سرورق مضمون

کشمیر پولنگ: اٹھائیس فیصد ووٹنگ/ ایک ہلاک، ہزاروں گرفتار، حالات مخدوش

کشمیر پولنگ: اٹھائیس فیصد ووٹنگ/ ایک ہلاک، ہزاروں گرفتار، حالات مخدوش

ڈیسک رپورٹ
30 اپریل کو سرینگر کی پارلیمانی نشست کے لئے ووٹنگ ہوئی۔ یہ نشست سرینگر ، گا ندربل اور بڈگام اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس نشست پر سولہ امیدوار اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔ البتہ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ این سی اور پی ڈی پی امیدواروں کے درمیان اصل مقابلہ ہے۔ دونوں پارٹیاں الیکشن جیت جانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ تاہم وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ اس حوالے سے منظر نامہ بہت ہی مخدوش ہے ۔ کم ووٹ پڑنے اور بیشتر ووٹروں کا بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے کئی حلقے این سے کی جیت کا امکان ظاہر کررہے ہیں۔ اب تک کا تجربہ یہی ہے کہ این سی بائیکاٹ کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوتی ہے اور دوسرے امیدواروں کو اس وجہ سے نقصان ہوتا ہے ۔ البتہ اس سال کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ ووٹروں کا موڑ مختلف ہے اور این سی حمایتیوں کے بجائے پی ڈی پی کے ہمدردوں نے ووٹنگ میں زیادہ حصہ لیا ۔ ووٹر یہ جان چکے ہیں کہ ان کے بائیکاٹ سے اپوزیشن کو نقصان ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ماضی کی نسبت اس بار ووٹ ڈالنے میں پہل کی اور اپنے امیدوار کو کامیاب بنانے کے لئے بائیکاٹ کال پر کان نہیں دھرا۔ اگر چہ اس رائے کے ساتھ زیادہ لوگ اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ تاہم ایسا پہلی بار سننے میں آیا ہے کہ بائیکاٹ کی وجہ سے پی ڈی پی کی جیت کے بھی اتنے ہی امکانات ہیں جس قدر این سی امیدوار کی کامیابی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سرینگر نشست پر کانٹے کا مقابلہ ہونے کا امکان بتارہے ہیں ۔
سرینگر میں ووٹنگ کے اختتام پر الیکشن کمشنر کی طرف سے جو بیان دیا گیا اس سے ظاہر ہے کہ حلقے میں مجموعی طور بائیکاٹ زیادہ سخت رہا۔ اس سے پہلے جنوبی کشمیر کی واحد نشست پر انتخاب ہو ا جہاں اٹھائیس فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے ۔ یہاں پولنگ کے روز بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا اور پولنگ کے اختتام پر علاقے میں جنگ کا سماں نظر آیا تھا ۔ قریب قریب ہر پولنگ اسٹیشن پر نوجوانوں نے دھاوا بول دیا اور پولنگ عملے پر سنگ باری کی گئی ۔ اس کو دیکھ کر انتظامیہ نے الیکشن سے ایک روز پہلے ہی سرینگر کے چولے کس لئے اور چھ سو سے لے کر ایک ہزار تک نوجوانوں کو احتیاط کے طور گرفتار کیا ۔ ان نوجوانوں پر الزام لگا یا گیا کہ یہ اس سے پہلے سنگ باری میں ملوث رہے ہیں اور خطرہ ہے کہ یہ پولنگ کے روز گڑ بڑ کریں گے ۔ اس بنیاد پر انہیں مقامی تھانوں میں بند رکھا گیا ۔ اس کے علاوہ جنوبی کشمیر میں بھی گرفتاریوں کا چکر چلایا گیا اور فیس بُک چلانے والے ایک سو کے لگ بھگ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔ بھاری پیمانے پر سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ۔ اس وجہ سے سرینگر میں ہوکا عالم تھا اور پولنگ کے روز پورا کشمیر سنسان دکھائی دیتا تھا۔ چرا ر شریف اورکنگن علاقوں کو چھوڑ کر بیشتر جگہوں پرلوگوں نے علاحدگی پسندوں کی کال پر الیکشن میں حصہ نہیں لیا اور کم لوگوں نے ووٹ ڈالے ۔سب سے کم ووٹ حبہ کدل میں ڈالے گئے ۔یہ علاقہ کشمیر میں عسکری تحریک شروع ہونے سے پہلے کشمیری پنڈتوں کی رہائش کا علاقہ تھا ۔ ان کے کشمیر چھوڑ کر چلے جانے کے بعد یہاں ووٹروں کی تعداد کم ہوگئی ۔ جو ووٹر یہاں رہائش پذیر ہیں ان میں سے بہت کم لوگوں نے ووٹ ڈالا ۔ پورے سرینگر علاقے میں گیارہ فیصد لوگوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ جبکہ بڈگام میں انتالیس فیصد اور گاندربل میں چھیالیس فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالا ۔ جموں ، اودھمپور اور نئی دہلی میں مہاجر پنڈتوں کے لئے قائم کئے گئے پولنگ بوتھوں پر ڈھائی ہزار ووٹ ڈالے گئے ۔ پولنگ کے روز شام کو نواکدل میں سیکورٹی عملے نے احتجاج کرنے والے ایک ہجوم پر گولی چلائی جس سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔ اس وجہ سے پورے شہر میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ اس پر جمعرات کو علاحدگی پسندوں کی کال پر پوری وادی میں ہڑتال کی گئی جبکہ شہر کے کئی علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو لگایا گیا ۔ جمعہ کو ایک بار پھر شہری علاقوں میں بندشیں لگاکر لوگوں کی نقل و حمل محدود کی گئی ۔ ابھی بارہمولہ سیٹ کے لئے الیکشن ہونا باقی ہے ۔ اس وجہ سے حکومت حالات قابو میں رکھنے کی کوشش کررہی ہے ۔ لیکن حالات اطمینان بخش نظر نہیں آتے ہیں ۔