سرورق مضمون

کشمیری پنڈتوں کی گھرواپسی !/ مخصوص ٹائون شپ یا مخلوط بستیاں؟ / مرکزی اور ریاستی سرکارکے درمیان اختلاف

ڈیسک رپورٹ
کشمیری پنڈتوں کی واپسی اوربازآبادکاری پر اختلافات سامنے آنے کے بعد ریاست میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔   اس وجہ سے ریاست میں ایک بار پھرحالت مخدوش بن رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ وادی سے یہ پنڈت اس وقت نکل کر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے تھے جب نوے کی دہائی میں یہاں عسکری پسندوں کی کاروائیوں کی وجہ سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔ ریاست میں گورنر راج نافذ ہوتے ہی اس وقت کے گورنر جگموہن نے مبینہ طور پنڈتوں کو وادی سے باہرجانے کا مشورہ دیا اور انہیں ملک کے مختلف حصوں میں بھیجنے کے لئے ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کیں۔ اس کے بعد مرکزی سرکار نے ان پنڈتوں کو کئی طرح کی سہولیات فراہم کیں اور انہیں ماہانہ نقدی رقم دینے کے علاوہ کئی جگہوں پر رہائشی سہولیات بھی فراہم کیں۔ اس دوران پنڈت رہنما اور کئی دوسرے لوگ پنڈتوں کی واپسی پر زور دیتے رہے ۔ کشمیری پنڈت ملک کے مختلف علاقوں میں آباد ہوچکے ہیں اور ان کی نئی نسل نے ریاست سے باہر روزگار کے وسائل اختیار کئے ہیں۔ اس کے باوجود پنڈتوں کی واپسی کا مسئلہ برابر دہراتا جارہاہے ۔ مرکز کی خواہش ہے کہ پنڈت واپس کشمیر آئیں اور یہاں آباد ہوجائیں۔ اس غرض سے اب تک کئی طرح کے منصوبے پیش کئے گئے لیکن انہیں عملی صورت دینا ممکن نہ ہوا۔ اب تازہ منصوبہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ ان پنڈتوں کے لئے مخصوص ٹائون بنائے جائیں اور انہیں وہاں تما م سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ تحفظ بھی دیا جائے۔ ان مخصوص علاقوں کے اندر پنڈت بستیاں آباد کرنے کے لئے مرکز نے ریاست سے زمین مشخص کرنے کے لئے کہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ریاستی سرکار نے ایسے ٹائون قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس مقصد سے زمین کی نشاندہی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مخلوط سرکار کے کم از کم مشترکہ پروگرام میں ان پنڈتوں کی باز آباد کاری کا وعدہ کیا گیا ہے اور تمام سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔پچھلے دنوں ریاست کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید اس مقصد  کیلئے دہلی بلائے گئے جہاں اس بارے میں بتایا جاتا ہے کہ منصوبے کو جلد از جلد عملانے پر بات چیت ہوئی۔ اس منصوبے پرابھی غور وخوض کیا جارہاتھا کہ علاحدگی پسندوں نے اس منصوبے کے خلاف سخت بیانات دینے شروع کئے۔ اس منصوبے کو تمام علاحدگی پسند تنظیموں کے علاوہ بی جے پی کے بغیر تمام مین اسٹریم جماعتوں نے بھی مسترد کیا ہے۔ کانگریس اور این سی نے اس کو یہاں کے ہندو مسلم اتحاد کے خلاف منصوبہ قرار دیا ہے ۔ علاحدگی پسندوں نے اس منصوبے کے خلاف مشترکہ طور ایجی ٹیشن چلانے کا اعلان کیا ہے ۔ لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے پریس کانفرنس میں اس کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ریاست کے وزیراعلیٰ مفتی سعید پر آر ایس ایس کا ایجنڈا کشمیر میں نافذ کرنے کا الزام لگایا ۔ اسی طرح حریت رہنما سید علی گیلانی نے بھی پنڈتوں کی کالونیاں قائم کرنے پر مفتی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس منصوبہ کے خلاف علاحدگی پسندوں نے جمعہ کو احتجا ج کرنے اور سنیچر کو ہڑتال کرنے کی اپیل کی۔ اگرچہ مفتی سعید نے اسمبلی میں اس بات کا اعلان کیا کہ ریاستی سرکار ہندووں کے لئے الگ بستیاں بسانے کے منصوبے کو رد کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ ریاست میں کسی بھی حالت میں اسرائیلی طرز کی کالونیاں بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ لیکن مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ پنڈتوں کی واپسی مرکزی منصوبے کے مطابق ہوگی اور ریاستی سرکار کو صرف زمین کی نشاندہی کرنی ہوگی۔ اس صورتحال کی وجہ سے ریاست میں سخت تشویش پائی جاتی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ ریاست میں حالات پیچیدہ رخ اختیار کرسکتے ہیں ۔