سرورق مضمون

کشمیر پر خفیہ مذاکرات کا انکشاف
کووڈ 19 کااثر ، جموں سے سرینگر دربار منتقلی ملتوی

کشمیر پر خفیہ مذاکرات کا انکشاف<br>کووڈ 19 کااثر ، جموں سے سرینگر دربار منتقلی ملتوی

سرینگر ٹوڈےڈیسک
ایک معتبر خبر رساں ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کشمیر پر حال ہی میں مذاکرات ہوئے ہیں ۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس حوالے سے کہا کہ اسے دبئی میں دونوں ملکوں کے انٹلی جنس حکام کے درمیان ہوئی بات چیت کا پتہ چلا ہے ۔ اس بات چیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کشمیر کا موضوع زیربحث رہاہے ۔ یہ بڑی اطلاع مانی جاتی ہے ۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی دونوں ملکوں کے درمیان ٹریک ٹو مذاکرات کا حوالہ دیا گیا تھا ۔ تاہم دبئی میں ہوئے مذاکرات کو اس حوالے سے بہت ہی اہمیت دی جاتی ہے ۔ ٹریک ٹو مذاکرات کو غیرسرکاری مذاکرات کہا جاتا تھا ۔ لیکن رائٹرز نے جو انکشاف کیا ہے اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ دبئی مذاکرات کو دونوں ملکوں کے انٹلی جنس اداروں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ مذاکرات کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ہند وپاک کے وزراء اعظم کے سلامتی کے مشیروں کا آشیرواد حاصل رہاہے ۔ بات چیت کو بڑا ہی حوصلہ افزا ماناجاتا ہے ۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں کہا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حائل بہت سے اسپیڈ بریکر ہٹائے گئے ۔ بلکہ کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں نے حال ہی میں باہمی اعتماد کے جو قدم اٹھائے وہ انہی خفیہ مذاکرات کا نتیجہ ہیں ۔ خاص طور سے سرحد کے آرپار گولہ باری روکنے کا جو اعلان کیا گیا وہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے ۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مذاکرات 2018 سے جاری ہیں ۔ تاہم پلوامہ حملے نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک وسیع خلیج پیدا کیا ۔ یہاں تک کہ پورے برصغیر میں جنگ کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس دوران ہندوستان کی طرف سے اسٹرائیک کا واقعہ پیش آیا جس کے جواب میں پاکستان نے حملہ آور بھارتی جہاز کو گرانے کے علاوہ اس کے پائلٹ ابھینندن کو اپنی تحویل میں لیا ۔ ابھینندن کو بعد میں خیرسگالی کے ایک بڑے اقدام کے طور رہا کیا گیا ۔ اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ختم نہ ہوئی ۔ اگرچہ بعد میں دونوں ملکوں نے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا تاہم تعلقات میں کشیدگی برقرار رہی ۔ یہاں تک کہ دونوں ملکوں کے فوجی کمانڈروں نے ملاقات کرکے سرحدوں پر امن بحال کرنے کا اعلان کیا ۔ اس اعلان سے سرحدی علاقوں میں سکون و راحت محسوس کی گئی ۔ اس کے بعد آر پار حالات میں بہت حد تک نرمی محسوس کی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دبئی میں ہوئے مذاکرات کی وجہ سے ممکن ہوسکا ۔ جنوری میں ہوئے ان مذاکرات کے نتیجے میں مبینہ طور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے قریب آنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اگرچہ ابھی تک سفارتی سطح پر کوئی خاص پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے ۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ بھارتی وزیراعظم بہت جلد اسلام آباد جائیں گے جہاں وہ مجوزہ سارک کانفرنس میں شرکت کریں گے ۔ بھارت کی طرف سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے حلقے امکان ظاہر کررہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے سربراہ عنقریب ایک دوسرے سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ حالات میں اس وقت ایک بار پھر دوری پیدا ہوگئی جب پاکستان کابینہ نے اس خبر کی تردید کی کہ بھار ت سے کھانڈ اور چائے برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ایک کابینہ درجے کے وزیرکے اس انکشاف کو بڑے پیمانے پر تشہیر ملی ۔ پاکستان کی حکومت کو اس کے ردعمل میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے بعد وہاں کی کابینہ کی طرف سے کئے گئے اس فیصلے کی خبر سامنے آئی کہ جب تک کشمیر کے خصوصی درجے کو دوبارہ بحال نہیں کیا جائے گا دہلی کے ساتھ تجارت کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ اسلام آباد کی طرف سے کئے گئے اس اعلان سے کہا جاتا ہے کہ مذاکرات پر ایک بار پھر اوس پڑگئی ۔ خفیہ مذاکرات کے نتیجے میں دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آئیں گے ابھی تک اس بارے میں سرکاری طور کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔ تاہم ان ملکوں کے درمیان تعلقات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ باہمی اعتماد سازی کے جو تازہ اقدامات کئے گئے وہ بلا وجہ قرار نہیں دئے جاسکتے ہیں ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملک بہت جلد سفارتی سطح کے مذاکرات کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ ادھر کورونا وائرس کی جو نئی لہر شروع ہوئی ہے اس سے لگتا ہے کہ دوڑ دھوپ ایک بار پھر اثر انداز ہوسکتی ہے ۔ اس کا اثر ہند وپاک کے درمیان ہورہی سفارتی کوششوں پر بھی پڑسکتا ہے ۔ بہت جلد معلوم ہوگا کہ دونوں طرف کے مذاکرات کار کس نتیجے تک پہنچے ہیں ۔
کورونا وائرس کی تازہ لہر نے پچھلے سال سے زیادہ شدت اختیار کی ہے ۔پچھلے دوسالوں میں پہلی بار کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی ۔ ملک بھر میں اس وجہ سے سخت تذبذب پایا جاتا ہے ۔ پچھلے سال مارچ سے کورونا کا رونا ہر جگہ رویا جاتا ہے۔ طویل لاک ڈاون کے باوجود سرکاری ا دارے کورونا وائرس کو قابو میں کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔ اگرچہ دو طرح کے ویکسین تیار کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ فرنٹ لائن ورکروں کے علاوہ معمر افراد کی ایک بڑی تعداد کو ویکسین دی گئی ۔ اس کے باوجود پورے ملک میں اس کا قہر جاری ہے اور یہ لہر کہیں رکنے کا نام نہیں لیتی۔ تیزی سے لوگ اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں ۔اس وجہ سے ہر علاقے میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ مہاراشٹر سرکار نے پہلے دو ہفتوں کے لئے لاک ڈاون طرز کی بندشیں نافذ کی ہیں۔ ریاست میں وبائی صورتحال نے سخت کڑا رخ اختیار کیا ۔ مہاراشٹر کی ریاستی سرکار الزام لگارہی ہے کہ مرکزی سرکار نے ضرورت کے مطابق ویکسین فراہم نہیں ۔ ریاستی سرکار کے سربراہ نے اس بات پر سخت حیرانگی کا اظہار کیا کہ دنیا کے دوسرے ملکوں کو دہلی کی طرف سے ویکسین فراہم کئے جاتے ہیں ۔ لیکن اپنے ملک کے لئے اس طرح کے ٹیکوں کی سخت کمی محسوس کی جارہی ہے ۔
جموں کشمیر میں پچھلے کئی روز سے وائرس متاثرین کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ رہی ہے ۔ اس کے نتیجے میں سرکار نے تمام تعلیمی ادارے بند کئے اور امتحانات بھی موخر کرنے کا اعلان کیا۔ ایک بار پھر دربار منتقلی موخر کی گئی ۔ جموں سے سرینگر دربار منتقل کرنے پر روک لگاتے ہوئے کہا گیا کہ ملازمین کو جموں سے سرینگر یا سرینگر سے جموں آنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ تاہم دونوں صوبوں میں سیکریٹریٹ معمول کے مطابق کام کرے گا ۔ اسی طرح مسجدوں میں نمازیوں کے نزدیک نہ آنے کا مشورہ دیا گیا۔ عوام کو فیس ماسک لگانا ضروری قرار دیا گیا ۔ طبی ماہرین نے نئے حدود کا اعلان کیا ہے ۔ اگرچہ ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے ۔ تاہم کورونا کی جاری لہر نے ایک بار پھر لوگوں کے اندر خوف وہراس پھیلا دیا ہے ۔