مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۲۷)
سلطان قطب الدین کے دو بیٹے تھے ، مرزا شکار ،،اور مرزا ہیبت ،باپ کی وفات کے بعد مرزا شکار تخت نشین ہوا اور سکندر کے نام سے حکمرانی ۱۳۹۴؁ء میں شروع کی ،تاریخ میں سکندر بت شکن کے نام سے جانا جاتا ہے ،یہ اپنی ماں نورہ کی مدد سے تخت نشین ہوا اور تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس کی ماں بہت قابل ، با ہمت اور سیاسی داؤ پیچ سمجھنے میں زبردست ماہر تھی ، اس کا ذہن بھی بیدا ر تھا اور نگاہیں بھی فوراً تاڈ لیتی تھیں ،، گویا اللہ کی طرف سے بصارت اور بصیرت دونوں عطا ہوئی تھیں ا س کا تاریخ جلوس یوں ہے ،،(بہر تاریخ سال سلطنتش،عقل گفتا بشرع وادہ رواج)یہ بادشاہ اپنے تمام بیشرؤں میں سے شان و شوکت اور فوج کی کثرت کے باعث ممتاز ہے ، شروع شروع میں والدہ محترمہ کی سر پرستی میں ملکی امورات انجام دیتا رہا لیکن بہت جلد ہی اپنی خدا داد صلاحیتوں کی بنیاد پر خود بھی سیاسی بصیرت حاصل کر گیا اور ملکی امورات خود بہ احسن خوبی چلانے میں کامیاب ہوا ، اوائل میں اس کے بہنوئی شاہ صمد نے سازشوں کے جال بھننا شروع کئے ، لیکن سکندر کی ماں نورہ جو بڑی ذہین اور اپنے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے میں باہمت تھی ،نے اپنے داماد اور بیٹی کو قتل کروایا اس کے بعد کہیں سے بھی کسی کو سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی ،اس کے بھائی ہیبت مرزا کو وزیر رائے مادری نے قتل کروایا ، سلطان سکندر کو بہت جلد اس کی خبر ہوئی لیکن اپنے وزیر کی مقبولیت اور چالاکیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ موقعے کا انتظار کرنے لگا ، اسی دوران رائے مادری کو بھی کسی طرح شک ہوا کہ اب سلطان اپنے موقعے کے انتظار میں ہے اور خود ہی تبت کی طرف فتوحات کے لئے فوجیں لینے کا خیال ظاہر کیا ، سلطان سکندر نے اجازت دی۔وزیر فوجیں لے کر اسکردو کی طر ف نکل گیا ۔ کئی فتوحات کیں لیکن ساتھ ہی بغاوت کرکے اپنی خود مختاری کا اعلان کیا ، سکندر شاہ فوراً لشکر جرار لے کر رائے مادری وزیر کے تعاقب میں روانہ ہوا ، ، تبت کی سرحد پر زبردست مقابلہ آرائی ہوئی اور آخر رائے مادری شکست کھا کر گرفتار ہوا ، جیل میں ڈال دیا گیا جہاں کسی طرح زہر منگواکر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ، اس کے ساتھ ہی سکندر کی مروت اور سخاوت کے قصے مشہور ہونے لگے ، کیونکہ سکندر بت شکن علما و فضلاء کی قدر دانی بھی بہت اچھی طرح کیا کرتا تھا اور مساکین و فقراء کو بھی مالا مال کرنے میں کسی قسم کی فر وگذاشت نہیں کرتا تھا ، یہی وجہ تھی کہ اس کی شہرت ملک کشمیر سے نکل کر عراق خراسان ، اور ماورالنہر ممالک تک پہنچی اور عالم ودانش ور دور دراز ممالک سے کشمیر آنے لگے ،، ، اس کے دور میں بڑے بڑے اسلامی علماء و فضلا وارد کشمیر ہوئے جن کی عزت افزائی سلطان کیا کرتے تھے ، ان میں سب سے بڑی اور شہرہ آفاق شخصیت حضرت میر محمد ہمدانی ؒ کی تھی جو حضرت سید علی ہمدانی کے فرزند تھے جنہیں ملک کشمیر کو اسلامی رنگ میں رنگنے کا سہرا حاصل ہے ، آپ نے پچھلی قسطوں میں پڑھا ہوگا کہ کہ ان صاحب کے ہاتھوں لاکھوں کی تعداد میںاہل ہنود مسلمان ہوچکے تھے اور کشمیر میں باضابطہ اسلامی شعائر بھی نافذ ہوچکے تھے ، میر محمد ہمدانی اپنی نوجوانی یعنی بائیس سال کی عمر شریف میںیہاں اپنے تین سو علما و درویشوں کے ساتھ تشریف فرما ہوئے ۔اس سے پہلے حضرت سید علی ہمدانی سات سو سے زیادہ بلند پایہ عالموں ، پرہیزگاروں اور متقی سادات کے ساتھ تشریف لائے تھے جو یہاں ملک کشمیر میں ہی کونے کونے میں اسلام کی شمعیں فروزاں کرکے اسی مٹی میں آرام فرما ہیں ، ، سلطان سکندر خود آپ کی قدمبوسی کے لئے آئے اور انہیں بڑی عزت و توقیر کے ساتھ محلہ نوہٹہ میں ٹھہرایا اور ان کے لئے ایک عالی شان مکان تعمیر کروایا ، اس کے ساتھ ہی حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی کے لئے جہاں صفہ تھا ونہی ایک خانقاہ معلی تعمیر کروائی جو آج بھی سارے کشمیر کے مسلمانوں کے لئے مرجع نور اور فیض و برکات کی آماجگاہ ہے اور یہاں ہر برس عرس بڑی شان کے ساتھ منایا جاتا ہے ،سلطان نے یہاں ایک لنگر بھی بنایا جس کے لئے تین گاؤں مختص کئے گئے ،جو سکھوں کی حکومت تک اسی خانقاہ کی جاگیر میں شامل تھے ،، سید میر محمد ہمدانی نے ہی شراب نوشی ، قمار بازی ، زناکاری اور دوسری بدکاریوں پر احکامات شرعیہ کے تحت سزائیں مقرر کر وائیں بلکہ سازو سرود کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ،اسی دور میں سیہ بٹ جو سلطان کا خاص وزیر تھا میر محمد ہمدانی کے ہاتھ پر بیعت کرکے اپنے اہل و عیال اور رشتہ داروں کے سمیت مسلماں ہوا ،اور اپنی بیٹی (بارعہ) کو سید ؒ کے عقد میں دے کر حضرت میر محمد ہمدانی سے سلسلہ قرابت پیدا کیا ، سیہ بٹ کو ملک سیف الدین کا نام دیا گیا،سیف الدین کے مشرب بہ اسلام ہونے کی وجہ سے ہندؤں میں ان کے خلاف نفرت اور بغض پیدا ہونا ایک فطری عمل تھا ، وہ سیف الدین کوحقارت کی نظر سے دیکھنے لگے ،ان کے خلاف بڑی بد گمانیاں پھیلانے اور انہیں اور ان کے سارے خاندان کے در پہ آزار بننے لگے ، سیف الدین کو ان سب باتوں کا پتہ چل رہا تھا ، ہندو اس فکر میں تھے کہ کسی طرح سے پھر ایک بار تخت انہیں حاصل ہوجائے تاکہ وہ انتقام کی آگ بجھا سکیں ، اور دوسری طرف نو مسلم اس فکر میں تھے کہ دین اسلام کی پیروی کے ساتھ ساتھ مسلم سلطاطین مستحکم ہوں ،،، ملک کے کئی حصوں میں سلطان کے خلاف بلوے ہونے لگے جن کی لگام ہندؤں کے بڑے بڑے مہنت اور پجاریوں کے ہاتھ میں تھی ،،یہ ظاہر ہے کہ ان ہندؤں کو دو طرح کا غم ستارہا تھا جوانہیں بے قرار کئے ہوئے تھا ایک یہ کہ ہندو راجگاں کا دور ہزاروں برس کے بعد آخر ختم ہوچکا تھا اور دوسری بات یہ کہ اب سارے کشمیر میں اسلام کی روشنی انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ دور و نزدیک ضو فشاں ہورہی تھی ، اور اس پر ستم ظریفی یہ تھی کہ اشراف ، امراء وزرا بھی اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر دین اسلام قبول کر رہے تھے ۔یہ پنڈتوں پروہتوں اور پجاریوں کی روٹی روزی اور ان کی سماج میں ہزاروں برس کی سرداری کا خاتمہ بھی ثابت ہورہا تھا اسلئے ، مخاصمت اور نفرت بڑھتی گئی ،سلطان نے میر محمد ہمدانی کے کہنے پر شہر کے بیچوں بیچ ایک انتہائی شاندار خانقاہ تعمیر کی بلکہ موضع وچی میں خانقاہ والا ۔ موضع ترال میں خانقاہ اعلیٰ ،اور مٹن میں خانقاہ کبرویہ تعمیر کرائیں ،ایسا مانا جاتا ہے کہ ملک سیف الدین اور ہندؤں میں آپسی مخاصمت کی وجہ سے ملک سیف الدین نے انتہائی درجے کے اقدا مات اٹھائے ۔ اور بہت سارے منادر توڈنے کے احکامات جاری کروادئے جن کی وجہ سے سکندر کو (بت شکن ) کا لقب ملا ، ان میں کئی مشہور منادر یوں ہیں ، سلطان نے سب سے پہلے مندر مارٹنڈ شور کو جو ساڈھے چار ہزار برس پہلے راجہ رام دیو نے بنوایا تھا منہدم کرنے کا ارادہ کیا ،،اس کے بعد بہت سارے مندر جو بیجبہاڈہ میں تھے انہیں مسمار کرادیا ، اسی طرح پرسپورہ ، بارہمولہ تر پریشر ، پرسپور میں للتا دتیہ کے بنائے ہوئے پرہاس کیشو اور مکتا کیشو بھی مسمار ہوئے ، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کسی کی بنیاد کے نیچے سے ایک صندوق بر آمد ہوا جس میں ایک تانبے کے پتر پریہ عبارت تھی کہ ’’ اس مندر کو اتنی مدت کے بعد ایک راجہ مسمار کردے گا جس کا نام سکندر ہوگا اور وہ شخص اس بدھ کے مجسمے کو توڈ دے گا جو اس صندوق میں ہے ،،‘‘کہا جاتا ہے کہ للتا دت نے جب یہ مندر مکمل کیا تھا تو اپنے نجومیوں سے اس کا مستقبل پوچھا تھا جس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک بادشاہ اس نام کا ہوگا جو اس مندر کو توڈ دے گا ،،، وزیہ ایشری (بجہاڈہ) کے مندر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سب سے بڑا اور اونچا مندر تھا اور جب اس سے گرانے کی شروعات ہوئی توآگ کے بڑے بڑے شعلے پیدا ہوئے ، ہندو لوگوں نے اس سے بھگوانوں کے چمتکار وں سے تعبیر کیا لیکن سلطان سکندر نے کسی چیز کو خاطر میں نہیں لایا اورمندر گرادیا ، جس کی بنیاد میں ایک پتھر رکھا ہوا تھا جس پر یہ حروف کندہ تھے ، (بسم اللہ منترینہ نشغف وزیہ ا یشری یعنی ایک فسون اور منتر ہے جو وزیہ ایشری مندر کو تباہ کردے گا ، سلطان نے اس مندر کے بہت سارے پتھروں سے بیجبہاڈہ کی جامع مسجد تعمیر کروائی ،،، اسی طرح بجے شور مندر کا جس کا کچھ حصہ سلطان شہاب الدین نے مسمار کیا تھا سلطان سکندر نے اسکو جڑ سے اکھاڈ پھینکا اور محمد قریشی کے خدام کے لئے اس کی جگہ ایک خانقاہ تعمیر کروائی ،اس دور میں جیسا کہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ اکثر ہندو مسلمان ہوئے ، اور سلطان نے تمام غیر شرعی رسومات پر پابندی عائد کردی ،،سلطان سکندر ا س لحاظ سے بھی اقبال مند ثابت ہوا کہ جہاں بھی لشکر کشی کی فتح نصیب ہوئی اور ملک کشمیر میں بھی مکمل امن و اماں قائم رہا اور اپنے تمام ہمعصر بادشاہوں سے اس معاملے میں بھی بازی لے گیا ۔ ملک سیف الدین سے چونکہ پر خاش تھی اور سمجھتے تھے کہ اس کے مسلمان ہونے سے کچھ زیادتیاں بھی ہورہی ہیں ، یہ بات حضرت میر محمد ہمدانی ؒ تک بھی جب پہنچی تو انہوں نے فوراً ہی سلطان سکندر کو روکا اور اس سے سمجھا دیا کہ دین اسلام میں کوئی زور زبردستی نہیں بلکہ لوگ اپنی مرضی سے مسلماں ہوں اور دین اسلام قبول کرنا چاہئیں تو ٹھیک ہے نہیں تو انہیں اپنے دین پر قائم رہنے کی پوری پوری آزادی ہے سلطان پر اس نصیحت کا اثر ہوا، کوشش کی کہ کہیں بھی جبر روانہ ر کھا جائے ، سلطان سکندر (بت شکن ) انصاف پسند ،، رعایا پرور اور خلق خدا کا بہت خیال رکھا کرتے تھے ، ان کے دور میں وہ پہلے بادشاہ ہیں جنہوں نے ظلم عظیم۔ ستی کی رسم کو ممنوع قرار دے کر اس کے لئے سخت سزائیں مقرر کیں ، ،جب کہ اس کے لئے بھارت میں بڑی دیر کے بعد اس رسم کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں ، اس طرح سلطان اپنے آگے مستقبل میں بھی جھانکنے کی بصیرت رکھتے تھے ، دوسری اہم بات ہندؤں سے متعلق یہ بھی کی کہ اس نے تمغہ جو ایک قسم کا ٹیکس تھا اس سے معاف کیا ،کئی مورخوں نے لکھا ہے کہ جو کئی زیادتیاں اس دور میں ہوئی ہیں ان کے لئے سیہ بٹ سیف الدین ذمہ دار ہے جو بادشاہ کی خوشنودی کے لئے یا ہندؤں سے ناراضگی کی وجہ سے ایسے کام انجام دیا کرتا تھا جو سلطان کو بھی پسند نہیں تھے ،’’ گلدستہ کشمیر‘‘پنڈت ہرگوپال کول اور گلزار کشمیر ،میں دیوان کرپا رام مد ارالمہام ،دونوں اس بات پر متفق ہیں ،،سکندر اپنے تمام بادشاہوں سے آگے رہے ، اور ایسا کوئی شعبہ نہیں تھا جہاں انہوں نے بہتر اصلاحات نہیں کیں ، آخر ۲۲برس ایک ماہ ۱۶ روز کی حکمرانی اور بادشاہت کے بعد اس دنیا سے۱۴۱۷؁ء کو اس دار فانی سے رخصت ہوا، (۲۲ محرم الحرام۸۲۰ھ)لوکی شری مندر کے احاطہ میں شمال کی جانب مدفون ہے ، ’’فوت سکندر ‘‘تاریخ وفات ہے ،،زمانے کے بڑے شعرا نے مر ثیوں میں اپنے دکھ اور سکندر کی بڑائی کا ذکر کیا جو بہت مشہور ہیں ،،،