مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۲۶)
شیخ نورالدین نورانی کے جنم کے بارے میں بہت ساری کہانیاں تاریخوں میںہیں لیکن میں مختصر سا ہی تذکرہ کروں گا ،شیخ سالار الدین نے کھی جوگی پورہ میں بوووباش کے بعد اپنے سسر کا ہی پیشہ چوکیداری اپنایا ، ایک روایت یہ ہے کہ ایک رات جب سالارالدین پہرے پر تھا اور رات نصف سے زیادہ ڈھل چکی تھی تو اچانک ایک پنڈت گھر ا نہ کے نزدیک پہنچ گئے ، یہ پنڈت جوبڑی مدت سے اولاد نرینہ کا متلاشی تھا ،اپنی بیوی ’’فکرہ بٹنی ‘‘ سے کہہ رہاتھا کہ کل شبھ گھڑی ہے گاؤں کے پاس والے چشمہ شاردھا میں شب کے پچھلے پہر دو گلدستے ظاہر ہوں گے ایک یاسمن اور دوسرا اڈہر کا ،، پو پھٹتے ہی تم وہاں چلی جاو اور یاسمن کے گلدستے کو سونگھنا ، بھگوان تمہاری گود بھریں گے ،، (تاریخ حسن ) اتفاق سے شیخ سالار یہ سن رہے تھے ،وہ فوراً ہی گھر کی طرف دوڈے اور اپنی بیوی صدرہ ماجی کو یہ واقع سنایا ، صدرہ ماجی صبح سویرے چشمے پر پہنچی، انتظار کرتی رہی اور پہلے یاسمن کا گلدستہ اور پھر ادہر کا گلدستہ نمودار ہوا ، صدرہ ماجی نے گلدستہ یاسمن کو اٹھا کر سونگھا ، یہ با ت آج تک مشہور ہے کہ اس سے سونگھتے ہی صدرہ موجی اتنی بھاری ہوئی کہ اپنا ہاتھ جس پتھر پر ٹکایا اس پر آج تک ہاتھ کا نشان موجود ہے ،پنڈتانی نے بعد میں اڈہر کا گلدستہ سونگھا ، نو مہینوں کے بعد دونوں کو اولاد نرینہ ہوئی ، صدرہ ماجی نے شیخ نور الدین اور فکرہ بٹنی نے بمہ ساد کو جنم دیا ،جو بعد میں بابا بام الدین کے نام سے شہرت یافتہ ہوئے ،ملا احمد اپنی تاریخ میں جو شیخ کے ہمعصرتھے اس طرح واقع بیان کرتے ہیں ، کہ ایک دن شیخ سلر اپنی بیوی کے ہمراہ یاسمن ریشی کی بیمار پرسی کو گئے جو ایک چشمے پر بیٹھے تھے ، اچانک لل عارفہ ہاتھ میں ایک گلدستہ لے کر وہاں پہنچی،یاسمن ریشی نے یہ گلدستہ صدرہ ماجی کے سر پر رکھا اور کہا کہ تم ایک بیٹے کو جنم دو گی جو ہماری حقیقت اور ہمارے حال کا وارث ہوگا ،،یہ واقعہ خرق عادت اور بشارت ہی سمجھا جاسکتا ہے ،یاسمن ریشی اسی بیماری کے بعد فوت ہوئے اور تاریخوں میں ہے کہ لل عارفہ صدرہ ماجی کی خبر گیری کرتی رہی ، شیخ العالم (ساری دنیا کے شیخ )کے تولد کے بارے میں ایک اور بیان یوں بھی ہے کہ چشمہ شاردھا پر آنے سے قبل ہی وہاں حضرت سید حسین سمنانیؒ،یاسمن ریشی ،اور لل عار فہ بھی تشریف فرما تھیں ،چشمے پر گلدستہ ظاہر ہوا تو پہلے حضرت حسین سمنانی ؒنے اس سے بوسہ دیا پھر یاسمن ریشی اور اس کے بعد للعارفہ کے حوالے کیا، لل نے صدرہ ماجی سے اس کا نام پوچھا ، اس نے صدرہ بتایا تو لل نے کہا کہ صدر کا مطلب سمندر ہوتا ہے اور سمندر میں ہی لعل و گوہررہ سکتے ہیں ،،اس کے بعد حضرت سمنانیؒ نے صدرہ ماجی کی نگہبانی لل کو سونپی جو مسلسل نومہینے صدرہ کے پاس آتی جاتی رہی ، ، شیخ پیدا ہوئے تو یہ بات مشہور ہوئی کہ اس نے ماں کا دودھ تین دن تک نہیں پیا جب تک نہ لل آئی، عارفہ نے اس کے کان میں کہا کہ جب آنے سے شرم نہیں آئی تو دودھ پینے میں کیا شرم اور خود پہلے اپنی چھاتی سے دودھ پلانے لگی ، شیخ دودھ پیتے ہی رہے تو لل نے ہنس کر کہا کہ’’ اب کیا سارا ہی دودھ تم ہی پی لوگے ‘‘ظاہر ہے کہ وہ معرفت ہی پی رہے تھے ،،، اگر چہ شیخ کی پرورش گنائی گھرانے میں ہوئی لیکن وہ دونوںوالدہ اور والد کی طرف سے شاہوں سے تعلق رکھتے تھے ا ورد وسری بات یہ کہ وہ مادر زاد ولی تھے ، حسب دستور والدین نے انہیں تعلیم کے لئے بھیجا تو مولوی کے ’’ الف‘‘ کے آگے زباں بند کی ، او’ر’’ ب‘‘ کا مطلب پوچھا ‘استاد تشریح نہ کر پائے تو خود ہی عارفانہ تشریح کی اور مولوی صاحب نے خود بھی اس کو پڑھانے سے ہاتھ کھینچ لیا ، اب ماں نے اس سے ایک جولہاہے کے پاس ہنر سیکھنے بھیجا جو اپنے فن میں استاد تھا تو اس سے بھی ان آلات کے اشارات کا مفہوم پوچھا ، استاد نہ کہہ سکا کیونکہ اس کے لئے یہ با تیں سرے سے سمجھ سے باہر تھیں تو خود ہی ان سب باتوں کی وہ تشریح کی کہ استاد نے حیران ہوکر کہا کہ ہم اس بچے کو سمجھ ہی نہیں سکتے یہ کوئی معمولی اور سادھارن بچہ نہیں ہوسکتا ، شیخ تیرہ سال کے ہوئے تو شیخ سالار یعنی نورالدین کے والد وفات پاگئے ،شیخ چونکہ اکثر وبیشتر اپنا وقت مراقبوں میں ہی گذارتے تھے جس کی وجہ سے والدہ پریشان تھیں اس لئے اس سےشیخ کو ازدواجی بندھنوںمیں باندھنے کا خیال پیدا ہوا تا کہ عیال کے جنجال میں آگے روزی روٹی کمانے پر مجبور ہوجائے ،شادی ایک نیک خاتون سے ہوئی جس کا نام ،’’زیددید ‘‘ تھا جو ڈاڈہ سر ترال کے اکبر دین کی بیٹی تھی ،جو اس زمانے میں خود بھی مشہور بزرگ تھے اور جس کا مزار آج بھی یہاں موجود ہے ،کہا جاتا ہے کہ اس گھرانے کے ساتھ پہلے ہی سے شیخ کے روابط تھے اور وہ کبھی کبھی ان کے مویشی کھلانے کے لئے لے بھی جاتا تھا ، شیخ العالم صاحب اولاد اور صاحب عیال ہوئے ایک بیٹی ’’زون دید ‘‘اور’’ بیٹا بابا حیدر ‘‘تولد ہوئے اس لئے ماں اور بیوی دونوں نے ذریعہ معاش کے لئے شیخ پر دباؤبڑھادیا ،وہ شیخ کو دنیا وی بندھنوں میں جکڑنا چاہتی تھیں اور شیخ روز بہ روز دنیا سے دور اور الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتے تھے ،، شیخ موضع کیموہ، (شہمار ٹینگ ) نامی ایک جگہ پر غار میں گھس کر عبادت میں مصروف ہوئے ،تو ماں اور بہو ونہی غار میں اس سے ملنے آگئیں اور بچو ں کی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کیا ہوگا اور انہیں کس کے سہارے چھوڈ کر اس غار میں گھس گئے ہو ، ماں نے بھی مشفقانہ انداز میں (نند) سے مکالمہ شروع کیا اور شیخ بھی عارفانہ انداز میں جواب دیتے رہے جو بہت ہی مشہور و معروف مکالمے ہیں جن سے روحانیت اور معرفت چھلکتی ہے،صدرہ ماجی کسی طرح شیخ کو واپس گھر لانے میں کامیاب نہیں ہوئی، آخر اس نے بچوں کو بھی غار کے دہانے تک لاکر کھڑا کیا ۔کہا جاتا ہے کہ شیخ نے اللہ سے دعا کی کہ ان بچوں کو مجھ میں پالنے کی طاقت نہیں کیونکہ میں صرف تمہارا ہی ہوکر رہنا چاہتا ہوں اور پھر ان بچوں پر اپنا خرقہ ڈال دیا ، ، صبح یہ دونوں بچے نیند سے نہیں اٹھتے اور رحمت حق ہوچکے ہوتے ہیں ، شیخ خود ان کی قبریں کھودتے ہیں جنازہ پڑھتے ہیں ،شیخ کی بیوی زے دید نے اسلام آباد میں حاکم وقت کے پاس نان نفقہ کا مقدہ دائر کیا ،،حاکم وقت نے کسی تند مزاج کو شیخ کی گرفتاری کے لئے روانہ کیا ،، شیخ گپھا میں تھے اور کارندے نے شیخ کو تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ مفلوج ہوکر رہ گیا ، بڑی منت سماجت اور معافی کے بعد شیخ نے اس پر نظر کرم کی اور اس کا ہاتھ اور جسم اپنی اصل حالت پر آگیا ، کلمہ شہادت پڑھا ، اور مسلمان ہوگیا ،بقیہ ساری زندگی شیخ کی خدمت میں گذاری اور بابا تاج الدین کے نام سے وتر ھیل میں دفن ہوئے ، آج بھی ان کی زیارت مرجع خلائق بنی ہوئی ہے ،،،تاریخی شواہد موجود ہیں کہ شیخ کیموہ گوپھ بل میں بارہ سال مراقبوں اور ریاضت میں مصروف رہے اس کے بعد باہر آئے تو کشمیر کی سیاحت شروع کی اور اسلام کا نور پھیلاتے گئے ، کشمیر میں شاید کوئی ہی پرگنہ یا گاؤں ایسا رہا ہو جہاں وہ نہ پہنچے ہوں اور جہاں انہوں نے واکھ نہ کہے ہوں جو آج بھی زباں زد عام ہیں اور ان شہروں اور قصبوں کی آبادی کے سوشیو اکنامک پہلو کو واضح نہ کرتے ہوں ،بدھ مت کے بانی گوتم بدھ اور شیخ کی زندگی کے کئی حالات ایک جیسے ہی لگتے ہیں اور ان میں مشابہت بھی پائی جاتی ہے ، گوتم کی خبر ان کے جنم سے پہلے ہی دی جاچکی تھی ، جس طرح شیخ کی ،،، گوتم نے عالم جوانی میں ہی سارے بندھن توڈ دئے ، بالکل یہی بات شیخ کے ساتھ بھی ہوئی ،،گوتم نے بیوی بچوں کو چھوڈا تو شیخ بھی ایسا ہی کرتے ہیں ،،، دونوں نفس کشی اور فاقہ کشی کرتے ہیں ،،بدھ نے اپنے فلسفہ کی ترویج کے لئے عام فہم زبان کا استعمال کیا اور شیخ نے بھی لل و اکھ کی طرزپر منظوم لیکن آسان زباں کا استعمال کیا ،،، بدھ نے عورتوں کو بھی اپنے دائرے میں جگہ دی اور شیخ نے بھی ریشئیت کے آسماں تلے بہت ساری ریشی عورتوں کو باکمال کردیا ، ان میں بہت مشہور ۔۔۔بِہت بی بی،، دہت بی بی،،شنکہ بی بی ،، شامہ بی بی ہیں گوتم ساری عمر گھومتے رہے اور شیخ ا لعالم ؒبھی اسلام کے پر چار میں گھومتے رہے ،، گوتم نے اپنے پیروکاروں کے لئے مٹھ بنوائے اور شیخ نے اپنے ریشیوں کو خانقاہیں بنانے کی اجازت دی جہاں سے یہ لوگ وعظ و تبلیغ سے دین اسلام کا نو ر پھیلاتے رہے ،،، وادی کشمیر جہاں حضرت شاہ ہمدان نے ایک سماجی ، مذہبی تہذبی اور تمدنی انقلاب پید کیا تھا وہاں شیخ نے اس انقلاب میں رنگ بھر دئے، کشمیر میں ریشیوں کا سلسلہ اگر چہ شیخ سے ہی چلتا ہے لیکن ان سے پہلے بھی زبردست اور بڑے ریشی گذرے ہیں جن کا تذکرہ خود شیخ نے کیا ہے ، ، حق یہی ہے کہ شیخ ۔’’ علمدار ‘‘ کی زندگی کے کئی گوشے ابھی ہیں جن پر مختصر ہی سہی لیکن لکھنے کی خواہش مجھے بھی ہے اور مضمون کا تقاضا بھی ہے کہ کم سے کم ایک اور مضمون لکھ کر ان کی زندگی کے دوسرے گوشوں پر روشنی پڑ سکے ،، اس سے ابھی موخر کردوں یا اگلی قسط بھی شیخ کی ہی نظر کردوں ؟ آپ کی رائے کا منتظر رہوں گا ،،،،، یہ سارا مضمون تاریخ حسن ،(، تذکرہ اولیائے کشمیر ) ریش نامہ ،،ڈاکٹر سیار محمد کی کشمیر میں تصوف ریشئیت کے تناظر میں ،)نندہ ریشی ،،کشمیر کے بزرگان ۔واقعات کشمیراور کئی دوسری تاریخوں سے ماخوذ ہے