ہے اور پی ڈی پی نے اپنے دور حکومت میں اگرچہ ٹاسک فورس کو ختم کیا تاہم 2008 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نیشنل کانفرنس نے اسے پھر زندہ کیا اور انہیں لوگوں کو جان سے مارنے کی لائسنس فراہم کی گئی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ آنے والے اسمبلی الیکشن کے دوران لوگ فیصلہ کرینگے کہ وہ قاتلوں کو ووٹ دینگے یا پھر انصاف پسندوں کو فیصلہ ریاست کے رائے دہندگان کو کرنا ہے۔