مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۳۳)
رشید پروینؔ سوپور

سلطان زین العابدین ، بڈشاہ اپنے بیٹوں سے اسقدر مایوس اور بد دل ہوا کہ کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر نہیں کیا ، ، سلطان کے اپنے اندازے کے مطابق اوہم کنجوس اور بد کار تھا ، حاجی شرابی اور بہرام منافق ، تینوں ایک دوسرے کے ساتھ پر خاش رکھتے تھے اور تینوں کی دماغی حالت اس لحاظ سے صحت مند تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ اسی دوران بہرام نے اپنے مفاد میں اوہم اور حاجی کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا اور اس وجہ سے دونوں ایکدوسرے کو قتل کرنے کے درپہ ہوئے ، اور اس کے بعد حاجی کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرکے اوہم کو تباہ کرنے کے منصوبے بنائے ، اوہم ڈر کر اپنے والد سلطان کے پاس پناہ گزین ہوا جو اپنی پدری شفقت اور بیٹوں سے محبت کی بنا پر بار بار انہیں معاف کر تا رہا تھا ، لیکن اس بار سلطان نے اس کی کوئی مدد نہیں کی اور اوہم قطب الدین پورہ چلاگیا ،ایک روایت ہے کہ وادی سندھ چلا گیا ،، سلطان کی صحت بھی اب جواب دینے لگی اور بیٹوں کی نااہلیت نے اس سے معذور بناکر رکھ دیا ، آس پاس سازشی لوگوں نے سر اٹھانا شروع کیا اور سلطان کی ذہنی حالت یہ ہوئی کہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں رہا کیونکہ اس کے بھروسے والے دوست اور ساتھی داغ مفارقت دے چکے تھے ، اس لئے سلطان بڑ ی حد تک ملکی امورات سے دور رہنے لگا بلکہ وہ آہستہ آہستہ بھول جانے کے مرض میں بھی مبتلا ہوگیا ، اس لئے ہر کاغذ پر دستخط کرنے چھوڈ دئے جس کی وجہ سے سارے امورات ماتحت طئے کرنے لگے اور بہت کم لوگ وفادار اور دیانت دار ہوتے ہیں اس لئے ملکی امن و اماں بگڑنے لگا اور زین العابدین کا سنہری پچاس سالہ دور روبہ زوال ہوا ، ، سلطان بیمار ہوا۔ جب ایسا لگنے لگا کہ اب سلطان مہماں ہی ہیں تو بہرام نے حاجی کو محل پر قبضہ جمانے کا مشورہ دیا ، لیکن حاجی نے اس مشورے کو یہ کہہ کر رد کیا کہ میں آخری وقت میں ان تھمتی ہوئی سانسوں میں باپ کی دل آزاری نہیں کروں گا بلکہ وہ محل ضرور پہنچا اور تمام رات اپنے باپ کے پاس بیٹھا رہا ، اوہم قطب الدین پورہ میں تھا اور جب اس سے باپ کے بارے میں معلوم ہوا تو اپنی فوج لے کر نوشہرہ کی طرف روانہ ہوا جہاں شاہی محلات تھے ، ، لیکن راج دھانی پر فوج کشی کرنے کے بجائے شہر سے باہر رات گذاری ،اسی اثنا میں حسن کچھی خزانچی نے حاجی کے نام حلف وفاداری اٹھا کر خزانوں کی کنجیاں اس کے حوالے کیں، اس کے علاوہ حسن اور بہرام کے مشورے سے حاجی نے تمام گھوڑوں اور اصطبل پر قبضہ کیا یہ سن کر اوہم فکر مند ہوا اور اپنی ناکامی کو نوشتہ دیوار سمجھ کر بھاگ کھڑا ہوا ، بہرام نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے بہت سارے ہمدردوں کو قتل کیا ، اس خانہ جنگی کے دوران سلطان بستر مرگ پر آخری سانسیں لے رہا تھا اور آخر ی وقت میں اس کے الفاظ یہی تھے کہ ’’میری اولاد میں کوئی تخت کے لائق نہیں اس لئے میں یہ سب تقدیر پر چھوڑتا ہوں ، جس کی تقدیر میں لکھا ہوگا وہی تخت پر آئیگا‘‘آخر ۶۹ برس کی عمر میں سلطان زین العابدین ’بڈشاہ ‘‘ بڑا بادشاہ ۵۱ سال دو ماہ اور تین دن کی حکمرانی کے بعد ۱۲ مئی ۱۴۷۰؁ء بر وز جمعہ دوپہر کے وقت اس دار فانی سے کوچ کر گئے ،،، اور باپ کے مقبرے کے نزدیک ہی مزارِ سلاطین میں دفن ہوئے ، سلاطین کشمیر میں درج ہے کہ اس روز ایسی کوئی آنکھ نہ تھی جو روئی نہ ہو اور کوئی گھر ایسا نہ جہاں چولہا جلا ہو یا کھانا پکا ہو ، اور یہ اس لئے بھی قرین قیاس اور درست لگتا ہے کہ اب اور ابھی تک تاریخ کا طالب علم جب تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو بڈشاہ کو اپنے دل کے قریب بلکہ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے دلوں میں اب تک دھڑکن بن کر دھڑک رہا ہو ،، ہمار ے ہانجی لوگ میرے بچپن تک جب دریائے جہلم سے raft of logs)جو سینکڑوں دیودار کے لاگس پر مشتمل ہوتی تھی جنہیں بہت سارے ہانجی دریا ئے جہلم سے کھینچتے ہوئے سرینگر پہنچا تے تھے ، شاید یہ ٹرانسپورٹ سستا تھا یا شاید بہت سارے ٹرک میسر نہیں تھے، یہ اس زمانے کی بات ہے جب اسلامیہ مڈل سکول دریائے جہلم کے بیچ میں ایک چھوٹے سے جزیرے میں واقع تھا جس کے چاروں طرف دریائے جہلم تھا اور یہ جزیرہ ایک چھوٹے اور ایک بڑے پل سے سوپور کے ساتھ جڑا ہوا تھا ۔ یہ دو پل اصل میں سوپور کے دو حصوں کو ملاتے ہیں کیونکہ میرا یہ سوپور دریائے (بہت )کے دو کناروں پر حکیم سویہ کی یاد گار ہے،، اور ہمارمڈل سکول اور جامع مسجد اسی جزیرے پر واقع تھی ، ہانجی لوگ چھوٹے پل کے نیچے سے جب (رافٹ )کو پانی کے مخالف بہاؤ میں سرینگر کی طرف کھینچتے تو سارے ہانجی لوگ ، زور زو لگا کر ، برھا چڑھا کر (یا شاہ،، بڈشاہ کے نعرے لگاتے ہوئے رافٹ کو آگے کھینچتے ، ہم اپنی چھوٹی کلاسوں میں یہی سمجھتے کہ یہ کوئی وظیفہ یا کسی مافوق لفطرت طاقت سے مدد مانگی جاتی ہے ، بہرحا ل آگے بڑھ کر حقائق جان لئے اور بڈشاہ کیلئے دل میں وہ مقام پیدا ہوا کہ اب بھی لگتا ہے کہ ہم بڈ شاہ ہی کی رعایا ہیں ( ہماری کہانی ) یعنی ہسٹری میں شاید کسی ابتدائی کلاس میں شاید کچھ معلومات رہی ہوں لیکن اب یہ یاد نہیں لیکن آج مجھے اس بات پر افسوس ہورہا ہے کہ بڈشاہ کی طرف بہت کم توجہ مبذ ول رہی ہے اور اتنے بڑے ، شاندار ا ورعظیم الشان اوصاف کے حامل بادشاہ کو تاریخ میں وہ مقام نہیں دیا گیا ہے جو اس کا حق بنتا ہے ، لیکن کوئی بات نہیں وہ ہمارے دلوں میں اب تک بسا ہوا ہے ،کہانی کاروں اور فلمسازوں نے حبہ خاتوں اور یوسف شاہ چک پر کئی فلمیں بنائی ہیں ، مغل اعظم اور انار کلی کے ناموں سے بھی کئی فلمیں اور ڈرامے لکھے جا چکے ہیں لیکن اس عظیم اور اولوالعز م ز اہد ، متقی اور بہترین صفات سے لیس حکمران پر کوئی فلم نہیں بنی ہے جس نے مملکت کشمیر کو پورے پچاس سالہ دور حکمرانی میں پچھلے تمام بادشاہوں سے ہر معاملے میں بازی لے کر ایک ایسا سنہرا دور ، امن و اماں کا ، عدل و انصاف کا ، غریب پروری اور رعایا پروری کا رقم کیا ہے جس کی مثال ہماری تاریخ میں نہیں اور دوسرے ممالک کی تاریخوں میں بھی نایاب نظر آتی ہے ، سلطان خلیفہ ہارون رشید کی تقلید کرتے ہوئے خود راتوں کو گشت لگا کر رعایا کا حال معلوم کرتا تھا اور اس کے پاس ایک منظم جاسوسی کا بہت اچھا نظام بھی تھا جو اس سے معاملات سے با خبر رکھا کرتے تھے ، اس نے پہلی بار کشمیر میں بیعنامے جاری کئے اور اس طرح زمینوں کے کاغذ منتقل ہونے شر وع ہوئے اور اتنا ہی نہیں بلکہ زمینوں کا ریکارڈ بھی رکھا جانے لگا ، ، یہ میں نے شاید ذکر کیا ہے کہ ا شوک کی طرح اس نے تانبے کی پلیٹوں پر قوانین کھدوا دئے اور شہر و گام میں بھجوائے ، ، کہتے ہیں کہ سلطان کو کہیں اپنی تانبے کی کھان ملی تھی ، وہ اپنے سارے اخراجا ت اسی کھان سے تانبا نکال کر پورے کرتا تھا ، یہ سچ ہو کہ نا ہو لیکن اس پائے کے آدمی کے پیروں سے روز ایسی کئی کھانیں نکلتی رہتی ہیں ، مختلف اشیاء کی قیمتیں بھی ان ہی تانبے کی پلیٹوں پر کندہ کی گئی تھیں تاکہ کسی کو ذخیرہ اندوزی اور مہنگے داموں پر اشیاء بیچنے کا مو قع نہ ملے ،، بادشاہ اکبر ہندوستاں کے تخت پر ۹۲۳ھ میں بیٹھا اور زین العابدین کا انتقال ۸۸۰ھ کو ہوا ،، اکبر اپنی رعایا ہندو مسلم میں مقبول رہا اور زین العابدین نے بھی ملک کشمیر میں اپنی رعایا کے دل جیت لئے ،، اکبر کی سلطنت وسیع تھی اس لئے اس سے بہت زیادہ شہرت ملی اور زین العابدین کی ریاست اس سے چھوٹی تھی اس لئے بہت ہی کم تاریخوں میں اس کا ذکر آگیا ، اکبر کے دربار میں دوسرے ممالک کے سفرا بھی وقتاً فوقتاً آتے رہے جنہوں نے اکبر کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کشمیر میں جو درباری علماء زین کے ساتھ رہے ان کے قلمی نسخے فارسی زباں میں ہی تھے جو بہت زیادہ لوگوں کی نظروں میں نہیں رہے ، اور ابھی تک بہت ساری کشمیر کی سنسکرت اور فارسی کتابوں کا ترجمہ نہیں ہوا ہے اور ان میں بہت ساری اب نایاب بھی ہوچکی ہیں ، ، اکبر نامہ، آئین اکبری اور اکبر کے زمانے کے حالات اور تاریخیں ہر شہر اور ہر تاجر کتب کے پاس دستیاب ہیں جب کہ سلطان زین العابدین کے دورِ حکومت کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہیں ،،حقیقت یہی ہے کہ زین العابدین شہنشاہ اکبر سے کئی پہلوؤں سے بلند اور ممتاز تھے ،، ،سلطان خود عالم تھا ، کئی زبانوں پر دسترس رکھتا تھا ،اس میں شاعرانہ صلاھحتیں بھی تھیں ، اور اب بھی اس کے بہت سارے اشعار مقبول بھی ہیں اور اس کی قابلیتوں اور سوچ و فکر کی غماز بھی ، ۔ میں پھر اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ کشمیر کی تاریخ میں زین العابدین کے برابر کوئی بادشاہ صاحب شوکت ، منصف مزاج ، سخی ، دانشور ، انصاف پسند نہیں گذرا ہے جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں لوگوں نے پیار سے اسے ’’بڈشاہ ‘‘بڑا بادشاہ کے لقب سے اپنے دلوں میں جگہ دی تھی،،شاعری میں قطب تخلص کیا کرتا تھا ،کچھ شعر ابھی تک تاریخ میں موجود ہیں ۔
(۱) ترجمہ ،، میرے چاند ، میرے محبوب ،، تیرے شمع جیسے چہرے کے ارد گرد سارا عالم پروانہ وار طواف کرتا رہتا ہے اور تیرے ہونٹوں کی شیرینی کے تذکرے ہر گھر میں موجود ہیں ،،
(۲)میرے محبوب ، ہوسکے تو اپنے عاشقوں پر بس کرم کردے ،کیونکہ رہتی دنیا تک یہی ایک افسانہ باقی رہے گا کہ تو رحمدل تھا۔
(۳) میرے تمہارے ساتھ اتنے قریبی اور گہرے مراسم ہونے کے باوجود میں تیرے عشق میں خون جگر پیتا ہوں تو بیگانوں کا حال کیا ہوگا ؟
(۴) تیرے عشق نے یہ حال کردیا ہے کہ لوگ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں ، اس لئے کسی گھر میں میری جگہ نہیں ، سو رات کو تیری گلی میں پڑا رہتا ہوں اور دن کو ویرانے راس آتے ہیں \۔
(۵) قطب مسکین سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو عیب جوئی نہ کر اور خفا نہ ہو کیونکہ دیوانہ تو دیوانہ ہی ہوتا ہے، ہوش و حواس میں کہاں رہتا ہے ،،،،یہ کچھ اشعار قلم بند اس لئے کئے ہیں کہ آپ سلطان کے ذوق کا اندازہ بھی لگائیں ،اکبر تعلیم یافتہ نہیں تھا ، ذہین ضروراور اقبال مند تھا اس لئے دین الہیٰ بھی بنا بیٹھا ،،،، لیکن سلطان تعلیم اور مطالعے میں بہت آگے تھا ۔