مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۲۸)
سلطان سکندر (بت شکن ) نے اپنے آخری لمحات زندگی میں اپنے تینوں بیٹوں میر خان۔ شاہی خان۔اور محمد خان کو اپنے پاس بلاکر اتحاد و اتفاق کی تلقین کرنے کے بعد،میر خان نے اپنے بڑے بیٹے کو ولی عہد مقرر کیا تھا ،اس وصیت کے مطابق میر خان علی شاہ کا لقب اختیار کرکے ۱۴۱۷؁ء کو تخت نشین ہوا، یہ تاریخ ،، تاریخ حسن سے ماخوذ ہے اور دوسری تاریخوں میں ۱۴۱۳؁ء ہے ۔ میرے خیال میں یہ فرق شروع سے شاید ھ کو عیسوی میں بدلنے میں فرق ہوا ہے ،، میر خان یعنی سلطان علی شاہ پر سیف الدین کا غلبہ رہا اور سیف الدین نے اپنے اختیارات سے بارہا تجاوز کیا ،میر خان اپنے باپ کی طرح ذہین اور مدبر ثابت نہیں ہوا ،متلون مزاج تھا ، سیف الدین کے علاوہ علی شاہ کو لدی ماگرے اور حکم شنکر پر بھروسہ تھا جس کی وجہ سے سیف الدین کے دل میں ان کے خلاف حسد اور بغض پنپتا رہا اور انہیں ختم کرنے کے لئے موقعے کا انتظار کرنے لگا ،اس نے لدی ماگرے کے دوسرے لڑکے تاجی کو اپنے دام فریب میں پھنسایا اور محمد ماگرے کو فریب دے کر سرینگر بلانا چاہا لیکن محمد ماگرے کو شک ہوا تو قبیلہ خاشس کے سردار گووند کے یہاں پناہ لی، لیکن گووند نے وشواس گھات کرکے اس سے سیف الدین کے آدمیوں کے حوالے کیا ،اور سیف الدین نے اسے پابہ زنجیر بیروہ کے قلعہ میں قید کردیا ،جہاں سے وہ کچھ ہمدردوں کی مدد سے فرار ہوا ،(سلاطین کشمیر )سلطان سکندر سے علی شاہ کے ابتدائی دور۔ پانچ سال تک ہم سیف الدین کو بار بار منظر میں کردار نبھاتے ہوئے دیکھتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ سیف الدین بلاکا ذہین اور عقلمند تھا لیکن اپنے حسد اور بغض کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح فلاحی کاموں میں صرف نہیں کرسکا ، جوڑ توڑ اور انتقام گیری نے اس کی منصف مزاجی کو پیچھے دھکیلا تھا ، نہیں تو اس نے کئی بار حیران کن انداز میں ایسے مقدموں کے فیصلے کئے ہیں جو صرف ایک منصف مزاج اور عادل شخص ہی کر سکتا ہے ،،اس ضمن میں کئی قصے مشہور ہیں ،کہتے ہیں دو مالکوں کی دو گھوڑیوں نے ایک ہی چراگاہ میں بچے دئے ،ایک بچہ ہلاک ہوا ،جو بچ گیا وہ دونوں کا دودھ پیتا تھا اس لئے جھگڑا کھڑا ہوا اور مقدمہ سیف الدین تک آگیا ،ملک سیف الدین نے دونوں گھوڑیاں دریائے جہلم کے کنارے پر کھڑی کیں اور بچھڑے کو دوسرے کنارے پر کھڑا کیا ، دونوں گھوڑیوں نے بچھڑے کو دوسرے کنارے پر دیکھا تو ان میں سے ایک فوری دریا میں کود گئی اور دریا پار کرکے بچھڑے کے پاس آئی ، سیف الدین نے فیصلہ کیاکہ یہی اس کی اصل ماں ہے کیونکہ شفقت اور محبت کی وجہ سے یہ گھوڑی دریا پار کرچکی ہے ،،دوسری کہانی یوں ہے کہ ایک کاتب جو بوڈھا تھا اس کی بیوی جوان تھی،اس عورت نے ایک جواں آدمی سے شادی کی ،اور اپنے بوڑھے خاوند سے بالکل لاعلمی اور لا تعلقی کا اظہار کیا ، مقدمہ سیف الدین تک پہنچا ، دونوں خاوند اپنی طرف سے شواہد پیش کرتے رہے لیکن کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچا جاسکا ، اس کے بعد اچانک سیف الدین نے اپنے قلمدان سے دوات لے کر اس عورت کے ہاتھ میں تھما دی اور کہا کہ اس میں پانی ڈالے ، عورت نے نہایت ہوشیاری سے دوات میں پانی ڈالا ، یہ دیکھ کر سیف الدین سمجھ گیا کہ کہ یہ عورت قلمدان میں سیاہی یا پانی بھرتی رہی ہے ، اس بنا پر مقدمے کا فیصلہ کیا ،ایک تیسری کہانی بھی اس کی ذہانت اور عقلمندی کا واضح ثبوت پیش کرتی ہے جو دلچسپ بھی ہے ، ،کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک دھوبی کو غربت کی وجہ سے اپنے ہی گھر میں نقب زنی کا خیال آگیا ، اور اسی رات اپنے گھر میں نقب لگاکر شور مچایانے لگا کہ چوروں نے اس سے لوٹ لیا ہے، اسی اثنا میں وہاں سے چوکیدار کا گذر ہوا تو دھوبی نے چوکیدار کو ہی چور بتاکر اس سے مارنا پیٹنا شروع کیا ،، مقدمہ سیف الدین تک آگیا اور دونوں اپنے اپنے بیانات پر بضد رہے اس لئے کوئی فیصلہ نہیں دیا جاسکا ، پھر سیف الدین نے ایک منصوبہ تشکیل دیا جس کی رو سے اس کے نوکر کی بیوی روتی پیٹتی آگئی کہ اس کا خاوند مرچکا ہے ،، سیف الدین نے اس نوکر کو کفن پہناکر تابوت میں ڈالا، اوردھوبی اور چوکیدار کو حکم دیا کہ یہ تابوت پانپور پہنچادیں، دھوبی اور چوکیدار گرتے پڑتے بڑی مشکل کے ساتھ بارش برف میں تابوت کو کبھی کندھے پر تو کبھی گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھتے رہے، ایک جگہ دونوں تھک ہار کے سستانے کے لئے بیٹھ گئے ،،تو چوکیدار نے دھوبی سے کہا کہ ناحق مجھے اور خود کو بھی اس قدر تکلیفوں اور مصیبتوں میں ڈال کر تمہیں کیا ملا، میری سمجھ میں نہیں آرہا ،،،دھوبی نے کہا کہ میں لوگوں کے کپڑے ہضم کرنا چاہتا تھا جو میرے پاس دھونے کے لئے آئے تھے لیکن تم نے میرا پلان ہی ناکام کردیا ،، تابوت کے اندر سے نوکر باہر آیا اور بولا کہ تمہارے سچ سے میں زندہ ہوگیا اور دھوبی کو اس طرح سے سزا ملی ،،سیف الدین ان واقعات سے منصف مزاج اور عادل شخص بھی نظر آتا ہے ، چالیس برس تک وزارت کے منصب پر فائض رہا اور پورے شاہی اختیارات کا استعمال اپنی عقلمندی اور چالاکیوں سے کرتا رہا جس میں وہ کام بھی سر انجام دئے جنہیں سلطان سکندر نہیں کرنا چاہتا تھا جس میں بت شکنی بھی اسی کا پلان یا منصوبہ تھا،ملک سیف الدین علی شاہ ہی کے دور میں کسی مہلک مرض میں گرفتار ہوکر مرگیا ، ہنس بھٹ اور گور بھٹ جو سیف الدین کے بھائی تھے ان دونوں میں حکومت پر جھگڑا کھڑا ہوا ،،،علی شاہ کا چھوٹا بھائی جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں شاہی خان، عوام میں اپنے کردار ، پرہیز گاری ، خدا پرستی اور انصاف پسندی کی وجہ سے شہرت پارہا تھا ، ہنس بھٹ اس سے اپنی راہ کا کانٹا سمجھ کر اس سے قتل کرانا چاہتا تھا لیکن شاہی خان کو اس کا پتہ چل گیا اور علی شاہ کے ایما پر عید الاضحیٰ کے دن ہنس بھٹ کو عید گاہ میں قتل کروایا ، اب علی شاہ نے اپنے بھائی شاہی خان کو اس کی جگہ وزیر اعظم کا منصب عطا کیا ،، ان واقعات کے بعد علی شاہ نے حج بیت اللہ کے لئے مکہ معظمہ جانے کی خواہش کی اور یہ بھی فیصلہ کیا کہ بقیہ زندگی ونہیں گذارے گا ،، شاہی خان نے بھائی کو باز رکھنے کی کوشش کی لیکن علی شاہ اپنا من بنا چکا تھا اس لئے شا ہی خان کو سلطنت کی ذمہ داری دے کر رخت سفر باندھا ،سرینگر سے علی شاہ جموں پہنچا جہاں اس کا خسر راجہ جموں اس سے ملا ، علی شاہ نے اپنا مدعا ظاہر کیا تو راجہ جموں نے اس سے سرزنش کی ،علی شاہ چونکہ کمزور قوت ارادی کا مالک تھا اس لئے یہاں سے اپنے ارادے بدل دئے اور واپسی کا سفر براستہ راجوری شروع کیا اور اس کے ساتھ راجوری اور جموں کے لشکر بھی ساتھ ہولئے ،یون راج، لکھتا ہے کہ شاہی خان اپنے بھائی سے صرف اس لئے خفا ہوا کہ اس نے باہر کی افواج ساتھ لائی ہیں جب کہ شاہی تخت وتاج علی شاہ کو بصدق دل واپس کرنا چاہتا تھا کیونکہ اسی بھائی نے اس پر بھروسہ کیا تھا ،، دوسرے مورخ نے لکھا ہے کہ شاہی خان تخت سے سبکدوش ہوکرباہر چلاگیا، شاہی خان سیالکوٹ پہنچا جہاں سے جسرت کھوکر نے ان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ، ادھر سے علی شاہ بھی اپنی فوجیں لے کر چلا ،جموں کی افواج نے اس سے مشورہ دیا کہ وہ انتظار کرے کیونکہ کھوکر جنگی چالوں سے واقف ہیں ، علی شاہ نہیں مانا ،آگے بڑھا اور جسرت کے ہاتھوں اس کو ٹھنہ میں شکست ہوگئی ،شاہی خان سرینگر کی طرف بڑھا ۔ لیکن علی خان نے پھر افواج جمع کیں اور جموں سے بھی مدد لے کر اپنا تخت و تاج حاصل کرنے کے لئے حملہ آور ہوا ، شاہی خان اپنی فوجیں لے کر بارہمولہ کے راستے سے آگے بڑھا اور اوڈی کے مقام پر اپنے بھائی کو شکست دی ،حیدر ملک لکھتا ہے کہ علی شاہ گرفتار ہوا ، پکھلی کے قلعہ میں قید کردیا گیا اور کچھ سال بعد مرگیا ،،لیکن شری در لکھتا ہے کہ جسرت نے اس سے گرفتار کرکے قتل کر دیا ،،،، اس کے بعد اس کہانی کا آغاز ہوتا ہے جو سب سے دلچسپ ، عظیم اور رہتی دنیا تک یاد کی جانے والی کہانی کا آغاز ہوگا ، جس سے ہم’’ بڈشاہی ‘‘دورسے موسوم کرتے ہیں جس کا مطلب ہی بڑا بادشاہ ہوتا ہے ،، کشمیر کے سلاطین میںاتنا عظیم بادشاہ نہ تو ہمیں ہندو راجگاں کے دور میں نظر آتا ہے اور نہ ہی سلاطین کشمیر میں پھر کبھی ایسا کوئی بادشاہ گذرا ہے ، نہ ماضی میں اور نہ مستقبل میں گذرنے کا خیال کیا جاسکتا ہے ، للتا دت بھی فتوحات اور کئی دوسرے پہلو ؤں سے بھی بڑا بادشاہ تھا لیکن جب ، بڈشاہ سے اس کا موازنہ کیا جاتا ہے تو بڈ شاہ کسی اور ہی مقام پر نظر آتا ہے ،، کیونکہ بڈشاہ صرف ایک عادل حکمراں ہی نہیں ، بلکہ پرہیز گار ، متقی ، ایماندار ، عادل ، انصاف پسند ، عالم و فاضل ، علم دوست اور اہل دانش ، اہل فن اور اہل ہنر کا زبردست قدر داں تھا ، یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی تاریخ کا سنہرا دور یہی کم و بیش پچاس برس رہے ہیں ، جس میں عملی طور پر ،شیر اور بکری نے ایک ہی گھاٹ پانی پیا ہے ،،، امن و اماں ، سکھ و چین ،، علم و فن، صنعت و حرفت کو فروغ دے کر بلند درجے پر لے جانے والا ، بڑا بادشاہ ۔۔ بڈ شاہ ، اگلی قسط اسی کے نام ہوگی اور انشاللہ اس عظیم اور اولو ا لعزم بادشاہ کا ذکر تفصیل سے کیا جائے گا تاکہ ان کی جو ہماری تاریخ میں اہمیت ہے اس کے لگ بھگ سب پہلوؤں پربات کی جاسکی ، جو اس عظیم اور شاندار بادشاہ کا حق بھی بنتا ہے ،،،