مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۲۴)
سلطان قطب الدین ،، ۱۳۷۸؁ء سے ۱۳۹۴؁ء تک ،، میں تاریخیں مورخ محمد الدین فوقؔ کی تاریخ سے کوٹ کرتا رہا ہوں ، کیونکہ انہوں نے ھ سنہ کو احتیاط سے عیسوی میں بدل دیا ہے، حسن کی تاریخ میں دئے گئےہجری سنہ بڑی حد تک درست رہے ہوں گے لیکن انہیں بدلنے میں ہوسکتا ہو کہ کہیں انیس بیس کا فرق رہ گیا ہو یہی وجہ ہے کہ تاریخوں میں ڈیٹ میں تھوڑا سا اختلاف نظر آتا ہے۔ بادشاہوں کے آنے جانے کی تاریخوں میں یقینی طور پر فرق صاف دکھ رہا ہے لیکن جہاںہجری تاریخ بھی ساتھ ہے تو وہ پوری طرح قابل اعتماد ہے ، بہر حا ل سلطان قطب الدین ،، سلطان شہاب الدین کا بھائی تھا یہ آپ کو یاد ہی ہوگا ، اور تخت نشین ہوتے ہی محلہ قطب الدین آباد کیا اور اپنا پایہ تخت بھی شہاب الدین پورہ سے یہاں منتقل کیا ،،اس سلجھے ہوئے آدمی میں وہ سارے گن تھے جو ایک بادشاہ کو شوبھا دیتے ہیں اور اس کی عدل و انصاف کے ساتھ حکمرانی میں مددگار ہوتے ہیں ، اہل ادب اور اہل دانش سے تعلق رکھتا تھا اور ان کی صحبتوں کو پسند بھی کرتا تھا ان کی قدر دانی بھی اس کی فطرت میں تھی ، اور خود بھی اپنا سارا فالتو وقت مطالعہ میں گذارا کرتا تھا ،فارسی میں کبھی کبھی اشعار بھی موزوں کرلیتا اور ان میں بہت سارے اشعار بلند پایہ مانے جاتے ہیں ، اس کے دور حکومت میں کئی اہم واقعات ہوئے لیکن ایک مثال سے پہلے اس کی بندہ پروری پر روشنی پڑتی ہے ، سلطان شہاب الدین نے اپنی دوسری بیوی کے کہنے پر اپنے بیٹوں کو جلا وطن کیا تھا اور بعد میں موت کو سامنے محسوس کرکے انہیں واپس بھی بلایا تھا لیکن وہ نہیں آئے ، قطب الدین نے سلطان مرحوم کے بھائیوں کو بلایا اور ان میں سے حسن واپس آیا اور سلطان قطب نے بکمال نوازش اسے صدق دلی سے امورات ملکی میں شامل کر لیا ،لیکن حسن نے کچھ ایسے کام کئے جو سلطان کو پسند نہیں ہوئے اور آخر حسن کی گرفتاری کے احکامات صادر ہوئے لیکن سلطان ہی کے ایک وزیر رائے شیر دل نے حسن کو آگاہ کیا اور بھگا دیا ، سلطان تک یہ خبر پہنچی تو سخت ناراض ہوا اور اور شیر دل کو زنداں میں ڈال دیا جہاں سے یہ وزیر بھاگنے میں کامیاب ہوا اور پھر یہ دونوں لوہر میں رہے اور یہاں سے فتنوں کا آغاز کیا ، قسمت نے ساتھ نہیں دیا کچھ زمینداروں نے موقعہ پاکر انہیں گرفتار کرکے قطب کے حوالے کیا ، رائے شیر دل کو پھانسی اور حسن کوزنداں نصیب ہوا ،دوسری اہم بات جو اس بادشاہ کے دور ہوئی وہ قحط سالی ہوئی جس کی وجہ سے لوگ زبردست پریشان رہے ،لیکن سلطان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہر بار سخت جدوجہد سے عوام کا خیال رکھتے رہے ،،تیسر ی اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہوئی کہ بادشاہی کے دوسرے سال شہرہ آفاق شخصیت ، امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس اللہ سرہ، نے دوسری مرتبہ کشمیرکو بابرکت قدموں سے سر فراز کیا ،، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس بار تاریخی طور پر ان کے ساتھ سات سو سے زیادہ ساد ا ت اور اللہ کے ولی اور پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ جنہوں نے یہاں آکر عوام کو مشرف بہ اسلام کرنے کا مشن شدومد سے جاری کیا، قطب الدین اس سے پہلے شہاب الدین کے دور میں بھی امیر کبیر کی مہمان نوازی کرچکے تھے لیکن اس بار معاملات ہی الگ تھے کہ وہ خود ایک خود مختار اور بڑا بادشاہ تھا ، اس لحاظ سے قطب نے امیر کبیر کا شایان شان استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا ، محلہ علاوالدین پورہ میں دریا کنارے ایک سنگین صفہ تیار کرکے یہاں امیر کبیر یاد الہیٰ میں مصروف ہوئے اور لوگوں کو جوق در جوق مشرف بہ اسلام کرتے رہے ، اس کے ساتھ ہی پہلی بارحضرت امیر کبیر کی ہدایات پر اسلامی شعائر اور قوانین سے عوام کو واقفیت ملتی رہی اور ان پر عمل بھی شروع ہوا اس کی پہل خود قطب الدین نے اس طرح سے کی کہ اس کے عقد میں اس وقت تک دو بہنیں یکجا تھیں چونکہ اسلام میں دو بہنوں کے ساتھ اکٹھے نکاح جائز نہیں اس لئے قطب الدین نے ایک بہن کو طلاق دی ،، حضرت امیر کبیر نے قطب ا لدین کو اپنی ایک کلاہ تحفے میں دی جس سے قطب الدین نے جان سے عزیز سمجھتے ہوئے اپنے سر پر تاج کے نیچے پہننا شروع کیا اور اس کے بعد اس کے وارثوں نے بھی اس کلاہ مبارک کو اس طرح پہنا یہاں تک کہ ۱۵۱۷ ؁ء میں سلطان فتح شاہ نے اس کلاہ شریف کو اپنی قبر میںساتھ لیا جس پر اس وقت کے معروف و مشہور مولوی محمد صاحب جو مشائخان دین تھے ،نے یہ پیشگوئی کی ، تاج شاہی از سر ہان ِ کشمیر بر افتاد ، ۔،و سر داری آنہمہ روبہ نگو نساری نہاد ۔۔ یہیں سے اس خاندان کی بنیادیں کمزور ہوگئیں اور بہت جلد ان کے ہاں سے بادشاہی نکل گئی ، ، (اس کی کہانی آگے آئے گی ) کہا جاتا ہے کہ قطب الدین کے عہد میں ہی حضرت امیر کی وجہ سے کشمیر میں اسلام بڑی تیز رفتاری کے ساتھ ترقی کر گیا مستحکم بھی ہوگیا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی بادشاہ یا سلطان نے کبھی یہاں مذہب کے معاملے میں کوئی زبردستی یا زور جبر نہیں کیا ، بلکہ لوگوں نے اپنی خوشی اور رضامندی سے یہ دین قبول کیا ، اس سے پہلے کشمیر کا لباس بھی مختلف تھا اس میں بھی تغیر ہوا ،تنگ پائجامے اور چھوٹے کرتے یا دھوتیاں یہاں بھی استعمال میں تھیں لیکن حضرت امیر کبیر کے ارشاد کے مطابق لباس تبدیل ہوگیا ،بادشاہ کی مطابقت میں رعایا نے بھی بڑی جلدی اس نئی پوشاک کو قبولیت بخشی جس میں ترک لباس کی مشابہت تھی ،حضرت امیر خود بہت بڑے پائے کے صوفی منش تھے انہوں نے اس میں خود تبدیلی کرکے چوغے کے بجائے ایک لمبا کرتہ کردیا جو اب تک رائج ہے ، یہ لباس آج بھی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ رواں دواں ہے سولہ سال کی بہتر حکمرانی کے بعد ۱۳۹۴؁ء کو سلطان قطب الدین رحلت فرما گئے،ان کا روضہ میر حاجی محمد متصل لنگر ہٹہ میں ہے اور تاریخ وفات یوں لکھی گئی ہے ،،،،،،، قطب بر خواست ز، روئے کشمیر ، ،،از سر جاہ سکندر بنشست،،،(،قطب (ج +سکندر) ۷۹۶ھ ۔۔حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی،،چودہویں صدی کی اسلامی دنیا میں سب سے بڑی شخصیت تسلیم کی جاتی ہے ، وہ ہمدان میں دو شنبہ ۲۲اکتوبر ۱۳۱۴ کو پیدا ہوئے ان کے والد شہاب الدین ہمدان کے والی تھے ، لیکن سید علی کو ان امورات میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ،تعلیم کے سلسلے میں سفر پر نکل پڑے اور متعدد سفر کئے ، ، تین بار دنیا کی سیاحت کی اور کئی بار سفر حج کیا ، تین بار کشمیر تشریف لائے ، پہلی بار چھوٹی مدت چار ماہ کے بعد ہی حج پر روانہ ہوئے لیکن دوسری مرتبہ تشریف لائے تو ڈھائی برس قیام کیا اور تیسری بار سات سو سادات کے ساتھ وارد کشمیر ہوئے اور کشمیر میں ایک عظیم انقلاب ہر پہلو سے ساتھ لائے یہی وہ دور ہے جب تعلیم ، ادب ،ثقافت ، تہذیب و تمدن سب کچھ بدل گیا ، غرض کشمیر کا سارا ہی نقشہ بدل کر رہ گیا اور ملک کی اکثر و بیشتر آبادی آپ کے مبارک ہاتھوں مسلم ہوئی ، شری در کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں یہاں ذات پات کا اثر کم ہوا ، اسلام کا اثر شیو مت اور ترکہ فلاسفی پر بھی حاوی ہوا ، حضرت سید علی ہمدانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں اس وقت کے مشہور ہندو گورؤں سے مناظرے بھی کئے ان میں ’بمہ ساد ‘‘جو اس زمانے میں گورؤں کا گورو تھا کے ساتھ بھی مناظرہ کیا اور وہ آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے جس کی وجہ سے اس کے ہزاروں شیدائی اور شاگرد ایک ہی دن میں مشر بہ اسلام ہوئے،کہیں اس سے پہلے ہی لکھا ہے کہ زمانے کی مشہور و معروف عارفہ بھی اسی زمانے میں تھیں جس نے حضرت سید علی ہمدانی سے ملاقاتیں بھی کی ہیں ، سید علی ہمدانی عربی فارسی کے معتبر اور بہت بڑے عالم مانے جاتے ہیں انہوں نے سو سے زیادہ تصانیف لکھی ہیں ان میں چہل اسرار سب سے زیادہ مشہور ہے اور اس کے علاوہ انہوں فلسفہ سیاست ، ،علم ال اخلاق، تصوف اور فقہ و تفسیر پر بہت ساری تصانیف چھوڑی ہیں ، لیکن کشمیر میں ان کا ’’اورادفتحیہ‘‘بہت زیادہ مقبول ہے جس سے آج بھی تمام مساجد میں فجر نماز کے بعد ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے ۔۔ کشمیری شیعوں کی روایت کے مطابق سید علی ہمدانی شیعہ تھے ،، ، لیکن اس کے پیچھے کوئی خاص دلیل بھی نہیں اور ثبوت بھی نہیں ، محظ اس وجہ سے کسی کو شیعہ نہیںٹھہرایا جاسکتا کہ وہ حضرت علی کی مدح سرائی کرتا ہے ، سنی بھی حضرت علی اور شہدائے کربالا سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں ،ان کے ایک مرید جعفر بدخشی کا قول ہے کہ وہ پہلے حنفی تھے اور بعد میں شافعی ہوگئے لیکن اپنے کسی مرید کے حنفی ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور کشمیر میں ان کے وقت سے ہی حنفی مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان سے سیکھے ہوئے اسلامی شعائر کو ہی درست سمجھتے رہے ہیں ، ،، حضرت سید علی ہمدانی ساری مسلم دنیا میں جانے اور مانے جاتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات اور ان کے طرز طریق اور دین کی رہنمائی کے نقوش کشمیر میں بہت گہرے ہیں اور یہ اس بات سے واضح ہے کہ لوگوں کی اکثریت صبح نماز فجر کے بعد اوراد فتیحہ کا ورود لازمی سمجھتے ہیں ، یہ اوراد فتحیہ، قرآن حکیم کی مختلف صورتوں سے لی ہوئی آیات کا ایک منظوم مجموعہ ہے جس میں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی بڑائی اور حمدو ثنا کا ذکر ہے اور اس سے کشمیری۔ذکر سمجھ کر ہی روز پڑھتے ہیں ،،، بزرگانِ کشمیر کا اعتقاد ہے کہ اس (وظیفے ) پررسول پاک ﷺ کی مہر باطنی طور ہوئی تھی یعنی ان کی اجازت کے بعد ہی کشمیری عوام کے لئے حضرت امیرکبیر نے اس سے مخصوص کیا تھا ،، حضرت تیسری بار کشمیر میں مختصر وقت کے لئے رہے ایک سا ل کے بعد ہی رخت سفر باندھا ، پکھلی پہنچے وہاں سے کاغرستان (سواد اکبر )تو راستے میں بیمار ہوئے اور مالک حقیقی سے جاملے ، حضرت سید علی کو سبھی دعویدار اپنی سر زمین لینا چاہتے تھے ، کشمکش بڑھی تو ان کے طالب نے فیصلہ سنادیا کہ غسل اور کفن کے بعد جو سید کی میت کو اٹھا سکے لے جائیں، لیکن بہت سارے لوگ مل کر بھی تابوت نہیں اٹھا پائے اور پھر شیخ قوام الدین جنہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا خود ہی آگے بڑھے ، اور اکیلے تابوت کو اپنے کندھے پر ڈال کر ختلان لے گئے ، جہاں آج بھی حضرت کی درگا مرجع نور بنی ہوئی ہے ،،،،