خبریں

کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا ،ہے نہ رہے گا/مزاحمتی خیمے

کشمیر کبھی بھارت کا حصہ تھا ،ہے نہ رہے گا/مزاحمتی خیمے

مزاحمتی خیمے نے مرکزی وزیر خزانہ ارن جیٹلی کے کشمیر سے متعلق دئیے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا جبکہ کشمیر کا متنازعہ مسئلہ فوجی قوت کے استعمال کرنے سے ختم نہیں ہوسکتا۔حریت کے دونوں دھڑوں کے علاوہ،لبریشن فرنٹ ،جماعت اسلامی،فریڈم پارٹی،دختران ملت،بار ایسو سی ایشن، محاذ آزادی اور دیگر علیحدگی جماعتوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر اور اس ریاست میں ہو رہے انتخابی عمل کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔
حریت(گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے تنازعہ کشمیر سے متعلق بیان کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موصوف نے جموں کشمیر سے متعلق حقایق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش میں غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہا ہے اور نہ اس مسئلہ سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انکار یا فرار ممکن ہے۔انھوں نے ارون جیٹلی کو تاریخ کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے خود تسلیم کیاہے کہ جموں کشمیر کے عوام کوبین الاقوامی نگرانی میں اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا جائے گا اور اس سلسلے میں بھارت ،پاکستان سمیت دنیا کے سبھی ممبر ممالک نے دستخط کئے ہیںلیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اس مسئلہ کو حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہورہی ہے۔انھوں نے ارون جیٹلی کے بیان کو حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا انکار کرکے حقائق تبدیل نہیں کئے جاسکتے اور دنیا کے حالات میں کئی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ان قرادادوں کی اہمیت مسلم ہے اور یہ کہ اْس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ میں اس مسئلہ کو لے کر وعدہ کیا کہ ریاست میں حالات نارمل ہونے کے ساتھ ہی لوگوں سے کیا ہواوعدہ پورا کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کشمیر کا الحاق ہی متنازعہ رہاہے اور حق یہ ہے کہ بھارت نے ااکتوبر 1947میں کشمیر میں داخل ہوکر اس پر اپنا قبضہ جمایا ہے۔ گیلانی نے کہا جموں کشمیر کا متنازعہ مسئلہ فوجی قوت کے استعمال کرنے سے ختم نہیں ہوسکتا ہے،اس کے لیے آسان، جمہوری اور قابل قبول حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری کے ذریعے ہی ممکن ہے اور ریاست کی اکثریت رائے شماری کی صورت میں جو بھی فیصلہ کرے گی وہ سب کو تسلیم ہونا چاہیے۔
حریت(ع) نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے جموںوکشمیر سے متعلق دئے گئے بیان کو ریاست کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت سے جڑے تاریخی اور سیاسی حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور اس ریاست میں ہو رہے انتخابی عمل کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ محض انتظامی امورات کی عمل آوری کیلئے جموںوکشمیرمیں یہ لاحاصل عمل ہر دور میں دہرایا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود نہ اس ریاست کی متنازعہ حیثیت متاثر ہوئی ہے اور نہ جموںوکشمیر کے تنازع کے حوالے سے اقوام متحدہ کی پاس کی گئی قراردادیں غیر موثر ثابت ہو ئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی قیادت کی جانب سے بالادستی اور شدت پسندی پر مبنی سوچ کشمیری عوام نے نہ تب قبول کی جب یہاں ووٹ نہ ڈالنے کے باوجود اس کی شرح سو فیصد دکھا کر بھارت کی قیادت نے اپنی من پسند سرکار کو کشمیریوں پر مسلط کیا اور نہ اب قبول کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ جموںوکشمیر کی متنازعہ حیثیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی واضح قرارداد موجود ہے کہ یہاں انتخابی عمل کسی بھی طور اس خطے کی متنازعہ حیثیت پر اثر انداز نہیں ہوسکتا اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کے عوام نے انتخابی عمل کا حصہ بن کر اپنی مبنی برحق جدوجہد کے دستبرداری اختیار کی ہے۔بیان کے مطابق 1987کے انتخابات جس میں بھارت کی قیادت نے 75% شرح فیصد پولنگ اور پھر2008 میں 65% شرح پولنگ کا دعویٰ کیا تھا کے انتخابی عمل ان کے لئے چشم کشا ہیں کہ 1987 میں انتخابی عمل کے بعد کتنی شدت کے ساتھ مزاحمتی تحریک نے جنم لیا اور 2008 اور 2010کی فقید المثال عوامی تحریکیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام من حیث القوم کسی بھی طور بھارت کی بالادستی کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
لبریشن فرنٹ کے محمد یاسین ملک نے جیٹلی کے بیان کو مضحکہ خیز اور ایک ناواقف سیاست دان کا بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عرصہ دراز سے بھارتی قائدین اور سیاست کاروں کے ایسے بیانات سنتے آئے ہیں لیکن ان بیانات سے نا ہی ماضی میں مسئلہ جموں کشمیر کی حقیقت بدلی جاسکی ہے اور نا ہی مستقبل میں ایسا کچھ ہوگا۔اور نہ ہی ان بیانات سے برصغیر پند پاک کے خرمن امن کو تباہ کرنے کیلئے کافی اس خطرناک مسئلے کے حل کیلئے کاوشیں اختتام پذیر ہوسکتی ہیں۔ یاسین ملک نے کہا کہ طاقت کے نشے میںمست سویت یونین جیسی عالمی طاقت کو بھی ٹوٹ کر کئی نئے ممالک کو جنم دینا پڑا تھا اور حق یہ ہے کہ محض ۱۹۹۰ئسے ہی دنیا میں قریب ۳۴ نئے ممالک نے جنم لیکر دنیا کے سیاسی اور جغرافیائی نقشے میں ردوبدل کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے اس بیان جس میں انہوں نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر سرحدوں کو ناقابل تبدیل جتلایا ہے، کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے، مسئلہ کشمیر کے متعلق اپنے اس موقف کو دہراتی ہے کہ یہ مسئلہ ہنوز حل طلب ہے اور جب تک اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں پاس شدہ قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کے استصواب رائے کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا تب تک جنوبی ایشیا کے اس عظیم خطے میں پائیدار امن کا قائم ہونا محال ہے۔ترجمان کے مطابق سرحدیں انسانوں کی قائم کردہ ہیں اور تبدیلیاں ان کی فطرت ہے خاص کر جہاں طاقت کے بل پر کسی لکیر کو سرحد کا نام دے کر، متعلقہ عوام کے حقوق کو غصب کیا جائے نیز اسمبلی یا پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے اس مسئلے کی نوعیت پر کوئی اثر ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس قسم کا کوئی عمل سیاسی مستقبل سے متعلق عوامی استصواب رائے کا نعم البدل ہو سکتا ہے۔
شبیر احمد شاہ کی قیادت والی فر یڈم پارٹی نے مسئلہ کشمیر اور روان انتخابی عمل کے سلسلے میں ارون جیٹلی کے بیان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بھارت ہٹ دھرمی اور طاقت کے نشے میں حقائق کا ا نکار کررہا ہے۔
دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے اپنے ایک بیان میں جیٹلی کے بیان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے
بار ایسو سی ایشن نے بھی مرکزی وزیر خزانہ ارن جیٹلی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ارن جیٹلی جیسے لیڈروں کو مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت سے متعلق کچھ خبر ہی نہیں ہے
محاذ آزدی کے سر پرست محمد اعظم انقلابی نے وزیر خزانہ اورن جیٹلی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنڈت نہرو نے وزیر اعظم ہند کی حیثیت11 نومبر کو لال چوک سرینگر میں ہزاروں لوگوں کے درمیان اعلان کیا کہ ہم کشمیر پر فوجی قبضہ جمانے نہیں آئے ہیں جمہوری ملک کی حیثیت سے ہم کشمیر یوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ انہیں ریفرنڈم اور راج شماری کی ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کو موقع دیا جائے گا ۔