مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۲۵)
یہ اس سلسلے کی پچیسویں قسط یعنی سلور جوبلی قسط ہے ، میرے ذہن میں کچھ روز پہلے یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ اس قسط کو کچھ خاص ہی ہونا چاہئے اور اتفاق دیکھئے کہ تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا تھا جہاں میں نے امیر کبیرمیر سید علی ہمدانی ؒکا تذکرہ کیا اور اس عہد کے بہت بڑے عارف ، صوفی ،ولی اور اللہ کی وہ بر گزیدہ شخصیت بھی ہماری نظروں کے سامنے آتی ہے جس پر اب تک بہت ساری کتب مارکیٹ میں آچکی ہیں ، جنہیں ہم ریشی سلسلے کی ابتدا بھی سمجھتے ہیں اور لل عارفہ اور حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کے ساتھ جن کی ملاقا تیں بھی رہی ہیں اور جنہیں ان کی و فات پر انہیں علمدارِ کشمیر کے لقب سے جانا جاتا ہے اور علمدار کا مطلب ہی وہ شخص ہوتا ہے جو ہراول دستے میں سب سے آگے اپنا جھنڈا یا علم لے کر چلتا ہے ،،تو نورالدین نورانی ۔ نند ریش ، علمدار کشمیر ، اپنی علم کی چھاؤں میں سب ریشیوں کو پناہ گزین کئے ہوئے ہے، اس لئے مجھے خوشی ہے کہ یہ میری سلور جوبلی قسط علمدار کے نام ہدیہ رہے گی اور میں کوشش کروں گا کہ آپ تک علمدار کا مختصر ساتعارف ہی سہی لیکن کچھ تشریحات کے ساتھ آپ تک پہنچا ؤں تاکہ آپ سب بھی اس (نند) معنی بہت ہی خوبصورت اور حسین ریشی ،سے متعارف ہوں ،،، اس سے پہلے کہ ان کی زندگی پر آجائیں پہلے میں یہ کہنا چاہوںگاکہ ریشی کیا ہوتا ہے جس کے سرخیل علمدار ہیں ،،،اسلام میں صوفیت دوسری صدی ھجری میں آگئی ،اور آپ ہزاروں صوفیوں اور ان کی زندگی کے حالات ان کی کتب اور ان پر لکھی ہوئی کتب سے حاصل کرسکتے ہیں ، میں یہاں صرف ریشیت پر بات کروں گا ،بہت سارے نقطہ داں سمجھتے ہیں کہ ریشیت بھی صوفیت کی ایک شاخ ہے ، اور جس طرح صوفی ایک خاص طرح کی زندگی گذارتے ہیں اسی طرح ریشیت بھی ایک جداگانہ طرز زندگی ہے ،ریشی سنسکرت زباں کا لفظ ہے جس کے معنی (پاک دعایئہ نعت یا نظم گانے والا ) ہوتا ہے صوفی کی طرح ریشی کا تصور بھی اس مرد کامل کی طرح کا ہے جس کی باطنی آنکھ ظاہری دیواروں کو پھاند کر مادی دنیا سے پرے اسرار حق سے واقف ہوچکی ہوں ،، شاید یوں کہنا زیادہ آساں ہوگا کہ ریشی بھی ماورائے زماں و مکاں ہوتا ہے اور جس طرح اصل صوفی زماں و مکاں کی قید سے آزاد ہوتا ہے اسی طرح ریشی بھی ان منازل سے بھی آگے ہوتا ہے ،، زمانہ وسطیٰ میں بھی ریشی ایسے شخص کو کہتے تھے جو پرہیز گار ہو متقی ، تارک الدنیا اور جس کی قلبی نگاہیں وا ہوچکی ہوں ،یہ کشف و کرامات میں کامل سمجھے جاتے ہیں،ان کی اقسام یوں تھیں ،، دیو ریشی ، برھم ریشی ، راج ریشی، مہارشی ، پریرشی ، شروتہ رشی ،،اور ساتویں کند ریشی ،،، کیا یہ اتفاق ہے کہ سات کے ہندسے کو علم الاعداد میں بھی ایک خاص حیثیت حاصل ہے ، ست ہی سروں ، سات ہی دنوں اور سوراخوں ،سات ہی سمندروں اور سات ہی بر اعظموں کی بات میں ریشی بھی سات ،، اور صوفیوں کی دنیا میں مقامات یا منازل بھی سات ،،،بہر حال کشمیر میں نویں صدی کے آغاز میں رشئیت کا پرچار واسہ گپت رشی نے کیا تھا ابھینو گپت ( اس رشی نے کہا تھا کہ بتوں میں رکھا کیا ہے )قدیم ریشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے ، ہندوستان کی قدیم کتب میں بھی رشی منیوں کا ذکر ملتا ہے ، بدھ مت سے پہلے بھی ان کا ذکر ملتا ہے،ایک عرصے تک کشمیر بدھ مت کا گہوارہ رہا ہے۔ تبت ، چین ، جاپان ، منگولیا ، اور وسط ایشیاء کے بہت سارے علاقوں میں بدھ دھرم کا پرچارکشمیر سے ہی ہوکر گذرتا تھا ، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ریشئیت زندگی سے فرار ہے لیکن بغور جائزہ لینے سے یہ بات درست نہیں لگتی ،،ریشیوں کا سماج میں بہت بلند مقام تھا ،۰ اتھر وید ) کا نام بھی (اتھروں ریشی) کے نام پر ہے اور بھگوت گیتا بھی ویاس ریشی کی قلمی کاوش کا نتیجہ ہے ،رگ وید کا زمانہ ۱۵۰۰ق م ۔۔۔ اور ۲۵۰۰ ) کے درمیان خیال کیا جاتا ہے،اس کتاب میں بھی رشیوں کا تذکرہ یوں ہے ،،’’ میں ہی کاک شیوتھ ریشی ہوں ، مقدس نغموں کو سر گم بخشنے والا ، میں نے ہی کت سا کو گلے لگایا ،مجھے دیکھو میں کوی اوشان ہوں ‘‘ رگ وید،،اس سے مطلب یہ ہے کہ اسلام سے پہلے کشمیر میں ریشئیت کا ایک سلسلہ ارتقا پذیر تھا ، کشمیر کے شیو درشن نے بودھوں کی کئی فکری دلائل کو اپنا کر بھی ان کے جس بنیادی روئے کی شدید مخالفت کی تھی وہ وجود مطلق سے بودھوں کی بے نیازی تھی (ڈاکٹر سیار محمد )پروفیسر پشپ کے مطابق ’’ نندہ ریشی نے جو روحانی روایت ورثہ میں پائی تھی وہ مقامی ریشئیت کی ایک ایسی روایت تھی جس میں بودھ اور شیوہ، ویشنو روائیتں گھل مل گئیں ، ایک لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ اسلام سے ہم آہنگ ہوکر کشمیرکے ریشی مسلک نے نئے تقاضوں کو پورا کیا اور وہ شکل اختیار کی جو کلام شیخ العالم کے شلوکوں ، (واکھوں ) سے مترشح ہے ، اس میں شک نہیں کہ شیخ نے اپنے پیش رو ریشیوں کو بھی خراج پیش کیا لیکن حق یہ ہے کہ شیخ نے ہی کشمیر میں ریشی سلسلے کو اسلام کی ہمہ گیر ، شاندار اور جاندار بنیادوں پر ایک نئی آب و تاب کے ساتھ استوار کیا ‘،،، بابا نصیب الدین غازی نے ریشی نامہ میں ریشی کی یہ تعریف کی ہے ،، (۱) وہ شخص جو طریقت اور تربیت میں ریشاں سے ہو ،،(۲) وہ شخص جو ساری رات بیدار رہتا اور سال بھر روزے رکھتا ہو ،،(۳) نفسانی خواہشات اور حرص و ہوس سے پاک ہو ،، (۴)دین مصطفیٰ کی عمارت کا چھت ،یعنی دین کی برگزیدہ شخصیت ہو ، (۵) طریقت میں پیشوائے ریشاں ہو (۶)متقی ، پرہیز گار اور ریشیوں کا پیشوا ہو ،، ریشی چار حروف کا مرکب ہے ،،(ر ) سے مراد ریاضت،، (ی) سے مراد یقین ،، (ش) سے مراد شریعت ،، (ی) سے مراد انتہائے انائے نفس ، ریاضت کرتا رہے یقین محکم کے ساتھ اور شریعت محمدی کا پابند ہو اور انائے نفس کا شکار نہ ہو ،،، مختصر سے اس خاکے سے ریشئیت کا تصور دینا تھا نہیں تو ریشئیت اور صوفیت پر بہت سارا اعلیٰ پائے کا لٹریچر مارکیٹ میں موجود ہے ،،، لیکن یہاں اسلام میں ریشئیت کا تعین خود علمدار نے کیا جس سے پڑھ کر اور غورو فکر کرکے نتائج حاصل ہوجاتے ہیں ،، اول ریشی احمد ریشی،،،، دوئم حضرت اویس آؤ ,پونژم ریشی رُمہ ریشی ،،،،،شئیم حضرت میران آؤ،،،، ( پہلا ریشی محمد ﷺ ہے جن کا آسمانی نام احمد ہے ،، دوسرا ریشی حضرت اویس کرنی ہیں ، پھر ذلک ریشی ، پلاس ریشی ،،اور اس کے بعد رُمہ ریشی پانچویں ریشی گذرے ہیں پھر چھٹے کا نام (میراں ریشی ،ہیں،میر میراں حضرت میر سید علی ہمدانی کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے ؟پھر نندہ یعنی اپنے آپ کو ساتواں ریشی بتاتے ہیں جس نے براہ راست میر میراں سے تربیت پائی ، صوفیت ، ریشئیت ، ریشی منیوں کا ایک ہی منبع اور ایک ہی آماجگاہ ہے جہاں سے سبھی قسم کے چشمے پھوٹتے ہیں اس میں کوئی دو رائیں نہیں بس ، نام اور زمانوں کاہی فرق ہے ،، حضرت شیخ نو رالدین نورانی (نند ریش)کا سلسلہ بقول عشرت کاشمیری راجہ کاہن پال جو راجہ بکرما جیت کے خاندان کی پانچویں پشت سے ملتا ہے ،یہ اوجین سے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ امرناتھ یاترا کے لئے براستہ کشتواڈ آرہے تھے کہ ٹھاٹھری سے ا ٓگے کاندنی پہنچا تو یہاں کی خوبصورتی من کو بھا گئی اور بسیرا کر لیا ،جلد ہی آس پاس اپنے گرد و نواح کے علاقوں پر حکومت کرنے کا شوق پیدا ہوا ،پھر کشتواڈ اور آس پاس تک اپنی حکومت قائم کی ،یہ حکومت سینکڑوں سال ان کے اولادوں میں قائم رہی یہاں تک کہ پندرہ پشتوں کے بعد راجہ رائے دیو کی وفات پر اس کا بیٹا کورودیو اور پھر اس کا بیٹا اوگر دیو یا اوگر سنزراجگدی پر بیٹھ گیا جو شیخ العالم کا پر دادا ہے ،راجہ اوگر اپنے چچا زاد بھائی کی بغاوت سے تنگ آکر کشمیر بھاگ آیا ،قرین قیاس ہے کہ یہ کشمیر میں سنگرام دیو کا دور تھا ، راجہ اوگر نے روپہ ون کی جاگیر لی ،ادھر اسی خاندان کے کچھ افراد نے تحصیل کولگام کے ایک گاؤں دور کوٹ میں رہائش کی ،،کچھ ریشی ناموں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اوگر سنز کا بھائی تھا اور خود اوگر سنزچرار شریف کے نزدیک تلہ سر گاؤں میں خمنی وانو کے یہاں پناہ گزین ہوا ، یہاں کسی حملے میں اوگر سنز مارا گیا ،اس کے بعد اوگر کا بیٹا گراز سنز اس علاقے کا سپہ سالار مقرر ہوا ،گراز سنز کے بیٹے کانام درپتا سنز تھا ، اسی دوران ذالچو نے کشمیر میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک قتل عام کیا ،درپتا سنز کا بیٹازانگا سنز تھا زانگا بھی مارا گیا اور اسکا بیٹاہمر یا یا ہنر سنز اپنی جان بچانے کی خاطر جنگلوں میں چھپتا پھرا ،ان حالات میں گڈھ ستھو بھی ایک الگ ریاست قائم ہوئی تھی جہاں ہنر سنز نے پناہ لی ،پھر یہیں پر اس کا بیٹا گرزا سنز پیدا ہوا ،ہنر سنز بورو پہاڈی پر ایک لڑائی میں مارا گیا ،گراز سنز قلعہ داری کے منصب پر فائض ہوا یہیں پر شیخ العالم کے والد بزرگوار سلر سنز پیدا ہوئے ، گراز سنز بھی کہیں مارے گئے اور سلر سنز اکیلے اور تنہا بے بسی کے عالم میںادھر ادھر گھومنے پر مجبور ہوئے ،سلر سنز اسی دوران بجبہاڈہ یاسمن ریشی کی خدمت میں پہنچ جاتا ہے ، جہاں اس سے ریشیوں کی گائیں چرانے اور گھاس کھلانے کا کام سونپا جاتا ہے ،، یہاں ان کی دنیا ہی بدل گئی ،، یاسمن ریشی اور حضرت سید حسین سمنانی کی ملاقاتوں کا تذکرہ کئی تاریخی کتابوں میں ہے ، یہاں سلر سنز اسلام قبول کرتا ہے ،یہ ان دونوں بزرگوں کی صحبت کا ہی اثر ہوسکتا ہے ،ایک د ن صدرہ ماجی کا سر پرست کھی جوگی پورہ کا چوکیدار ان دونوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور ان سے صدرہ ماجی کے حال احوال سنائے تو مجلس میں یاسمن ریشی نے فرمایا کہ میں اس کی شادی اسی لڑکی کے خاندان کے ایک لڑکے سے کروں گا ، قرین قیاس ہے کہ اسی وقت اسی محفل میں سلر سنز نے کلمہء شہادت پڑھا ہوگا ، اوپر اس بات کا ذکر آچکا ہے کہ راجا اوگر دیو جب کشتواڈ سے بھاگا تھا تو اسی خاندان کے کچھ افراد دور کوٹ تحصیل کولگام میں آکر رہنے لگے تھے ،کچھ وقت کے بعد کسی وبائی مرض سے اس خاندن کے سارے افرادمر گئے لیکن ایک راجہ ان میں سے گاؤں کھی جوگی پور ہ میں رہنے لگا ،، یہاں اس راجہ کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی ، تین چار برسوں کے اندر ہی اس لڑکی کے سارے وارث اور رشتے دار مرگئے اور اس لئے لڑکی کو گاؤں کے چوکیدار کے سپرد کیا گیا ،یہی وہ لڑکی تھی جس سے صدرہ ماجی کہا جاتا ہے جس کے رشتے کی بات حضرت حسین سمنانی اور یاسمن ریشی نے سلر سنز کے ساتھ طئے کی اور حضرت سمنانی نے ہی ان کا نکاح پڑھا ،،ایک روایت ہے کہ اس نکاح میں ، حضرت سید علی ہمدانی بھی بکشف شامل ہوئے ،سلر سنز جو ایک زمانے میں راجہ زادہ تھا ، مویشی چرانے پر مجبور ہوتا ہے اور شہزادی ، صدرہ ماجی بھی سارے زمانے میں اکیلی ایک چوکیدار کے ہاں پرورش پاتی ہے ، یہ کیسے کھیل ہیں جنہیں ہم نہیں سمجھتے اور ان دونوں کا ملن دیکھئے کس پائے کے لوگ انجام دیتے ہیں ،اس طرح شیخ نو رالدین ولی نجیف الطرفین ہیں ، ، صدرہ جس گھر میں پلی بڑھی اسی گھر میں سلر ، اسلا می نام سالار الدین کو بھی رہنا پڑا اور یہ گاؤں کھی جوگی پورہ ہے نہ کہ کیموہ ،، جہاں حضرت شیخ پیدا ہوئے،، (یہ معلومات تاریخ حسن ، فوق ، اور عشرت کاشمیری اور کشمیر میں میں تصوف ریشیت کے تناظر میں ) پر مبنی ہیں ۔