مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۳۲)

سوچا تھا کہ سلطان زین العابدین کے سنہرے دور اور تابناک سورج میں گرہن لگانے والے ان کے ناہنجار ، کم عقل اور خبیث بیٹوں کا ذکر نا کروں لیکن تاریخ کا تقاضا یہی ہے کہ مختصر طور پر ان کے سیاہ کارناموں اور کو اجاگر کیا جائے کیونکہ جب میں نے دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جس کا تھوڈا سا حصہ میرے زیر مطالعہ رہا ہے میں نے اور بھی کئی ایسی مثالیں دیکھی ہیں ، اور اگرچہ یہ کوئی نئی بات نہیں لگی ، جہاں ہماری اور دوسرے ممالک کی تاریخ میں بیٹوں نے والدین کا خون بہایا ہے اور ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کو بے دریغ قتل کیا ہے اور تاج و تخت پانے کے لئے اپنوں اور پرائیوں کا احساس کئے بغیر ہی چھوٹے چھوٹے بچوں تک کو نہیں بخشا ہے وہاں یہ تینوں بیٹے ایسا کرتے ہیں تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ،، چلئے ایک تو پکا شرابی ہی تھا ، کیا بھلائی کی توقع کی جاسکتی تھی ایک زانی تھا اس لئے وہ بصیرت کا حامل ہو ہی نہیں سکتا تھا اور تیسرا منافق ،،، سلطان کے بیس سال زبردست پریشانیوں میں گذرے اور ان میں آخری دس برس نے اس سے خون کے آنسو بہانے پر مجبور کیا،،یہ دس برس اوہم اور حاجی۔ دونوں بیٹوں کی بغاوتوں سے سلطان کا دل ٹوٹ گیا اور خود اس کا سارا وجود ہل کر رہ گیا ، ، خاندانی روائت کے مطابق سلطان نے اپنے چھوٹے بھائی محمود کو ولی عہد مقرر کیا لیکن بد قسمتی سے محمود فوت ہوا اور اس کے بعد اس کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا تھا کہ اپنے کسی بیٹے کو ولی عہد مقرر کردے ، سلطان تینوں بھائیوں کے بیچ بڑھتی ہوئی رقابت اور حسد کو محسوس کرتے ہیں اوہم خان کو لشکر دے کر باغیوں کی سر کوبی کے لئے لداخ و تبت کی طرف بھیجا ،، اوہم وہاں سے فاتح بن کر آیا ، سلطان نے فوراً ہی حاجی خان کو لوہر کوٹ کا حاکم بنا ڈالا تاکہ اس طرح سے یہ بھائی لوگ ایک دوسرے سے دور رہ کر آرام سے حکمرانی میں مصروف رہیں ، اور شاید اس طرح سے شر انگیزی سے بھی دور رہیں ،لیکن ان کی کوتاہ اندیشی اور حسد و بغض کا یہ عالم تھا کہ ایک دوسرے سے متردداور حسد بھی رکھتے تھے ۔ اس شک کی بنا پر کہ کہیں مملکت کشمیر کا بادشاہ اوہم خان نہ ہوجائے حاجی ایک لشکر جرار لے کر سرینگر کی طرف اپنے با پ پر چڑھ دوڈا، سلطان نے یہ خبر سنی تو خود بھی ایک لشکر جرار لے کر میدان جنگ کی طرف کوچ کیا ،سلطان جنگ نہیں چاہتا تھا کیونکہ اس کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی اور دوسری طر ف شفقت پدری اور یہ خیال کہ ہر طرح سے خواہ مخواہ ہی انسانی جانوں کے زیاں کا اندیشہ ہے ، ایک برہمن کو اپنا قاصد بنا کر حاجی کے پاس بھیجا ، جس کے کان کاٹ کر واپس بھیج دیا گیا ، حاجی کھسوں کے سپورٹ سے حاجی پور کے راستے سے حملہ آور ہوا،اسی دوران برہمن قاصد واپس پہنچا اور اس کا یہ حال دیکھ کر سلطان آگ بگولا ہوا اور فوراً حاجی کو سزا دینے کا اعلان کیا ، پلہ شیلا کے مقام پر میدان کار زار گرم ہوا یہ مقام شو پیاں کے قریب ایک کریوہ ہے جو راجوری کے راستے پر سرینگر سے ۳۳ میل دورجنوب میں ہے ،مغلوں کے دور میں یہاں پر ایک سرائے تھی جس میں مسافر اور ان کے گھوڈے قیام کیا کرتے تھے ،،، جنگ صبح سے شام تک جاری رہی ، کشتوں کے پشتے لگ گئے ، دونوں طرف سے زبردست حملے ہوئے اور بے شمار جانیں ضائع ہوئیں ، ا س جنگ میں اوہم نے شجاعت دکھائی ، اور آخر حاجی کی فوج پسپا ہوئی ، اوہم نے بھاگتی ہوئی فوج کا پیچھا کیا اور بہت سارے لشکریوں کو تہہ تیغ کیا ، وہ تعاقب جاری رکھ کر حاجی کو گرفتار کرنا چاہتا تھا لیکن سلطان نے اس سے واپس بلایا ، یہ ایک باپ کی بیٹے کے لئے شفقت ہی ہوسکتی ہے کہ وہ آخری لمحے تک اولاد سے یہ امید رکھتا ہے کہ شاید سنبھل جائے ،،، حاجی اپنی باقی ماندہ فوج کو لے کر پہلے ہرا پورہ اور پھر بھمبھر بھاگ گیا ، سلطان سرینگر واپس آیا اور یہاں دشمنوں کے سروں کا مینار بنایا اور جنگی قیدیوں کو پھانسی کی سزا دی اس کے بعد سلطان نے اوہم کی سر کردگی میں حاجی خان کو اکسانے اور حملہ آور ہونے کی تحقیقات کے لئے اوہم کو مقرر کیا ، ، اوہم نے تحقیق کرنے کے بعد سازشیوں کی املاک ضبط کیں اور اور ان کے اہل و عیال کو شدید مصائب سے دوچار کیا جس کی وجہ سے ایک کثیر تعداد نے اوہم کے خیمے میں آکر جان بچائی ،،اس کے بعد سلطان نے اوہم کو اپنا ولی عہد مقرر کیا ،، ،ان واقعات کے بعد ۱۴۷۰؁ء میں شدید بارشوں کی وجہ سے قحط سالی کا آغاز ہوا ، قحط سالی زبردست اور شدید ہوئی تو بادشاہ بہت زیادہ متفکر ہوا ، اس نے اپنے خزانے کھول دئے اور ہر طرح سے اپنی رعایا کے لئے سہولیات میسر رکھیں ، موسم کے ساز گار ہوتے ہی سلطان نے دوسرے نزدیکی ممالک سے غلہ منگوانا شروع کیا ، اس مصیبت کے د ور میں جب سلطان زین العابدین اپنی رعایا کے غم میں گھلا جارہا تھا اور ہر وہ قدم اٹھا رہا تھا جس سے قحط کی شدت میں کمی واقع ہو ، اوہم نے علاقہ کمراج میں جہاں کا وہ حاکم تھا لوٹ مچائی ۔ ظلم و ستم کی شروعات کی اور لوگوں کو دانے دانے کا محتاج بنایا ،،علاقہ کمراز میں ہم بھی ہیں یہ سرینگر سے شمال کی طرف کا سارا علاقہ ہے ( پرگنہ کامراج مشرق میں نال پہرو شمال و جنوب میں کرناہ(۲) حمل ٹیلہ،، سوپور اور بارہمولہ کے قصبے (۳مچھی پورہ ٹیلہِ(۴) رام حال و ہری ٹیلہ (۵) اوتر ٹیلہ شمالی سرحدوں کے پہاڈوں کے نیچے ،، کھمل نہر ،، دونوں دروں کے بیچ میں گذرتی ہے ،،(۶) لولاب ٹیلہ ، یہ شمالی کشمیر کی سرحدیں ہیں )) اس سارے علاقے کو کامراج پرگنہ کہتے ہیں ، ظاہر ہے کہ ایک وسع اور زرخیز علاقہ ہے اور صنعت و حرفت ،، زراعت اور فروٹ انڈسٹری اس علاقے کی بیک بون ہے ،، بادشاہ کے پاس آکر لوگ اس ظلم و ستم کے خلاف فریاد کرنے لگے اور بادشاہ کو اپنے ذرائع سے بھی معلومات حاصل ہو رہی تھیں ، سلطان نے اوہم کوان باتوں پر فہمائش کی تو برافروختہ ہوکر اپنی فوجیں لے کر سرینگر پر چڑھ دوڈا ، اور محلہ قطب الدین پورہ میں آکر علم بغاوت بلند کی ، اتنا ہی نہیں بلکہ یہاں بھی لوٹ مار اور آتش زنی شروع کی جس کی وجہ سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا اور انہوں نے راہَ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی،سلطان کو امید تھی کہ اوہم کو ولی عہد نامزد کرکے اور کمراج کا حاکم بنائے جانے کے بعد بھائیوں کے تنازعے سرد پڑجائیں گے، لیکن اس کا خیال غلط نکلا کیونکہ میں نے جس شرابی بیٹے کا ذکر کیا تھا وہ یہی بد بخت اوہم تھا جو دن رات شراب کے نشے میں مست رہنے والا بلا نوش تھا ، قطب الدین پورہ آکر سلطان نے اوہم کو سمجھایا اور اس کے موٹے دماغ میں یہ بات اتارنے کی کوشش کی کہ سلطنت نااتفاقی اور آپس کے جھگڑوں سے کمزور ہوجائے گی اور تم لوگ بھی زیادہ دیر تک بادشاہ نہیں رہوگے بلکہ دوسرے تم سے تخت ہتھیا لیں گے ، بڑی مشکل سے اوہم واپس سوپور کی طرف آیا لیکن سلطان نے اس کے عزائم پڑھ لئے تھے اس لئے اس نے فوراًحا جی سے مدد طلب کی ، لیکن حاجی کے پہنچنے سے پہلے ہی اوہم نے سوپور پر حملہ کیا ، ، وہاں کے حاکم نے اگرچہ مقابلہ کیا اور اپنی جان بھی گنوائی لیکن شکست سے دوچار ہوا اور اوہم نے سوپور کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، میرے دوست اورسیاح لوگ جب سوپور کے بازاروں سے گذرتے ہیں تو متحیر ہوکر پوچھتے ہیں کہ یہاں سڑک کے دائیں بائیں ہر طرف قبرستان کیوں آباد ہیں ، میں نے بھی کئی بار ان وجوہات پر غور کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دو قہر سامانیوں کی وجہ سے ایسا ہو چکا ہوگا۔ایک یہ کہ جب اوہم نے سوپور کا قتل عام کیا تھا اور دوسری وجہ مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ یہاں انیسویں صدی کے اوائل میں سوپور زبردست وبا کی لپیٹ میں آچکا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ مر گئے اور انہیں دفنانے کے لئے لازمی طور پر قبرستانوں نے وسعت پائی ہوگی ،، سلطان نے دریائے بہت ( جہلم )کے جنوبی کنارے پر ڈھیرے ڈالے اور شمالی کنارے پر اوہم کی فوج نے صف بندھی کی ، بڑی سخت لڑائی کے بعد اوہم کو شکست ہوئی اور اسی لڑائی میں جب اوہم کی فوج واپس دریا پار کر رہی تھی تو پل ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے تین سو سے زیادہ آدمی دریا میں ڈوب گئے ،، اس کے بعد سلطان خود سوپور آگیا اور رعایا کی دلجوئی کے علاوہ سوپور کو پھر سے بسانے کا ہر ممکن قدم اٹھایا ،،اسی اثنا میں حاجی بارہمولہ پہنچا ،اور سلطان نے اپنے تیسرے بیٹے بہرام کو اس کے استقبال کے لئے بھیجا ، دونوں بھائی بغلگیر ہوئے اور پھر اپنے باپ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے ، یا سلطان بھی ان کے ہمراہ سرینگر کی طرف روانہ ہوا ، تاریخوں میں ہے کہ حاجی خوبصورت ، نرم دل اور محنتی تھا ، لیکن اس کی سب سے بڑی غلاظت شراب اور زناکاری تھی ،، وہ زین العابدین کا چہتا بھی تھا لیکن کسی بھی طرح اس کی توقعات پر پورا اترنے کی کوئی کوشش نہیں کرتا تھا، دونوں بری عادتوں کی وجہ سے اس کی صحت بڑی تیزی سے گر رہی تھی ، اپنی تمام کوششوں کے باوجود سلطان اس سے بھی صحیح راہ پر لگانے میں کامیاب نہیں ہوا ،، کچھ امرا نے ان تمام باتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اوہم کو سرینگر بلایا جو وادی سندھ میں پناہ گزین تھا ،اوہم فوراً ہی سرینگر کی طرف روانہ ہوا لیکن راستے میں حاجی کے بیٹے حسن نے اس سے جوپونچھ میں تھا، راجوری میں اس سے روکنے کی کوشش کی لیکن حسن ایسا نہیں کر پایا اس لئے اوہم سرینگر پہنچ گیا ، حاجی اور بہرام دونوں بھائیوں نے آپس میں کچھ طئے کرکے اوہم کا استقبال کیا ، اس بات سے معاملات نہیں سدھرے کیونکہ یہ استقبال نمائشی تھا اور اس کے پیچھے دونوں بھائیوں کے کچھ اور منصوبے تھے ،، سلطان کو اب ان تینوں میں سے کسی ایک پر بھی بھروسہ نہیں تھا ،، سلطان اپنے تینوں بیٹوں سے اتنا مایوس ہوچکا تھا کہ اب امرا اور وزرا کی درخواستوں کے باوجود اس نے کسی کو ولی عہد مقرر کرنا گوارا نہیں کیا بلکہ یہی کہا کہ میرے بعد یہ ایک دوسرے کا خون بہائیں گے اور جو طاقت ور ہوگا وہی تخت پر بیٹھے گا لیکن ہمار ی حکومت زیادہ وقت نہیں چلے گی ، سلطان کا اندازہ درست اور صحیح تھا ، اس طرح سے دیکھا جائے اور محسوس کیا جائے کہ اسقدر بڑا بادشاہ اپنے کپوتوں کی وجہ سے کہاں سے کہاں تک آگیا ، اس کے اعصاب پر زبردست بوجھ پڑا ، اس کی خوشیاں اور مسرتیں پامال ہوچکی تھیں ، اس کی رفیقہ حیات جو اس کے ہر قدم پر ساتھ رہی تھی اس دنیا سے (تاج خاتون )پہلے ہی سفر آخرت پر روانہ ہوچکی تھی اور ان حالات میں سلطان کی صحت بگڑنے لگی تو کوئی اپنا اس کی تیمارداری کرنے کے لئے موجود نہیں تھا ۔دنیا کی ساری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمیشہ بڑے بڑے جلیل و قدر بادشاہ اور مستحکم سلطنتیں محظ اپنے ہی افراد کے حسد، بغض اور اقتدار کی ہوس میں دنیا سے مٹ کر صرف تاریخ میں عبرت کے لئے محفوظ رہی ہیں ،،،،