مضامین

کشمیر ی بندوق اٹھائے یاپتھر ذمہ دار ی ہندوستانی حکومت پر

رکن پارلیمنٹ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہاہے کہ اگر جموں کشمیر میں ایک نوجوان پتھر یا بندوق اٹھاتاہے تواس کی ذمہ داری پاکستانی حکومت پر نہیں بلکہ ہندوستانی حکومت پر عائد ہوگی۔جموں میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا’’دونوں ممالک کی قیادت ،خاص کر میں مودی حکومت سے کہناچاہتی ہوںکہ اگر جموں کشمیر میں ایک 14سالہ بچہ پتھر اٹھاتاہے ،یا 22سالہ نوجوان جس نے بی اے اور ایم اے کررکھاہے ، بندوق اٹھاتاہے تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے نہ کہ پاکستان کی‘‘۔پی ڈی پی صدر نے کہاکہ یہ حکومت ہند کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے عوام کو درپیش مسائل حل کرے۔ محبوبہ مفتی کاکہناتھا’’آپ کو ہمیں ہمارے دکھ ، ہمارے درد اور ہماری غربت سے باہر نکالناہوگا،ہمارے وزیر اعظم اور ہماری سیاسی جماعتوں کو ہمارے مسائل حل کرنے ہوںگے ، انہیں سوچناہوگاکہ کیوں ایک بی اے پاس نوجوان نے 2010اور2014میں بندوق اٹھائی ، وہ بندوق کے ساتھ پیدا نہیں ہوا، اگر ایک 14سالہ بچہ پتھر اٹھاتاہے تو کیا ہم اسے گولی دیںگے ، کیا آپ اس پر بندوق سے فائر کریںگے ‘‘۔ان کاکہناتھاکہ سرحدی علاقوں میں رہ رہے لوگوں کو بہتر سڑک رابطوں ، اچھے سکولوں اور معقول طبی سہولیات کی ضرورت ہے لیکن آزادی کے ستر سال کے بعدبھی یہ لوگ اپنی زندگی کی حفاظت کیلئے بنکروں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ جنگ کوئی متبادل نہیںکیونکہ پاکستان کیساتھ ہونے والی جنگ کے نتیجہ میں دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں کااستعمال کریںگے جو پورے خطے کیلئے مہلک ثابت ہوگا۔پی ڈی پی صدر نے خطے میں امن قائم کرنے کیلئے ہندوستان اورپاکستان پرمذاکرات بحال کرنے پرزوردیتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کاشدت پسندی کی طرف مائل ہونااورسرحدوں پرعام شہریوں کی ہلاکت باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں وزراء عظم کو چند قدم ایک دوسرے کی طرف بڑھا کر خطے میں امن بحالی کیلئے مذاکرات کی راہ پرلوٹ آناچاہیے۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ آخرکب تک یوں ہی خون بہتارہے گا اورکب تک سرحدی لوگ فائرنگ اورگولہ باری سے دوچاررہیں گے جبکہ ہندوستان اورپاکستان سرحدوں پربندوقوں کوخاموش نہیں کرتے۔پی ڈی پی صدرنے کہاکہ سرحدوں پر ہر تیسرے روزسیزفائرخلاف ورزیوں کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں تلف ہورہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ وقت سرحدی لوگوں کوہسپتال، سکول،سڑکوں کی بہترسہولیات فراہم کر نے نہ کہ سرحدوں پر کشیدگی پیدا کر کے اپنے شہریوں کے مسائل میں اضافہ کر نے کا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ آخرہندوستان اورپاکستانی کتنی اورجنگیں لڑیں گے اورکیاحاصل کریں گے جبکہ اس سے دونوں اطراف صرف غریب عوام کاقتل عام ہی ہوگااور انسانی جانیں ہی تلف ہوں گی۔محبوبہ مفتی نے ایک ٹی وی چینل کوبھی آئی ایس آئی ایس اورپاکستانی جھنڈالہرانے کا خبر کو بڑھا چڑھا پیش کر کے کشمیرکی تصویربگاڑنے پرہدف تنقیدبنایا۔انہوں نے کہاکہ رواں سال 20ہزارلوگوں نے کشمیرمیں 15 اگست کی تقریب میں شرکت کی جواس بات کاثبوت ہے کہ وادی کے لوگ ملک دشمن نہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگرچہ وہ بھی مانتی ہیں کہ پاکستان اورآئی ایس آئی ایس کاجھنڈالہراناقابل تشویش ہے مگرایسی سرگرمیوں میں مفادپرست عناصرملوث ہیں۔انہوں نے کہاکہ وادی میں پی ڈی پی۔بھاجپاحکومت قائم ہونے سے امن بحال ہوچکاہے۔پی ڈی پی صدرمحبوبہ نے بھاجپاقیادت والی مرکزی حکومت کوبھی گذشتہ دوماہ سے احتجاج پر بیٹھے سابق فوجیوںکے مسئلے کونہ سلجھانے پرتنقیدکانشانہ بنایا۔ محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس اورکانگریس کو ہدف تنقیدبناتے ہوئے کہاکہ سابق حکومت کے وزراء نے ریاستی اورمرکزی سکیموں کے ٹھیکیداربن کرلوٹ کھسوٹ مچارکھی تھی۔انہوں نے کہاکہ مفتی محمدسعیدکے وزارت عظمیٰ کاعہدہ سنبھالنے کے بعد پتہ چلاکہ وادی میں تعلیمی نظام کس قدرزبوں حالی کاشکارہوچکاہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں امن اورترقی پی ڈی پی کاایجنڈہ ہے۔