سرورق مضمون

کشمیر میں پھر خون ناحق اب کی بار شوپیان میں قیامت ڈھائی گئی

کشمیر میں پھر خون ناحق  اب کی بار شوپیان میں قیامت ڈھائی گئی

ڈیسک رپورٹ
7ستمبرکو جب کہ سرینگر کے مغل باغ میں متنازع موسیقی کنسرٹ شروع ہونے والا تھا یہاں سے قریباً اسی کلومیٹر دور شوپیان کے گاؤں گاگرن میں چار نہتے نوجوانوں کو بے دردی سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا ۔ اس بارے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق کسی ذ اتی کام سے سیکوٹر پر سوار یہ نوجوان جب گاگرن میں قائم سی آر پی ایف کیمپ کے پاس سے گزرے تو وہاں تعینات اہلکاروں نے انہیں روک دیااور ان سے شناخت ظاہر کرنے کے لئے کہا ۔ اس کے بعد ان سے کچھ پوچھ گچھ کرنے لگے ۔ اس دوران ان کے درمیان کسی بات پر معمولی بحث ہونے لگی تو سیکورٹی جوانوں نے بلا اشتعال فائرنگ کرکے انہیں موقعہ پر ہی ہلاک کیا ۔ بات جب آس پاس بستیوں تک پہنچ گئی تو لوگوں میں سخت غم و غصہ پھیل گیا اور انہوں نے احتجاج کرنا شروع کیا ۔ اس وجہ سے سخت تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ اس معاملہ کو یہیں پر دبانے کی غرض سے سی آر پی اہلکاروں نے اپنے بیان میں ان نوجوانوں کو جنگجو قرار دیا اور اعلان کیا کہ چاروں نوجوان ایک مڈ بھیڑ میں مارے گئے ۔ لیکن بات کسی نے تسلیم نہ کی اور لوگوں نے احتجاج جار ی رکھا ۔ اس کے بعد بیان بدل دیا گیا اور بتا یا گیا کہ دو تو سیولین ہیں البتہ باقی دو غیر ملکی جنگجو ہیں اور ان کا تعلق لشکر طیبہ سے بتا یا گیا ۔ یہ بات بھی جب لوگوں کے گلے سے نہ اتری تو ایک اور مقتول نوجوان کو بھی مقامی شہری مان لیا گیا البتہ ایک غیر شناختی لاش کو برابر غیر ملکی جنگجو بتایا گیا ۔ حکومت نے بھی اس کے ساتھ ہاں میں ہاں ملائی اور اس بیان کو تسلیم کیا کہ مارے گئے نوجوان بے قصور نہیں تھا بلکہ ایک غیر ملکی جنگجو کو تحفظ دے رہے تھے۔ حکومت کو اس وقت شرمندگی اٹھانا پڑی جب لوگوں نے غیر ملکی قرار دئے جانے والے شخص کے بارے میں انکشاف کیا کہ وہ کوئی جنگجو نہیں بلکہ ایک غیر ریاستی باشندہ ہے جو روزی روٹی کمانے یہاں آیا تھا اور ایک مقامی گھر میں کئی مہینے سے ٹھہرا ہوا تھا ۔ اس کے بارے میں بتا یا گیا کہ رنگ سازی کا کام کرتا تھا اور اسی سے کچھ کماکر اپنا عیال پالتا تھا۔ اس طرح سے بات صاف ہوگئی اور معلوم ہوا کہ مارے گئے چاروں نوجوان بے قصور ہیں اور کسی بھی عسکری سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں۔ تاہم حکومت نے اس وقت لوگوں کی بات اور ان کے احتجاج کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی ۔ ایک ہفتے کے لگ بھگ کولگام اور پلوامہ کے کئی علاقوں سمیت شوپیان میں سخت کرفیونافذ کیا گیا اور لوگوں کو باہر جانے سے روک دیا گیا۔حکومت نے ہلاکتوں کی تحقیقات سے انکار کیا اور بتایا کہ پولیس کاروائی کرکے مجرموں کے خلاف کیس درج کرے گی ۔ البتہ الگ سے کوئی غیر جاندار تحقیق کرنے کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کیا۔اس پر حریت (گ ) کے سربراہ سیّد علی گیلانی نے دو روزہ ہڑتال کی کال دی جس پر لوگوں نے عمل کیااور وادی بھر میں کام کاج بند رہا۔ اسی دوران ایک اور نوجوان کو اسی کیمپ سے وابسطہ اہلکاروں نے ہلاک کیا۔ اٹھائیس سالہ محمد رفیع ایک پرئیویٹ سکول بس کا ڈرائیور تھا اور نزدیکی گاؤں سعدہ پورہ کا رہنے والا تھا۔رفیع ایک اور ساتھی کے ہمراہ شوپیان اپنے رشتہ داروں کے پاس جارہا تھا اور کیمپ سے گزرتے ہوئے اس پر شدید فائرنگ کی گئی ۔ دو گولیاں اس کے سر پر لگیں اور وہ موقعہ پر ہی ہلاک ہوگیا ۔ اس پر لوگوں نے ایک بار پھر سخت احتجاج کیا اور مقامی انتظامیہ نے سخت کرفیو کا نفاذ کیا ۔ البتہ نوجوانوں نے کئی جگہوں پر جلوس نکالا اور پولیس پر سنگ باری کی۔ سنگ باری سے چند اہلکاروں سمیت بہت سے لوگ زخمی ہوگئے ۔
شوپیان میں ہوئی ہلاکتوں پر علاحدگی پسند حلقوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا ۔ یاسین ملک نے اس واقعے کے خلاف لالچوک میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ۔ لیکن یہ منصوبہ حکومت نے ناکام بنایا ۔ اسی طرح میرواعظ عمر فاروق نے ایک پریس کانفرنس میں اپنی طرف سے احتجا جی پروگرام پیش کرنے کے لئے ایک پریس کانفرنس بلائی ۔ لیکن حکومت نے اخباری نمائندوں کو وہاں پہنچنے نہ دیا ۔جس پر انہوں نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے 13ستمبر کو واقعے کے خلاف احتجاج کے اظہار کے لئے یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ۔ البتہ سید علی گیلانی نے ایک بار پھر دوروزہ ہڑتال کی کال دی ۔ اسی طرح مین سٹریم جماعتوں نے بھی شوپیان ہلاکتوں کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا ۔کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور ایم ایل اے کولگام یوسف تاریگامی نے اس کو حکومت کی ناکامی قرار دیا اور وزیراعلیٰ کو عوام سے معافی مانگنے کے لئے کہا ۔ ایک اور آزاد امید وارانجینئر رشید نے سیکٹریٹ کے سامنے دھرنا دے کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا ۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے لاچوک میں جلسہ کرکے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ حکومت نے سیکورٹی فورسز کو کشمیریوں کو ہلاک کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایسا جان بوجھ کر کررہی ہے تاکہ آنے والے انتخابات میں لوگ بائیکاٹ کرکے ووٹ ڈالنے سے دور رہیں اور نیشنل کانفرنس الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوجائے ۔ غرض کہ شوپیان ہلاکتوں پر سیاسی حلقوں کے درمیان الفاظ کی جنگ جاری ہے ۔