اداریہ

کشمیر سے دلی تک تشویش

پہلے سے طے کئے گئے پروگرام کے مطابق 5 مئی کو سرینگر میں دربار موکے دفاتر کھل گئے۔ اس موقعے پر مختلف حلقوں نے حکومت کی ناقص کارکردگی کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ احتجاج کرنے والوں میں سیاسی حلقوں کے علاوہ کچھ تجارت پیشہ افراد بھی شامل تھے ۔ تجارت پیشہ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ پچھلے سال کے سیلاب سے ہوئے نقصان کی تلافی کیلئے حکومت کوئی اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ اس موقعے پر پردیش کانگریس نے ایک جلوس نکالا ۔ ادھر لنگیٹ کے اسمبلی ممبر انجینئر عبدلر شید نے اپنے چند کارکنوں کو ساتھ لے کر سیکریٹریٹ کے سامنے احتجاج اوردھرنا دینے کی کوشش کی ۔ یہ لوگ پنڈتوں کے لئے مبینہ طور بنائی جانے والی الگ کالنیوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ پولیس نے انجینئر کو اپنے کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کیا اور ان کے احتجاج کو ناکام بنایا۔ اس وجہ سے سیکریٹریٹ کھلنے کے موقعے پر شہر میں سخت افراتفری دیکھی گئی۔
جموں سے دربار سرینگر منتقل ہونے کے موقعے پر پولیس نے پورے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے۔ ان کڑے حفاظتی انتظامات کے بیچ وزیراعلیٰ اور اس کے کئی کابینہ ساتھی صبح سیکریٹریٹ پہنچ گئے جہاں انہیں سلامی دی گئی اور ان کا استقبال کیا گیا ۔ اس کے بعد وزیرراعلیٰ اندر اپنے دفتر میں چلے گئے ۔ بعد میں وزیراعلیٰ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اپنی اس پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے کئی اہم انتظامی امور اوردیگر سیاسی معاملات پر بات کی۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ریاست کو سخت مالی مسائل کا سامنا ہے ۔ انہوں نے سابق سرکار پر الزام لگایا کہ ان کے غیردانشمندانہ اقدام کی وجہ سے ریاست کو مالی مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ روز مرہ کے معاملات چلانے کے لئے مالی ضروریات کو کسی نہ کسی طرح سے پورا کیا جارہاہے ۔ اس موقعے پر انہوں نے ایک بار پھر علاحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی ساتھ بات چیت کی گنجائش موجود ہے ۔ البتہ انہوں نے مسرت عالم بٹ کو ان کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کرنے اور ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگانے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک حق بجانب قدم قرار دیا ۔ ان کا کہنا کہ مسرت عالم نے رہائی کے بعد کچھ غیرآئینی قدم اٹھائے اور حکومت انہیں گرفتار کرنے پرمجبور ہوگئی۔ وززیراعلیٰ کے اس بیان کی علاحدگی پسندوں نے بحیثیت مجموعی مخالفت کی ہے ۔ بات چیت میں شامل ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے مفتی سعید اور ان کی پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی دوسری مین اسٹریم جماعتوں سے کسی بھی لحاظ سے کم درجے کی جماعت نہیں ہے ۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی کشمیریوں کی دشمن نمبرایک ہے۔ انہوں نے لوگوں کو اس جماعت سے دور رہنے اور اس کے جھانسے میں نہ آنے کی ترغیب دی ۔ یاد رہے کہ گیلانی نے دہلی سے آکر سرینگر میں ایک بڑا جلسہ کیا جس میں مبینہ طور پاکستانی جھنڈے لہرائے گئے ۔ اس کے بعد انہوں نے ترال میں ایک جلوس نکالا۔ یہ جلوس یہاں کچھ دن پہلے ہلاک کئے گئے دو نوجوانوں کی یاد میں منعقد کیا گیا ۔ اس جلسے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ کئی نوجوانوں نے پاکستان کا سبزپرچم لہرایا اورپاکستان کے حق میں نعرے دئے۔ اس پر حرکت میں آکر پولیس نے گیلانی کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کیا ہے ۔ یاد رہے کہ گیلانی کو سابق حکومت نے چھ سال تک گھر میں نظر بند رکھا۔ لیکن مفتی سعید نے دیگر کئی رہنمائوں کو جیل سے رہا کرنے کے علاوہ ان کی گھر میں نظر بندی ختم کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ لیکن علاحدگی پسندوں کی سرگرمیوں میں اچانک تیزی آنے کے بعد انہیں دوبارہ گھروں میں نظر بند کیا گیا۔ اس بات کا دفاع کرتے ہوئے مفتی نے ان کی سرگرمیوں کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسے قانون کے مطابق قدم قرار دیا۔اس کے بعد کشمیر میں حالات میں ایک بار پھر تنائو دیکھنے کو ملا  تھا۔اس پر کشمیر سے لے کر دہلی تک سخت تشویش پایا گیا۔