خبریں

کشمیر تا دلی ہائی الرٹ

کشمیر تا دلی ہائی الرٹ

جیش محمد سے وابستہ 20 جنگجوؤں کی سرحد پار سے کشمیر میں دراندازی میں کامیابی کے بعد ’’سرینگر تا دلی ہائی الرٹ جار ی ‘‘کردیا گیا ہے اور سیکورٹی ایجنسیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے تین روز کے اندر اندر یہ فدائین ریاست میں سیکورٹی تنصیبات پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ جنگجو پیر پنجال پہاڑی سلسلوں سے دراندازی کرکے وادی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ سراغرساں اداروں کواطلاعات ملی ہیں کہ کشمیر میں پچھلے دنوں 20کے قریب ہتھیار بند جنگجووں نے سرحد پار سے دراندازی کی ہے اور وہ دراندازی کرنے میں کامیاب بھی ہوگئے ہیں جس کے بعد ایہ خود ہتھیار وں سے لیس یہ جنگجو وادی میں بڑے حملوں کی منصوبہ بندی رکھتے ہیں۔چنانچہ سیکورٹی ایجنسیوں نے اطلاع ملتے ہیں وادی کیساتھ ساتھ جموں میں الرٹ جاری کر دیا ہے اور اسی بناء پر مرکزی حکومت نے دلی تا کشمیر ملک بھر میں الرٹ جاری کر دیا ہے ،کیونکہ سراغرساں ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ جدید ہتھیاروں سے لیس یہ جنگجو فدائین کا گروپ ہے اور وہ وادی میں بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ رکھتے ہیں جس کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں کو الرٹ رہنا ہوگا ۔ ایسے میں سراغرساں اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ جنگجو گروپوں میں کاروائی انجام دے سکتے ہیں ۔ایجنسیوں کے مطابق پیر پنجال پہاڑی سلسلوں سے یہ جنگجو دراندازی کر چکے ہیں اور وہ وادی میں پھیل سکتے ہیں وہیں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ دلی تک بھی اپنا دائرہ وسیع کر سکتے ہیں جس کو دیکھتے ہوئے دلی میں بھی حملے ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ ایسے میں دلی کو نشانہ بنانے کے خدشات کو لیکر انٹیلی جنس اداروں یعنی انٹیلی جنس گرڈ کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے اور انہوں نے سیکورٹی ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور انتہائی سطح پر محتاط رہیں ۔ پولیس کے ایک اعلیٰ آفسیر نے ایک ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ دراندازوں کے اس گروپ نے اپنے آپ کو مختلف گروپوں میں تقسیم کر لیا ہے اور یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ان کے پاس خطرناک اور جدید ہتھیار ہوسکتے ہیں جبکہ یہ انتہائی ماہر اور تربیت یافتہ جنگجو بھی ہیں ۔سیکورٹی ایجنسیوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ جنگجو اگلے تین روز کے اندر ریاست میں حملے کر سکتے ہیں۔ کہاجارہا ہے کہ چونکہ جنگ بدر کا دن بھی ہے اور اس روز یہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے حملے کر سکتے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ 12جنگجو کا گروپ ہے جبکہ کچھ ایک انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ قریب بیس جنگجووں پر مشتمل یہ گروپ دراندازی کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ چنانچہ ایسے میں سیکورٹی ایجنسیوں کو خدشہ یہ ہے کہ یہ جنگجو جیش محمد کے ہوسکتے ہیں اور وہ اپنے ٹارگٹ کی تلاش میں ہے لہٰذا جہاں انہیں آسان ہدف مل جائیگا وہ سٹرائیک کریں گے ۔چنانچہ 12سے 20 ہتھیار بند جنگجووں کی دراندازی کو لیکر ریاست میں سیکورٹی ایجنسیاں بھی دم بخود ہیں اور نہ صرف وادی بلکہ پوری ریاست میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے وہیں فوجی تنصیبات پر پہرے کو سخت کیا جارہا ہے جبکہ سیکورٹی ایجنسیوں کی اس اطلاعات کے بعد اب ریاستی پولیس کو چوکنا رکھا گیا ہے اور پولیس فورس کیساتھ ساتھ سی آر پی ایف اور فوج کو کسی بھی امکانی صورتحال یا پھر فدائین حملوں کو ناکام بنانے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ جنگجو یا تو فدائین حملوں کو ترجیح دیں گے یا پھر مارو او ر بھاگو کی کاروائی کرسکتے ہیں لیکن پوری سیکورٹی ایجنسیوں کو چوکس رکھا گیا ہے ۔ایسے میں فدائین کی دراندازی کو لیکر ریاست بھر میں سرکاری اور نیم سرکاری اداروں ، فوجی تنصیبات پر بھی پہرہ مزید سخت کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ادھر مرکزی حکومت نے ایڈوائزی جاری کر دی ہے جس میں ریاستی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ااس سلسلے میں پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کو چوکس کریں تاکہ ان جنگجووں کے عزائیم کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی ۔ایسے میں جموں کے اندر بھی یہ ایڈوائزی جاری کر دی ہے اور جموں میں بھیڑ بھاڑ علاقوں میں پولیس کا گشت تیز کر دیا گیا ہے اور مشکوک افراد سے بڑے پیمانے پر پوچھ تاچھ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ہوٹلوں اور دیگر اہم مقامات پر بھی پوچھ تاچھ شروع کی گئی ہے ۔ادھر وادی میں امکانی حملوں کے پیش نظر سیکورٹی سخت کی جارہی ہے جس کے تحت جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں ناکے لگائے گئے ہیں اور گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہے ۔ ادھر بنکروں پر تعینات عملے کو بھی احتیاط برتنے کی صلاح دی گئی ہے جبکہ کیمپوں کے اندر بھی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو کسی بھی بڑے حملے کو ٹالنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔سیکورٹی ایجنسیوں کے ایک اعلیٰ آفیسر نے قومی ٹیلی ویژن چینل کو بتایا ہے کہ جنگجووں کے گروپ کی دراندازی میں کامیابی کی تصدیق ہورہی ہے جس کے بعد سیکورٹی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ دونوں مژھل ،کیرن سیکٹر کے بعد قاضی آباد ہندوارہ میں بھی گزشتہ دنوں دو جنگجو مارے گئے جبکہ ٹنگڈار سیکٹر میں حالیہ دراندازی کی ایک کوشش کے دورن پانچ جنگجو کو مار گرایا گیا ہے جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کرنے کا فوج نے دعوی کیا تھا۔