خبریں

کشمیر پر پیش رفت ہوئی تھی، ممبئی حملوں نے پانی پھیر دیا

کشمیر پر پیش رفت ہوئی تھی، ممبئی حملوں نے پانی پھیر دیا

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ کنٹرول لائن کوغیر متعلق بنانے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ مشاورتی میکانزم قائم کرنے سے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی جانب پیش رفت ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر سنگھ نے پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے دور حکومت میں کشمیر کو لیکر پاکستان کے ساتھ پس پردہ بات چیت میں قابل ذکرپیشرفت حاصل کی گئی تھی لیکن ممبئی حملوں نے سب کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔
ایک انٹر ویو میں سابق وزیر اعظم کاٹریک ٹو بات چیت کے حوالے سے کہنا تھاکبھی یہ کام کرتی تھی اور کبھی نہیں!لیکن ہم ایسا نہیں کہہ سکتے کہ خطے کی ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود ہم پاکستان کے ساتھ نہیں نمٹ سکتے۔ جنرل پرویز مشرف کے کشمیر کے بارے میں چار نکاتی فارمولہ جس پر دونوں ملک کام کررہے تھے، کے تعلق سے منموہن سنگھ نے پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا کہ کشمیر کو لیکر پاکستان کے ساتھ پس پردہ بات چیت میں قابل ذکر پیشرفت ہوئی تھی۔ان کا کہنا تھا’’سابق صدر پرویز مشرف نے اس بارے میں لکھا بھی ہے لیکن میں یہ نہیں کہتا کہ میں اس کی تائید کرتا ہوں، جی ہاں! بیک چینل بات چیت ہورہی تھی اور درست سمت میں جاری تھی ، مقصد تھا کہ ہند پاک تعلقات کو معمول پر لایا جائے اور مسئلہ کشمیر حل ہو، اس مسئلے کو شملہ کانفرنس میں تسلیم کیا گیا ہے اور یہ دونوں ملکوں کی ذمہ داری ہے ، جموں کشمیر کے بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ سرحدوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور جب سرحدیں تبدیل نہیں کی جاسکتی تو مسئلے کو حل کرنے کیلئے ایسے راستے تلاش کئے جائیں جو جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان کیلئے اطمینان بخش ہوں‘‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ سرحدیں تبدیل نہ ہونے کی صورت میں کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان لائن آف کنٹرول کا کیا ہوگا؟ ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا’’لائن آف کنٹرول وہیں رہے گی، ہم از سر نو اس کی نشاندہی نہیں کرسکتے لیکن ہم جموں کشمیر میں حالات کو معمول پر لاکر ایک ایسا ماحول قائم کرسکتے ہیں کہ یہ لائن عملی طور غیر متعلق بن جائے ، جیسا کہ میں نے تصور کیا تھا کہ دونوں طرف کے لوگوں کو نہ صرف اِدھر اْدھر سفر و تجارت کرنے اور گھومنے پھرنے کی آزادی حاصل ہو بلکہ عام مسائل حل کرنے اوردریاؤں اور ماحولیات جیسے مشترکہ شعبوں کیلئے ایک مشترکہ مشاورتی میکانزم مرتب کیا جائے جس میں دونوں طرف کے نمائندے شامل ہوں‘‘۔اس سوال کے جواب میں کہ یہ اٹل بہاری واجپائی کے نظریہ سے مماثلت رکھتا ہے؟ڈاکٹر سنگھ نے کہا’’میں نے اس عمل کو آگے بڑھایا تھا،مجھے لگتا ہے کہ قابل ذکر پیشرفت بھی ہوئی تھی لیکن ممبئی حملے اس عمل کو آگے بڑھانے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے ، جہاں تک مودی سرکار کا تعلق ہے، میں انہیں نصیحت نہیں دے سکتا لیکن اس بات کا فیصلہ ان کو ہی کرنا ہوگا کہ کیا وہ گزشتہ18ماہ کی طرح ہی پاکستان کے ساتھ نمٹنے کا سلسلہ جاری رکھے گی؟‘‘ ڈاکٹر سنگھ نے کہا ’’یقیناًمیں ایسا نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہماری حکومت کا پاکستان کے ساتھ رشتہ مسائل سے خالی نہیں تھا، میرے خیال میں دہشت گردی پر قابو پانا ہماری بنیادی تشویش ہے، پاکستان نے اس ضمن میں وعدے کئے لیکن ان کو پورا نہیں کیا، اس لئے یہ مسئلہ ختم نہیں ہوا ، سوال یہ ہے کہ مودی حکومت کس طرح کا رد عمل ظاہر کررہی ہے؟آپ کا پاکستان کے بارے میں جو بھی خیال ہو لیکن ہمیں اسے بات چیت میں مصروف رکھنا ہے ، وہ ہمارے پڑوسی ہیں ، ہم اپنے دوستوں کا انتخاب تو کرسکتے ہیں مگر پڑوسیوں کا نہیں!‘‘۔اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا’’ مودی سرکار کا تسلسل برقرار نہیں ہے، انہوں(مودی) نے نواز شریف کو حلف برداری میں شرکت کی دعوت دیکر ایک اچھا اقدام اٹھایالیکن اس اقدام سے فوائد حاصل نہیں کئے گئے کیونکہ مرکز نے اس بات کی شرط عائد کی کہ پاکستانی حکومت کو حریت کے ساتھ بات نہیں کرنی چاہئے اور نتیجے کے طور پر مذاکرات منسوخ ہوئے‘‘۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مرکزاور بی جے پی کو مشورہ دیا کہ وہ جموں کشمیر میں ایسا مناسب ماحول تیار کریں جس میں پی ڈی پی کو بھاجپا کے ساتھ اپنا رشتہ آگے بڑھانے میں مشکل پیش نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی بے صبری کے ساتھ حکومت میں شامل ہونا چاہتی ہے لیکن اسے یہ فکر بھی دامن گیر ہے کہ ایسا کرکے پارٹی کو عوامی اعتماد سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔جب ان سے ریاست کے حالات پر تبصرہ کرنے کیلئے کہا گیا، تو انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے ، اس کیلئے پی ڈی پی اور بی جے پی مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں جبکہ کسی نہ کسی طرح مرکزی سرکار بھی ریاستی عوام میں اعتماد بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ڈاکٹر سنگھ کا کہنا تھا’’میرے خیال میں پی ڈی پی میں اب اس حقیت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ ان کے اشتراک کو عام کشمیریوں کی حمایت حاصل نہیں ہے،وہ حکومت میں شامل تو ہونا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس بات کی فکر لاحق ہے کہ انہیں عوامی اعتماد سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے، یہ ایک قلیل مدتی رشتہ ہوسکتا ہے اور طویل مدتی اعتبار سے ان کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا، لہٰذا میرا ماننا ہے کہ یہ مرکزی سرکار اور بھاجپا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ایسا مناسب ماحول تیار کریں جس میں پی ڈی پی کو بھاجپا کے ساتھ اپنا رشتہ آگے بڑھانے میں کوئی مشکل نہ ہو‘‘۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو صلاح دینے کے بارے میں پوچھے جانے پر سابق وزیر اعظم نے کہا’’مجھے پی ڈی پی اور بی جے پی کے مابین رشتوں کی نوعیت کا کوئی علم نہیں ہے ، لیکن یہ نہ صرف دونوں پارٹیوں بلکہ ریاستی اور ملکی عوام کے مفاد میں ہوگا کہ ریاست میں اچھی طرح چلنے والی حکومت ہو اور اسے احسن طریقے سے چلانے کیلئے جو کچھ کیا جاسکتا ہے، کیاجائے‘‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ مرکزی سرکار کو کشمیری علیحدگی پسندوں کے ساتھ کس طرح سے نمٹنا چاہئے ؟ڈاکٹر سنگھ نے کہا’’مسئلہ یہ ہے کہ حریت کا وجودقائم ہے ، کیا یہ جموں کشمیر کے عوام کی واحد نمائندہ تنظیم ہے؟اس پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے،ہم یقیناًاس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ حریت ہی وہ واحد فورم ہے جو جموں کشمیر سے جڑے مسائل کے ساتھ ڈیل کرسکتی ہے، لیکن ان کے ساتھ بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں، سابقہ حکومتوں، اٹل جی کی حکومت نے ان کے ساتھ بات کی، ہم نے ان سے مذاکرات کئے اور ہمارا موقف یہ ہے کہ حریت کو پاکستان کے بجائے ہم سے بات چیت کرنی چاہئے ، لہٰذا جموں کشمیر کے ساتھ تعلقات سے نمٹنے کیلئے جس حساسیت کی ضرورت ہے ، وہ مودی سرکار میں کہیں نظر نہیں آرہا ہے‘‘۔