مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۲۹)
علی شاہ اپنے باپ سکندر کے خاک پا کے برابر بھی ثابت نہیں ہوا اس لئے ہندو ،مسلم سب اس سے بیزار تھے،ہندو اس لئے کہ سیف الدین ملک اس کا بااختیار وزیر تھا جس نے ہندو برادری کو کافی تکلیفیں پہنچائیں اور مسلم یوں بیزار ہوئے کہ ملک کا نظم و نسق بگڑ گیا ، شاہی خان ۱۴۷۴ ؁ میںتخت نشین ہوا اور زین العابدین کے لقب سے مشہور ہوا اور آج تک اسی نام سے جاناجاتا ہے جب کہ اپنے عوام نے زین، کو بعد میں اپنا بڑا بادشاہ یعنی بڈشاہ کے نام سے اپنے دلوں میں جگہ دی جو آج تک قائم ہے اسی لئے میں نے پچھلی قسط میں کہا تھا کہ آگے آپ ایک خاص الخاص شہنشاہ سے ملنے جارہے ہیں ، جس کا موازنہ کئی مورخ اکبر سے بھی کرتے ہیں لیکن بڈشاہ مذہب کے معاملے میں اکبر نہیں تھا ، ہاں اس نے اپنے دور میں جو مذہبی رواداری ، اور دوسرے ادیان کے لئے احترام و توقیر کے جذبوں سے کام لیا وہ اس سے تمام بادشاہوں سے ممیز و ممتاز کر دیتا ہے اس کے باوجود کہ وہ ا پنی نجی زندگی میں متقی اور پر ہیز گار ، اور اپنے عمل و کردار سے ایک بہت اچھا مسلمان ہونے کا نمونہ تھا ،، ،،’’زین العابدین ‘‘کے معنی ہی ہوتے ہیں عابدوں کی زینت ،،، اس کا مطلب ہے کہ زین العابدین ، شروع سے ہی متقی تھے ، پرہیز گار تھے ، انصاف پسند تھے اور رعایا پرور تھے ، ، تاج شاہی زیب تن کرکے اپنے بھائی محمد خان کو نائب السلطنت مقرر کیا ، اور امورات اسی کو تفویض کئے ،ہلمت رینہ اور احمد رینہ کو سپا ہ سا لاری کے منصب دئے اور ملک مسعود کو مدارالمہامی کے عہدے پر سرفراز کیا ، ، ایک قضا ۃالقضا عدالت اور تشخیص و اتصال مقدمات کا کام خاص اپنے ذمہ رکھا ،بڈشاہ اپنے دور کا ہی بے نظیر شہنشاہ نہیں تھا بلکہ ماضی کے تمام شہنشاہوں سے بازی لے گیا اور اپنی بے لاگ بصیرت کی وجہ سے مستقبل کے بادشاہوں کے لئے بھی ایک عملی اور بہترین نمونہ ثابت ہوا،تعصب ، ریاکاری ، خود غرضی اور جور و جفا سے سخت نفرت کرتا تھا اور اپنے آس پاس خوش آمدیوں اور چاپلوسوں کو بھی پھٹکنے نہیں دیا ، اپنے انٹیلیجنس ڈیپارٹمنٹ کی اہمیت کا ادراک تھا اس لئے خود بھی اکثر و بیشتر خلفاء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھیس بدل کر تنہا راتوں کے شہر کا گشت کرتا ، تاکہ اصل حالات سے واقف ہوتا رہے ،، اپنے جلوس کے دن سابقہ شاہوں کے تمام قیدی رہا کئے ، تمام رسومات بد پر پابندی عائد کی ،جرمانہ جو رعایا سے وصول کیا جاتا تھا بیک جنبش قلم منسوخ کردیا،تمام قواعد و ضوابط پر نظر ثانی کرکے بہتر قوانین مرتب کئے ،اور ان قوانیںکو تانبے کے پتروں پر کندہ کراکر شہر و گام بھجوادئے تاکہ رعایا آسانی کے ساتھ جان سکے کہ نئے قوانین کیا ہیں اور انہیں کن قوانین کا پالن کرنا ہے ،عام اشتہارات اور ڈ ھنڈور چیوں سے اعلان کروایا کہ چور ، ڈاکو ، فریبی اور لوٹ کھسوٹ کرنے والے خود ہی باز آجائیں نہیں تو انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی دیر نہیں کی جائے گی ، سلطان نے اوائل میں ہی پرانے ضرب کو منسوخ کرکے خاص دھاتیں مسکوک کر کے نیا سکہ جاری کیا ،، یہ سکے اب بھی میوزیم میں موجود ہیں ،،بڈشاہ کی تخت نشینی نے ملک کشمیر میں ایک نئے انقلاب کو جنم دیا ، جس میں عوام کو نہ چوروں کا ڈر رہا نہ ٹھگنے اور نہ نا انصافی کا بلکہ عوام پہلی بار بڑے طویل عرصے کے بعد سکون کی سانس لے پائے ، بادشاہ نے خود جیسا کہ ہم نے لکھا ہے عدالتوں کا نظام اپنے تحت رکھا تھا اور اس طرح سارے پیچیدہ مقدمات جو دوسرے قاضی حل نہیں کر پاتے تھے یہاں سلطان کی عدالت تک پہنچتے ، ان میں کچھ مشہور واقعات کا تذکرہ اس لئے ضروری ہے کہ آپ سمجھ جائیں کہ سلطان بڈ شاہ نے یوں ہی یہ شعبہ اپنے ماتحت نہیں رکھا تھا بلکہ اس سے اپنی انصاف پسندی پر زبردست بھروسہ تھا، ایک بار ایک عورت نے اپنی سوکن سے انتقام لینے کی خاطر اپنے بچے کو مار ڈالا اور الزام سوکن پر رکھ لیا اور اس الزام پر اڈی رہی ، یہ مقدمہ آخر سلطان کی عدالت میں آگیا ،،سلطان نے ملزمہ کو تنہائی میں بلاکر تسلی دی کہ اگر یہ جرم اس سے سرزد ہوا ہے تو اس سے معاف بھی کیا جاسکتا ہے ، لیکن ملزمہ نے انکار کیا ، اس کے بعد سلطان نے اسے آفر دی کہ اگر وہ بنا کپڑوں کے ،عریاں میرے دربار سے گذر جائے تو وہ رہا کردی جائے گی ،، ملزمہ نے جواب دیا کہ اس سے بہتر ہے کہ مجھے پھانسی دی جا ئے ، اس کے بعد سلطان نے یہی باتیں دوسری عورت سے کیں جو اپنے استغاثہ پر اڈی رہی اور اسے ثابت کرنے کے لئے دربار سے عریاں نکلنا منظور کیا ،، سلطان نے اس عمل سے فیصلہ سنادیاکہ یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے اس لئے کوڈے لگائیں جائیں ، عورت نے قبول کیا کہ اپنی سوکن کو پھانسی دلوانے کے لئے اس نے یہ ڈھونگ رچایا تھا،،مہمات ،،سلطنت کے پورے طور پر استحکام کے بعد وہ ممالک کی تسخیر کی طرف متوجہ ہوا ،لیکن یہ بات اہم ہے کہ سلطان کا عہد اپنے دادا کے عہد کی طرح مہمات اور فتوحات کا دور نظر نہیں آتا ، اس بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ ملک گیری کی ہوس سے بھی بیگانہ تھا اور علاقہ جات کے لئے لاکھوں انسانوں کا خون بہانابھی اسے پسند نہیں تھا اس نے اپنی ساری توجہ مملکت کو خوشحال اور پرسکون بنانے پر ہی مبذول رکھی،لیکن اپنے ان علاقوں کی طرف ضرور اس کی توجہ تھی جو اس کے بھائی علی شاہ کی کمزوری کے باعث بغا وت کرکے علیحدگی کا اعلان کر چکی تھیں ،اس لئے پرگنہ لار میں زین العابدین نے ایک لشکر جرار تیا رکیا اور اپنے فوجی سرداروں کے ہمراہ کوچ کیا ، زوجیلا کو پار کرکے پہلے لداخ کو فتح کیا اس کے بعد بلتستان کا حکمران بھی مطیع ہوا ، تاریخوں میں درج ہے کہ زین العابدین کاشغر کے حکمران سے بھی لداخ میں نبر آزما ہوا ،، لیکن جونراج جو اس د ور کا مورخ ہے اس کی صراحت نہیں کرتا ،،لیکن تاریخ حسن میں اس جنگ کی تفصیل موجود ہے ، دوسرے سال سلطان نے جسرت خان گھکڑ کی معیت میں نواحی پنجاب میں خیمے نصب کئے اور اپنے ملک کو پشاور سے لے کر دریائے ستلج تک وسعت دی ،ستلج پار کرنے کے بعد بادشاہ دلی سے جنگ ہوئی ،، شدید لڑائی کے بعد صلح نامہ پر دستخط ہوئے جس کی رو سے ملک کشمیر کی حدود فیرز شاہ تغلق کے عہد نامے کے مطابق سرہند تک مقرر ہوئیں اور اس کے بعد دہلی کے سلطان کی حدود تھیں ، پنجاب کے ممالک کا بندوبست کرکے سلطان واپس کشمیر آگیا ،، ،، تعمیرات،،،،، سلطان زین العابدین دو چیزوں کا شوقین تھا ایک تعمیر اور دوسری سیرو تفریح ،، اس لئے اس نے اپنے خالی اوقات میں خوب سیرو تفریح کی جس کی وجہ سے دور و نزدیک اس نے محل یا باغات تعمیر کروائے اور تیسری بات اس سیرو تفریح سے ان مقامات کی تعمیر و ترقی بھی بڑی تیزی اور شاندار طریقے پر کی جاتی تھی ،۔کوہسار ، تالاب ، چشمے اور خوبصورت چراگاہیں اس کا من موہ لیتی تھیں ،اس لئے بہت ساری جگہوں پر اس کی بنائی ہوئی یاد گاریں موجود ہیں ،،چشمہ کوثر ناگ ،،، تحصیل کولگام میں شوپیان کے علاقے میں ۱۳۰۰۰ فٹ کی بلندی پر قریب دو میل لمبا اور چھ سو گز چوڈا ایک تالاب ہے ،اس کا پانی منجمد رہتا ہے اور پہاڈ کی چوٹی پر ایسی جھیل کا واقعہ ہونا قدرت کا کرشمہ ہے ، اس تالاب میں سلطان نے چوب صندل کی ایک کشتی ڈال رکھی تھی جس پر سلطان کبھی کبھی سیر کیا کرتا،اسی طرح ہر مکھ (،مشہور پہاڈ )کے دامن میں گنگا بل،یا ہر مکٹ ،، ( کوہ ہر مکھ کے دامن میں بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر ڈیڈھ میل لمبا اور دو سو پچاس گز چشمہ ہے ، ہندو اس سے ہر دوار کی مانند متبرک مانتے ہیں ، اور ہر سال اگست میں یہاں میلہ لگتا ہے ،، گرمیوں کے سوا باقی سارے مہینے یہاں پانی منجمد رہتا ہے ،سلطان نے اس جھیل میں سیر و تفریح کے لئے کشتیاں ڈال رکھی تھیں ، جھیل اولر کے مغربی کنارے پر عدم آبپاشی کی وجہ سے یہ سارا علاقہ ویران پڑا تھا ، سلطان نے اس کی سیرابی کے لئے لاکھوں روپیہ کی لاگت سے نالہ پو مرو سے کئی نہر یں جاری کروادیں ، جس سے یہ علاقہ زرخیز ہوگیا اور اس علاقے کا نام بھی زینہ گیر ہی ہے ،،سلطان نے اس علاقے کے موضع ترہ گام کے متصل کئی باغات اور تعمیرات بنائیں ، ، ان عمارتوں میں کہا جاتا ہے کہ کئی عمارات عجوبہ روزگار تھیں ، اور یہاں کے باغات بھی اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھے ، مختلف ممالک سے نئے درخت لاکر یہاں لگائے گئے تھے ،خود بھی کبھی کبھی یہاں آکر سلطان دو تین دن گذارا کرتے ، لیکن ایک کوتاہ اندیش اور بد بخت شخص کو یہ گماں گذرا کہ شاید سلطان اس سے کسی قسم کی تکلیف پہنچانے کے درپہ ہے اس لئے اس نے ان محلات اور باغات کو مسمار کیا ، سلطان کو زبردست دکھ اور مایوسی ہوئی اور اس شخص اور اس کے حواریوں کا تعاقب کرکے انہیں ملک درد ستان سے گرفتار کرکے اس نے پانڈو چک کو کوڈے مار مار کے ہلاک کروایا اور اور ان کے تمام دوسرے ساتھیوں کو پھانسی دی ،، اس کے علاوہ اَن گنت اور بھی مقامات ہیں لیکن ان میں سات مقامات شہرہ آفاق ہیں جن کے بارے میں سب کشمیری جانتے ہیں کیونکہ یہ ابھی تک سلطان کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔۔۔ آگے ۔