سرورق مضمون

کشمیر دہلی مذاکرات/ میرواعظ کی نئی ڈفلی ،گیلانی الیکشن بائیکاٹ مہم پر

کشمیر دہلی مذاکرات/  میرواعظ کی نئی ڈفلی ،گیلانی الیکشن بائیکاٹ مہم پر

ڈیسک رپورٹ
حریت (م ) سربراہ میرواعظ عمرفاروق نے امید ظاہر کی ہے کہ دہلی کے ساتھ مذاکرات پھر سے شروع ہوجائیں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حریت (م ) مرکزی سرکار کے ساتھ واجپائی طرز کے مذاکرات پھر سے شروع کرسکتی ہے ۔ ان کا یہ بیان حال ہی میں ان کی طرف سے دئے گئے ایک انٹریو میں ظاہر کی گئی ۔ میرواعظ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ کئے گئے مذاکرات کے دوران انہوں نے کئی تجاویز پیش کی تھیں۔ ان تجاویز میں فوج کو خصوصی اختیارات والے قانون افسپا کی واپسی اور فوج کی بارکوں میں واپسی سمیت کئے دوسرے معاملات شامل تھے۔ لیکن بعد میں مذاکرات کا یہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا اور کسی معاملے پر پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ اب حکومت چاہئے تو مذاکرات کا یہ سلسلہ پھر سے شروع کیا جاسکتا ہے ۔ میرواعظ کا کہنا ہے کہ کشمیر مسئلہ حل کرنے کے لئے سہ فریقی مذاکرات کافی کامیاب ہوسکتے ہیں اور اس طرح کی بات چیت سے جس میں ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ کشمیری قیادت شامل ہومسئلہ کشمیر حل کیا جاسکتا ہے ۔ انہو ں نے یہ بات زور دے کرکہی ہے کہ اس طرح کی بات چیت شروع کرنا بہت ضروری ہے ۔
میرواعظ نے کشمیر دہلی بات چیت کا ڈھول اس وقت پیٹا ہے جب کہ چند دن پہلے پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ کئی علاحدگی پسند گروہوں کے علاوہ حریت(م) کی ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی ۔ اس میٹنگ پر ہندوستان کی دائیں بازو کی جماعت بی جے پی نے کافی شور کیا اور اسے ایک غلطی قرار دیا ۔ بی جے پی کا کہنا تھا کہ دہلی سرکار کو اس طرح کی میٹنگ کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے تھی ۔ اس کے بعد سرتاج عزیز نے دہلی میں کئی سرکردہ حکومتی اہلکاروں سے بھی ملاقات کی ۔ سرتاج عزیز اب وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کے اس دورے کے بارے میں بہت کم معلومات سامنے لائی گئی ہیں۔ البتہ ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر کئی ہفتوں سے پائے جانے والے تناؤ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں ملکوں نے 2003میں ہوئی فائر بندی کے معاہدے کی تعظیم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کے بعد سے سرحدوں پر خاموشی پائی جاتی ہے ۔ اس درمیان یہ بات معنی خیز قرار دی جاتی ہے کہ مولوی عمر فاروق نے سہ فریقی بات چیت کے ساتھ ساتھ کشمیر دہلی مذاکرات کی بات سامنے لائی ہے ۔ اگرچہ عمر نے اس کا کوئی تعلق پاکستان سے جوڑنے سے انکار کیا ہے تاہم مبصرین اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ عمر کو پاکستان سے اس بارے میں کوئی مثبت اشارہ ملا ہے ۔ ادھر حریت (گ) کے سربراہ کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ انہوں سرتاج سے اپنی ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک کشمیر مسئلے کے حوالے سے یو این قراردادوں کے ساتھ چمٹا رہے۔ گیلانی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان یو این قراردادوں کے بغیر دوسرے آپشنز کی بات بھی کررہاہے جس سے مسئلہ کشمیر کمزور ہورہاہے ۔ سید علی گیلانی کو حال ہی میں خانہ نظر بندی سے رہاکرکے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے سوپور ، شوپیان اور پلوامہ کے علاوہ سرینگر میں کئی بڑے جلسوں سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ہر جگہ لوگوں کو آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے لئے کہا ہے ۔ ان کے ان جلسوں میں توقع سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی اور ان کی خوب پذیرائی کی۔ گیلانی کی اچانک رہائی کے بارے میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انہیں ریاست کی مخلوط سرکار نے جان بوجھ کر رہاکیا ہے تاکہ اسے الیکشن بائیکاٹ کی مہم چلانے کاموقع ملے ۔ چونکہ الیکشن بائیکاٹ کا زیادہ فائدہ این سی اور کانگریس کو ملتا ہے ۔ اس طرح سے سرکار میں شامل یہ جماعتیں آئندہ انتخابات میں پھر سے کامیابی کی کوششیں کررہی ہیں ۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ گیلانی کو اس غرض سے رہا کیا گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ گیلانی کو ان کی حکومت نے نہیں بلکہ ایڈ منسٹریشن کے فیصلے کے تحت رہا کیا گیا ۔ تاہم آثار و قرائن سے لگ رہاہے کہ انہیں کسی بڑے پلان کے تحت چھوڑ دیا گیا ہے۔حقیقت کیا ہے ۔ اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم بہت سے سیاسی مبصر یہی کہتے ہیں کہ گیلانی کو الیکشن بائیکاٹ کے لئے رہاکیا گیا ہے ۔اسی طرح دختران ملت کی آسیہ اندرابی نے بھی اپنی ملاقات کے دوران سرتاج عزیز سے شکایت کی ہے کہ پاکستان نے کشمیر مسئلہ پر گومگو کی پالیسی اختیار کی ہے جس وجہ سے کشمیری ان سے سخت ناراض ہیں ۔ انہوں نے زور دیا کہ نئی پاکستانی حکومت کشمیر مسئلہ کو ہر سطح پر اٹھانے کی کوشش کرے اور یہاں ہورہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجا گر کرے ۔
مولوی عمر کی طرف سے مذاکرات کی نئی تجویز کے بارے میں دہلی کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیاہے۔ اس بات کابہت کم امکان ہے کہ موجودہ مرحلے پر اس طرح کی کسی تجویز پرعمل کیاجاسکے۔ ملک میں انتخابات بہت قریب ہیں ۔ اپزیشن بی جے پی نے اس غرض سے زور دار مہم چلانے کافیصلہ کیا۔ اس وجہ سے موجودہ کانگریس سرکار سخت پریشان ہے۔ ایسے میں اس کے لئے کشمیری علاحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنا سخت مشکل ہے۔ اس بات سے باخبر ہونے کے باوجود مولوی عمر فاروق نے مذاکرات کاڈھول پیٹنا کیوں شروع کیا ، اس پر سب حلقے دم بخود ہیں ۔ تاہم بہت جلد منظرنامہ واضح ہونے کی امید ہے ۔