خبریں

کشمیر پرتاریخی سمجھوتہ نہ ہو سکا

کشمیر پرتاریخی سمجھوتہ نہ ہو سکا

آئندہ چار مہینوں کے اندر پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم ہند ڈاکٹر منموہن سنگھ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کواقتدار سے ہٹائے جا نے کے باعث بھارت اور پاکستان کے درمیان جموں وکشمیر کے معاملے پر ایک تاریخی سمجھوتہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ منموہن سنگھ نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اس عہدے کیلئے موزون امیدوار ہیں تاہم نریندر مودی کا وزیر اعظم بننا ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔منموہن سنگھ نے نئی دلی میں پریس انفارمیشن بیورو کے نو تعمیر شدہ نیشنل میڈیا سنٹر میں اپنے دورِ اقتدار کے 10برسوں میں تیسری جبکہ گذشتہ3برسوں میں پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور مرکز میں یو پی اے حکومت کے دوسرے دور کے اختتام سے قبل سرکار کی مجموعی کارکردگی کا خاکہ پیش کیا۔ اس موقعہ پر انہوں نے ’’ترقی اور نشونما کے دس سال ‘‘کے عنوان سے یو پی اے حکومت کی دس سالہ رپورٹ کارڈ بھی جاری کیا۔ وزیر اعظم سے جب ہند پاک تعلقات اور ان کے ممکنہ دورہ پاکستان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ چار ماہ کے دوران یعنی یو پی اے حکومت کی مدت مکمل ہونے سے قبل پاکستان کا دورہ کریں گے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الوقت ان کے دورہ پاکستان کے لئے صورتحال ساز گار نہیں ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ انہوں نے بحیثیت وزیر اعظم گذشتہ دس سال کے دوران کبھی پاکستان کا دورہ کیوں نہیں کیا؟ ڈاکٹر سنگھ نے کہا ’’میں چاہتا ہوں کہ میں پاکستان جاؤں ، میں اس گاؤں میں پیدا ہوا تھا جو اب مغربی پاکستان کا حصہ ہے لیکن ملک کا وزیر اعظم ہونے کی حیثیت سے مجھے اْس وقت پاکستان جانا چاہئے جب کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل کرنے کیلئے حالات ساز گار ہوں‘‘۔ وزیر اعظم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’میں نے اس کے بارے میں کئی بار سوچا لیکن بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میرے د ورے کیلئے حالات ساز گار نہیں ہیں، میں نے اب بھی اس امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے کہ میں وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنی مدت مکمل کرنے سے قبل پاکستان جاؤں‘‘۔ اس موقعہ پر ایک صحافی نے ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ان میڈیا رپورٹوں کے بارے میں پوچھا جن کے مطابق بھارت اور پاکستان جموں کشمیر کے بارے میں ایک تاریخی سمجھوتہ کرنے کے قریب تر پہنچ گئے تھے، تو وزیر اعظم نے جواب میں کہا ’’ میں نے ہمیشہ اور اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے، ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ ایک اہم پیشرفت نظر آرہی تھی‘‘۔