سرورق مضمون

کشمیر: فرقہ واریت کا نیا طوفان ماہِ رمضان میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں

کشمیر: فرقہ واریت کا نیا طوفان ماہِ رمضان میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں

ڈیسک رپورٹ

کشمیر میں کچھ عرصہ سے مذہبی منافرت پیدا ہونے کے خدشے کے پیش نظر سخت تشویش پائی جارہی ہے۔ کافی وقت سے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ خطے میں مسلکی اور مذہبی منافرت پھیلانے کی سخت کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس دوران گُول ،رام بن میں فوج کی طرف سے مذہبی تشدد بھڑکانے کے بعد جب حالات قابو میں آئے تو بڈگام میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑکنے کی اطلاعات آئیں ۔ اس سے پہلے لداخ کے زنسکار خطے سے معلوم ہوا کہ وہاں دو گروہوں کے درمیان اسی طرح کا تناؤ پایا جاتا ہے ۔ اگرچہ حالات قابو میں ہیں اور معمولی مالی نقصان سے زیادہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم کشمیر میں اس طرح کی منافرت پیدا ہونا سخت افسوسناک بات ہے ۔ کشمیر میں اب تک اس طرح کے واقعات سے بچا گیا ہے اور اس معاملے میں یہاں کے عوام کافی برداشت کے اہل ہیں۔ تاہم پچھلے کچھ عرصے سے جو حالات بن رہے ہیں اس وجہ سے تشویش میں اضافہ ہورہاہے ۔ پچھلے سال سمبل ایریا میں اس طرح کی کوششیں کی گئیں اور کئی جگہوں پر شیعہ سنی فساد برپا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس وجہ سے ایک دو جگہوں پر باہمی جھگڑا بھی ہوا تھا۔ لیکن کچھ ہوش مند شہریوں کی بروقت مداخلت سے مسئلہ جلد ہی حل کیا گیا اور مسئلے پرقابو پایا گیا۔ اسی طرح وادی میں دو سال پہلے اعتقادی بنیادوں پر تشدد بڑھکانے کی کوششیں کی گئیں ۔ اس میں جنگجووں کو ملوث کرنے کی بھی کوششیں کی گئی تھیں اور پلوامہ میں ایک مولوی پر قاتلانہ حملہ بھی کیاگیا تھا۔مولوی مذکور اس حملے میں بال بال بچ گیا ۔ تاہم لڑائی ہونے سے رہ گئی اور سازشی عناصر ناکام ہوگئے۔بعد میں ایک دوجگہوں پر اس طرح کی کوششیں کی گئیں لیکن وہاں بھی ناکامی ہوئی ۔ اب زنسکار سے اطلاع ہے کہ وہاں فرقہ وارانہ تناؤ پایا جاتا ہے ۔ وہاں کچھ مہینے پہلے ایک گاؤں کے اجتماعی طور مذہب تبدیل کرنے کا واقعہ پیش آیا جس پر تشدد بھڑکنے لگا تھا ۔ لیکن مقامی انتظامیہ نے بروقت کاروائی کی اور جلد ہی معاملہ رفع دفع ہوگیا ۔ البتہ بڈگام کے کئی دیہات سے بتا یا جاتا ہے کہ شر پسند عناصر فرقہ وارانہ فساد بڑھکانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ وہاں کئی رہائشی مکانوں میں آگ لگانے کے علاوہ چند عبادت گاہوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے ۔
بڈگام میں کہا جاتا ہے کہ دو اشخاص کا باہمی تنازع کو بنیا د بناکر تناؤ پیدا کیا گیا جو آس پاس کے کئی دیہاتوں تک پھیل گیا ۔اس پر پولیس نے ابتدائی کاروائی کرکے دباؤ بنانے کی کوشش کی ۔ لیکن اس میں زیادہ کامیابی نہ ہوئی تو فوج کی مدد سے حساس جگہوں پر کرفیو لگایا گیا۔ اس سے بڑے پیمانے پر تشدد کو روکا گیا البتہ تشدد کے چھوٹے بڑے کچھ واقعات پھر بھی سامنے آئے۔ اس وجہ سے علاقے میں سخت تشویش پھیل گئی ۔ سیاسی جماعتوں نے اس پر بیانات دے کر لوگوں کو صبر و تحمل سے رہنے کی تلقین کی۔ لبریشن فرنٹ کے چیرمین یاسین ملک نے فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف یکجہتی کی غرض سے ایک ریلے نکالی۔ اس سے پہلے جماعت اسلامی نے علاقے میں ایک جلسہ بلاکر اتحاد بنانے کی کوشش کی ۔ حریت پسندوں نے باہمی تعلق خراب نہ ہونے پر زور دیا اور اپنے طور لوگوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ۔ مین سٹریم جماعتوں نے بھی فرقہ وارانہ بھائی چارہ قائم رکھنے پرزور دیا ۔ حالات بہت حد تک قابو میں ہیں البتہ اس طرح کے واقعات نے کشمیری عوام کو سخت تشویش میں مبتلا کردیاہے۔