سرورق مضمون

کشمیر: عسکریت کے پچیس سال الیکشن بائیکاٹ ، اخوانی قہر اور مہمان مجاہدین کشمیر عسکریت کے نمایاں پہلو

ڈیسک رپورٹ
31 جولائی کو کشمیر میں عسکری تحریک کے پچیس سال مکمل ہوگئے ۔ 1989میں آج ہی کے دن سرینگر میں بم دھماکے کرکے عسکری سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا تھا ۔ پہلے پہل عوام اس سے باخبر تھے اور نہ سرکار کو معلوم تھا کہ دھماکے کون کرتاہے اور کیوں کئے جاتے ہیں۔پہلے مرحلے پر بتایا گیا کہ مرکز اور ریاستی سرکار کے درمیان تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے اور دہلی کی ایجنسیاں ریاستی سرکار کو کمزور کرنے کے لئے ایسا کرتی ہیں ۔ لیکن جلد ہی دال کے بھاؤ معلوم ہوگئے اور ایک ایسا گروہ سامنے آیا جس نے ملک کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری وادی میں افراتفری پھیل گئی اور جنگجووں کا راج قائم ہوگیا۔ جلسے جلوس نکلنے لگے اور عوامی بغاوت نے ریاستی سرکار کے علاوہ سرحد پر موجود فوج کو بے دست و پا کرکے رکھ دیا۔عسکریت کا آغاز سرینگر میں معمولی نوعیت کے دو بم دھماکوں سے کیا گیا۔معلوم ہوا کہ بم دھماکے نوجوانوں کا ایک خاص گروہ کررہاہے جو سرحد پار سے ٹریننگ کرکے آگیاہے اور ان کے پاس اسلحہ خاصی مقدار میں موجود ہے ۔ پولیس نے آٹھ نوجوانوں کو دھماکوں میں ملوث قرار دیا اور ان کے خلاف باضابطہ کیس درج کیا گیا ۔ ملوث نوجوانوں میں بلال صدیقی ، مقبول الٰہی ،ہلال بیگ ، عبداللہ بنگرو،ایوب بنگرو اور جاوید جہانگیر شامل کردئے گئے۔ پولیس نے ان کے ساتھ کئی اور نوجوانوں کی تلاش شروع کردی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہونے لگیں ۔ اس کے ساتھ سرینگر میں لبریشن فرنٹ سے وابستہ ’’حاجی ‘‘ گروپ کا چرچا ہونے لگا اور اس گروہ کو عسکریت کا سرگورہ قرار دیا جانے لگا۔ گروپ میں شامل حمید شیخ ، اشفاق مجید،جاوید میراور یاسین ملک کے علاوہ شبیر شاہ کو اشتہاری مجرم قرار دیا گیا۔ کشمیر میں یہ اس نوعیت کی پہلی کاروائی تھی جس نے ریاست بھر میں ایک نئی لہر پیدا کردی۔ اس کے بعد پولیس سربراہ علی محمد وٹالی کو قتل کرنے کے لئے اس کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا ۔ وٹالی قتل ہونے سے بچ گیا البتہ وہاں ایک عسکریت پسند مارا گیا۔ اس واقعے نے سبوں کو چوکنا کردیا اور معلوم ہوا کہ یہ ایک منظم تحریک ہے جو سوچ سمجھ کر شروع کی گئی ہے۔ خاص طور نوجوان بڑی تعداد میں سامنے آنے لگے اور عسکریت کے ساتھ منسلک ہونے لگے۔ معلوم ہوا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی نے عسکری تحریک کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آزاد کشمیر کو نوجوانوں کی تربیت کے لئے بیس کیمپ بنادیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں نوجوانوں نے لائن آف کنٹرول کو پار کرنا شروع کیا۔ لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوگئے کہ نوجوان بسوں ، ٹرکوں اور دوسری گاڑیوں میں بھر کر کھلے عا م کپوارہ جاکر وہاں سے آرام سے سرحد پار کرکے واپس آرہے ہیں۔سرحد پر وہاں تعینات انڈین فورس کے ساتھ کئی جگہوں پر جھڑپیں بھی ہوئی اور جنگجووں کے کچھ گروہ مارے گئے ۔ اس کے باوجود سرحد پار کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہا اور وادی کا کونہ کونہ جنگجووں سے بھر گیا۔ کلاشنکوف اور دوسرے ہتھیاروں سے لیس ان جنگجووں نے ریاست کے بیشتر حصوں پر راج قائم کیا۔ پولیس ، عدالتیں اور دوسرے سرکاری ادارے بے بس ہوگئے اور عسکریت پسندوں نے مختلف ناموں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں شروع کیں ۔ جماعت اسلامی ، پیپلز لیگ ، پیو پلز کانفرنس اور کئی دوسری سیاسی جماعتوں نے اپنے عسکری گروپ تشکیل دئے۔ یہ گروپ پھیلنے کے ساتھ ہی ان میں آپسی ٹکراؤ شروع ہوگیا اور تحریک خانہ جنگی میں تبدیل ہونے لگی۔ نامی گرامی عسکری رہنما مارے گئے اور فوج نے نئی حکمت عملی کے ساتھ اپنے عسکری گروپ بنالئے۔ اخوان اور دوسرے ناموں پر مشتمل سابقہ جنگجووں نے فوج کی مدد سے وادی میں قتل عام شروع کیا اور عسکری تحریک اچانک دب گئی ۔ مزاحمتی گروہ بکھر گئے اورریاست ککہ پرے اور دوسرے کئی لوگوں کی سربراہی میں قائم سرکاری عسکریت پسندوں کے گروپوں کی گرفت میں آگئی ۔ انہوں نے جس کو چاہا قتل کیا اور ان گنت لوگوں سے تاوان لینا شروع کیا۔ اس دوران کرگل لڑائی شروع ہوگئی اور اس لڑائی کی آڑ میں مہمان مجاہدین کی ایک بڑی تعداد وادی میں داخل ہوگئی ۔ ان مجاہدوں نے سرکاری جنگجووں کا قلع قمع کردیا اور وادی پر افغان مجاہدین کہلانے والے ان غیر ملکی عسکریت پسندوں کی دھاک بیٹھ گئی ۔ان مجاہدین میں اکبر بھائی، بمبار خان، مست گل اور غازی نے خاص طور سے شہرت حاصل کی۔ اس طرح سے ایک بار پھر عسکری تحریک جو اخوانیوں کے خوف سے بکھر گئی تھی منظم ہوگئی ۔
الیکشن بائیکاٹ سے لے کر اسمبلی اور پارلیمنٹ پر حملے جیسے کئی اتار وچڑھاؤ آنے کے بعد 1988سے آج تک وادی میں عسکری تحریک پورے زور وشور سے جاری ہے ۔کئی بار محسوس ہوا کہ عسکریت ختم ہونے کے قریب ہے اور اب یہ قصہ پارینہ بن رہی ہے ۔ لیکن بیچ میں کچھ نہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اچانک پھر سے اس میں نئی روح آجاتی ہے ۔ حال ہی میں سرینگر میں جنگجوں نے کئی پولیس اہلکاروں کے علاوہ فوج کے کئی سپاہی ہلاک کئے ۔ ان حملوں کو دیکھ کر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہاں عسکری تحریک کو ختم کرنا بہت ہی مشکل ہے ۔ کشمیر میں پچھلے کئی سالوں سے جو عسکریت سرگرم ہیں ان کی بڑی تعداد اعلیٰ ڈگریاں رکھتے ہیں اور عسکریت کو آگے لے جانے میں پہلے سے کافی ماہر ہیں ۔ ان میں کئی ڈاکٹر ، انجینئر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں ۔ ان میں حملہ کرنے اور اپنا بچاؤ کرنے کی صلاحیت پہلے والے جنگجووں سے زیادہ پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فوج ان چند نوجوانوں کو قابو کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی ہے۔ایسا لگ رہاہے کہ وادی میں عسکریت کا دباؤ اور لوگوں کی ان کے ساتھ ہمدردی اب بھی موجود ہے ۔ لوگ انہیں کھانا فراہم کرنے کے علاوہ گھروں میں پناہ بھی دیتے ہیں ۔ کئی لوگ عسکریت کو ایک مقدس جنگ سمجھ رہے ہیں اور اس وجہ سے اس کی عزت بھی کرتے ہیں ۔ اگرچہ عسکریت پسند کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جار ہی ہے تاہم افغانستان میں پہلے روس کی شکست اور اب امریکہ کی وہاں پر ناکامی اورنیٹو فوج کی واپسی کے بعد بہت سے لوگ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ کشمیر میں عسکری تحریک میں نیا جوش پیدا ہوگا۔پولیس ایسا ماننے سے انکار کررہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب ملی ٹنسی کے لئے عوامی سپورٹ ختم ہوگیا اور لوگ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ علاحدگی کے بجائے مین سٹریم جماعتوں کو سپورٹ مل رہا ہے اور ملی ٹنسی ختم ہونا آسان بن گیا۔ پولیس کے اس دعوے کے باوجود ایسا کہنا مشکل ہے کہ اگلے دس سال یہاں کس طرح کے ہونگے اور حالات کون سارخ اختیار کریں گے ۔