مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۲۲)
ابھی کئی اور چیزوں کا تذکرہ باقی ہے لیکن ہم پھر ایک بار اپنی کہانی کی طرف آجاتے ہیں ، شاہ میر (سلطان شمس الدین) کے لقب سے ۱۳۴۳؁ء سے ۱۳۴۷؁ء تک کشمیر کے تخت پر براجمان رہا ، اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ یہ صاحب بڑی کسمپرسی کی حالت میں یہاں آئے تھے اور ان کے بارے میں ان کے دادا وقلندر قوام شاہ نے ان کے پیدا ہوتے ہی یہ پیشگوئی کی تھی کہ یہ ملک کشمیر کا بادشاہ ہوگا ،، اور شاہ میر اس پیشگوئی کے مطابق یہاں کے بادشاہ بن گئے اور بڑی نیکدلی اور شاہانہ آداب کے ساتھ یہ سال گذارے ، اپنے آپ کو ایک عادل اور وسیع القلب حکمراں ثابت کیا ،شمس الدین نے مروجہ سنہ کو موقوف کرکے ایک نیا سنہ رائج کیا جو رینچن شاہ کی تاجپوشی سے شروع ہوتا تھا اور اس سے کاشر ( یعنی کشمیری سنہ کہتے تھے یہ ایک عرصے تک رائج رہا )اس سلطان کے عہد میں بھی ایک شخص طائف لون نے بغاوت کی۔ لیکن ناکام رہا آخر اپنے پیچھے دو بیٹوں جمشید اور شیر علی کوچھوڑ کر انتقال کیا ۔۔ انتقال کی تاریخ کئی مورخوں نے ۱۳۴۲؁ء لکھی ہے جس کی وجہ سے مسند نشینی کی تاریخ بھی اسی لحاظ سے پیچھے چلی جائے گی ،، اس کا مقبرہ سمبل میں ہے سلطان بادشاہ کے نام سے موجود ہے ،، ،، ۱۳۴۷ ؁ ء میں مرحوم کا بیٹا جمشید تخت پر بیٹھا جس نے اپنے چھوٹے بھائی علی شیر کو کو اپنا نائب مقرر کیا لیکن صرف ایک سال کے بعد ہی شیر علی نے بغاوت کی ، سلطان جمشید نے کئی معرکوں میں شیر علی کو شکست دی لیکن آخر شیر علی نے جمشید کے کچھ اہم اہلکاروں کی مدد اور تعاون سےدارالخلافہ اونتی پورہ کا معاصرہ کیا، لیکن ایک معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا ، اسی اثنا میں جمشید علاقہ کمراج میں تھا اور شیر علی نے سرینگر کے نگراں سراج کو رشوت دے کر قبضہ جمایا ، جمشید کے پاس اب قوت مدافعت نہیں رہی تھی اس لئے بے بس ہوکر ایک سال دس مہینے تک ادھر ادھر وقت گذار کر ۱۳۴۸ ؁ء میں اس دنیا سے کوچ کر گیا ،سلطان جمشید کے زمانے تک اسلام بھی آ ہستہ آہستہ یہاں ترقی کر رہا تھا اور لوگ بغیر کسی ڈر و خوف کے دائرہ اسلام میں د ا خل ہورہے تھے ، جمشید کے زمانے میں ہی کئی ایک لوگ صاحب کمال ہوکر شہرت پاچکے تھے جن میں خلاص من ، پلاس من ،، اور یاسمن ریشی بہت ہی نامور اور معروف بھی ہیں ،،، سلطان علاو الدین،،،، ( (شیر علی) اپنے بھائی جمشید کو تخت سے اتارنے کے بعد تخت نشین ہوا ، مورخ حسن کے مطابق اس کی تخت نشینی ۱۳۴۸؁ء کو ہوئی جب کہ دوسرے مورخ تاریخ اور اس کا عہد ۱۳۴۳؁ء سے ۱۳۵۴ ؁ء تک لکھتے ہیں اور یہ فرق آگے بھی اسی طرح سے چلتا ہے ،،بہر حال جو بھی ہو اس پر اتفاق ہے کہ اس بادشاہ علاوالدین کا دور حکومت گیارہ سال پر محیط رہا ، علاوالدین بھی خاصا اچھا بادشاہ ثابت ہوا ،اس نے ذالچو کے لوٹ مار اور قتل و غارتگری میں بھاگے ہوئے زمینداروں کو واپس بلایا ، اور عوام کے مصائب کم کرنے کی زبردست کوششیں کیں ، اجڑے ہوئے شہروں کو نئے سرے سے بسایا ،اندر کوٹ میں کئی نئی عمارتیں بنوائیں جس سے کیپٹل کا درجہ دیا،اپنے نام پر علاو الدین پورہ بسایا ،جو اب سرینگر کا ہی حصہ ہے ،،اپنے مخالفوں پر جو کشتواڑ بھاگ گئے تھے گرفتار کیا،سزائیں دی ، اور ان کے سرغنوں کو پھانسیاں دیں ،،، حسن ؔکے مطابق ۱۳۵۹ ؁ ء کو اس دار فانی سے کوچ کیا ،، ۷۶۱ھ ان کی تاریخ وفات درست اور صحیح ہے ،، اور علاو الدین پورہ ہی میں دفن ہے ،، سلطان شہاب الدین،،، سلطان علاوالدین کا بیٹا ،شیر آشاک، شہاب الدین کے نام سے ۱۳۶۰ ؁ء میں اپنے باپ کے بعد تخت نشین ہوا ، تخت تاج پوشی کی تاریخ ایک فارسی شعر سے ۷۶۱ھ ظاہر ہے ،مصنف تاریخ فرشتہ رقمطراز ہے کہ شہاب الدین اور قطب الدین سلطان علاوالدین کے بھائی تھے ، فارسی تاریخیں شہاب الدین کو علاوالدین کا بیٹا بتاتی ہیں ،،، بہر حال یہ قضیہ مورخوں پر چھوڑتے ہوئے شہاب الدین نے حکومت سنبھالتے ہی ان پانچ سرداروں کی سر کوبی کی جنہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے ، انہیں قتل کیا گیا اور جب اس سے لگا کہ اب مملکت کشمیر میں ا س کے خلاف کسی کو سر اٹھانے کی ہمت نہیں تواس نے بھی ایک لشکر جرار ترتیب دے کر براستہ بارہمولہ پکھلی اور سوات پر قبضہ کیا ،، آپ کو شاید یاد ہوگا کہ ہم نے ہندو راجگان میں ایک راجہ للتادت مکتا پیڈ کی فتوحات کا نقشہ کھینچا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ اس کے دور میں مملکت کشمیر ہندوستان سے آگے قندھار ، خراسان اور تبت ، گلگت بلتستان اور چین کے حدود تک پھیلی ہوئی تھی ، سلطان شہاب الدین نے پھر ایک بار اس راجہ کی یاد تازہ کردی کیونکہ تاریخ میں اس کی جتنی فتوحات کا تذکرہ ہے حیران کن ہیں ،اس نے ملتان ، کابل ، قندہار ، اور اس کے بعد کوہ ہندو کش کو پار کرکے بدخشان پر حملہ کیا اور اس کے بعد بلتستان داردو لداخ غرض وہ سب علاقے اور ممالک جن تک اس کی نظر گئی فتح کئے ،اسی دوران شہاب الدین کے ایک سالار ملک حیدر نے کشتواڑ اور جموں فتح کئے ، شہاب الدین نے کانگڑہ کو بھی فتح کیا اور اس پر قبضہ جمانے کے بعد ستلج کے میدان میں خیمہ زن ہوا ،۔ کہتے ہیں کہ یہاں اسکی جنگ راجہ ادک پتی سے ہوئی جس نے فیروز شاہ تغلق کی مملکت پر حملہ کرکے کثیر مال حاصل کیا تھا اس کو بھی شکست دی ، اور پھر دہلی کی طرف کوچ کیا ، کہا جاتا ہے کہ اسی دوران سید علی ہمدانی ؒ امیر کبیر سفر میں تھے سو وہ درمیان میں آگئے اور دونوں کے درمیان معاہدہ طے پایا جس کی رو سے سرہند سے لے کر کشمیر تک شہاب الدین کو ملا اورباقی مشرقی علاقہ فیروز کے حصے میں آیا ،، یہ ۷۷۵ھ تھا اس کے دوران فیروز شاہ کی دو لڑکیاں اور کچھ تین کا تذکرہ کرتے ہیں ایک بھائی قطب الدین سے دوسری سپہ سالار سید حسن سے اور تیسری سلاطان کے فرزند حسن خان سے منسوب ہوئیں ، (سلاطین کشمیر ) جو کچھ بھی للتادت کے بارے میں پنڈت کلہن نے لکھا ہے ، وہ سب کچھ بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ شہاب الدین کے بارے میں لکھا جاچکا ہے اور لکھا جائیگا ، بڑی مدت کے بعد ملک کشمیر کو نصیب سے ایک ایسے شہنشاہ سے نوازا گیا تھا جو ہر لحاظ سے اپنی نظیر آپ ہی تھا۔ شجاعت اور بہادری تو اس کی فتوحات سے ظاہر ہیں جو اس نے مختصر وقت میں حاصل کیں ، اور دوسری طرف اس کے زمانے میں کہیں اور کسی خود سر نے بغاوت یا شہاب الدین کی مخالفت میں آگے آنے کی ہمت نہیں کی ، یہ زمانہ پوری طرح سے امن و امان اور عدل و انصاف کا زمانہ تھا ، جن ملکوں کو شہاب الدین نے فتح کیا پھر ان ممالک کو ا نہی کے حاکموں اور وارثوں کے حوالے کیا ، فیروز شاہ سے صلح کے بعد شہاب الدین نے اپنا سارا وقت کشمیر میں ہی گذارا ، اور اپنی ساری توجہ فلاحی کاموں کی طرف مبذول رکھی ،اس دوران شہاب الدین پورہ جو اب شہام پورہ کے نام سے جانا جاتا ہے بسایا ، یہ نیا شہر جہلم اور سندھ کے سنگم کے پاس ہی تھا ، جہاں عوام کے لئے پارکیں اور تفریح گاہیں بھی بنائی گئیں ، لیکن ۱۳۶۰ میں ایک بہت بڑے سیلاب کی وجہ سے سارا سرینگر اور بہت سارے قصبے و گاؤں ڈوب گئے ، اور مال و جان کا زبردست نقصان ہوا ، اور سرینگر کے بجائے وہی اس کا دارالخلافہ بھی ہوگیا ،اس میں ایک بہت بڑی اور عالیشان جامع مسجد بھی بنوائی جس کے نشانات اب بھی اس بادشاہ کی عظمت اور شان کی کہانی دہرا رہے ہیں ، اسلام کی ترویج اور ترقی نے رفتار پکڑ لی ،برہمنوں اور پجاریوں کی آمدن پر زبردست اثر پڑا تو انہوں نے ہندو آبادی کو بھڑکانہ شروع کیا ، کئی جگہوں پر شورشیں اور فتنہ و فساد شروع ہونے لگے تو شہاب الدین نے اپنی سیاسی بصیرت کے لحاظ سے ان فتنوں کا تدارک کرنے کا عزم کیا ، یہی وہ وجوہات تھیں جن کی بنا پر شہاب الدین نے کچھ ایسے منادر اور بت خانوں کو منہدم کروایا جہاں یہ مفسد لوگ جمع ہوجا یا کرتے تھے ، ان میں بجبہارہ کا مشہور مندر بھی مسمار کردیا گیا ،شہاب الدین کے آخری ایام پر سکون نہیں گذرے اس کی وجہ یہ رہی کہ اس کو اپنی ملکہ لکشمی کی بہن کی لڑکی سے تعلق ہوا تھا وہ بڑی حسین اور چالاک تھی اس نے سلطان اور اس کی ملکہ میں علیحدگی کرانے کے سامان کئے اور پھر ایک موڑ پر سلطان نے اپنے دونوں بیٹوں حسن خان اور علی خان کو بھی جلاوطن کیا ۔بہر حال اپنی موت سے پہلے اپنے دونوں بیٹوں کو واپس بلایا جو دہلی میں بیٹھے تھے ، صرف ایک بیٹا حسن ہی اس کے بلاوے پر واپس آیا لیکن باپ کے ساتھ ملاقات نہیں کر پایا اور اس کی غیر موجودگی کی وجہ سے اپنے بھائی ہنڈال المعروف قطب الدین کو اپنا جانشین مقررکرکے داعی اجل کو لبیک کہہ کر رخصت ہوا ، فاری شعر میں میں اس کا سال وفات ۷۸۰ھ صحیح اور درست ہے جب کہ ۱۳۷۸ ؁ء لکھتے ہیں اور شہاب الدین نے ٹھیک ۱۸سال ۳ماہ حکومت کی اور یہ سارا دور عوام کے لئے امن و امان کا دور رہا ،،سلطان زین العابدین بدشاہ کے مقبرہ سے تیس قدم کے فاصلے پر اب بھی اس کی قبر کے نشانات ہیں، جس سے رنبیر سنگھ کے دور میںپرتاپ سنگھ کسی سرکاری کرمچاری نے اس کی مرمت کی تھی لیکن اب صرف نشانات ہی باقی ہے ۔