مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے
(قسط: ۳۴)

سلطان زین العابدین (بڈشاہ ) کا مختصر تعارف دینے کے بعد میں نے سوچا تھا کہ آپ کو کشمیر کے پلوںاور دریاؤں سے متعلق معلومات فراہم کروں لیکن بہت سارے فون ایسے آگئے جو مجھ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میری معلومات کا سورس کیا ہے ، اگر چہ میں نے پہلے ہی یہ بات کہہ دی ہے کہ میں کوئی ہسٹورین یا تاریخ داں نہیں بلکہ مجھے تاریخ کا ایک طالب علم ہی سمجھا جائے اور یہی حقیقت بھی ہے ، اس لئے میں دم لینے کے لئے اس قسط میں صرف یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ ، ہم جو کچھ بھی آپ تک بہت ہی مختصر کرکے پہنچا رہے ہیں اس کی آماجگاہیں میرے لئے کیا ہیں ،، سب سے پہلی بات جو گوش گذار کروں گا وہ یہ ہے کہ کشمیر کی تاریخ بھی کسی نہ کسی طرح پانچ ہزار سال پہلے ،، تک پہنچتی ہے اور ہمارے پاس شروع کے راجگاں کی داستاں موجود ہے ،،،سنسکرت تاریخ ،،، راجہ اونتی ورما جس کا ذکر کیا جاچکا ہے کے زمانے میں پنڈت رتناگر ،، ایک درباری مورخ گذرے ہیں جنہوں نے کلجوگ کے آغاز سے اپنے زمانے تک کے راجاؤں کا حال تفصیل سے درج کیا ہے ،یہ مصدقہ بات ہے کہ اس تاریخ کا ترجمہ سلطان زین العابدین کے دور میں ملا احمد نے کیا تھا جو سلطان کے درباری عا لموں میں سر فہرست تھا ، یہ تاریخ اگر چہ اب لگ بھگ ناپید ہے لیکن مورخ حسن کھوئہامی کو کہیں سے اس کا ایک نسخہ ملا تھا جس کا اس نے اعتراف بھی کیا ہے لیکن کسی وجہ سے یہ کتاب ضائع ہوئی لیکن اس سے حسن کھو ئہامی نے پورا پورا استفادہ کیا ہے ، مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جس طرح کثرت سے اس تاریخ کا ہمیں ذکر ملتا ہے اس لحاظ سے کہیں موجود بھی ہوگی ،،(راجہ اونتی ورما ۸۷۲؁ء میں تخت پر بیٹھا تھا )اس کے بعد راجہ ہرش کے زمانے میں (۱۰۷۹تا۱۱۰۱)وزیر چمپاک کا بیٹا کلہن ڈاکٹر صوفی کے مطابق ایک برہمن زادہ تھا ، اس کا نام کلیان سے ماخو ذہے ،یہ شیو مت کا پیرو کار تھا لیکن اس کے باوجود بدھ مت سے بھی متاثر تھا ۔اس نے جو تاریخ لکھی ہے جس کا (نام راج ترنگنی ) ہے ۱۱۴۸؁ ء تا ۱۱۴۹؁ء کو اختتام تک پہنچی ہے مذکورہ تاریخ سات ترنگوں پر مشتمل ہے ترنگ کا مطلب موج ہوتا ہے اور راج ترنگنی کا معنی (بادشاہوں کا دریا ہی ہوسکتا ہے )راج ترنگنی کا پہلا فارسی ترجمہ سلطان زین العابدین نے بحر الاسمار کے نام سے کرایا اس کے بعد اکبر کے عہد میں اس پر نظر ثانی کے لئے ملا عبدالقادر بدایونی کا تعین ہوا ، جہانگیر کے عہد میں ملک حیدر چاوڈورہ نے رازہ ترنگنی کو مختصر کرکے ،اس کا نام تاریخ کشمیر رکھا ، کلہن لکھتا ہے کہ ’’میں نے پوران کی بارہ جلدوں کو جمع کرکے راج ترنگنی کو تحریر کیا ہے،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پورانوں کا کوئی تذکرہ کہیں موجود نہیں اس لئے یہی کہا جاسکتا ہے کلہن نے رتناگر کی تاریخ سے استفادہ کیا ہوگا ،،لیکن ہماری تاریخ اس راج ترنگنی پر مبنی ہے اور جتنے بھی مورخ کشمیر میں پیدا ہوئے ہیں سبھی تاریخوں کی خمیر یہاں سے ہی اٹھی ہے ،اس تاریخ کے علاوہ چھولاکر ۔بھولا راج، پدمہ مہر اور پراجہ بھٹ کی تواریخ کا نام بھی کہیں کہیں نظروں سے گذرتا ہے لیکن کوئی نسخہ موجود نہیں ،پنڈت زونراج نے بھی زین العابدین کے حکم سے جے سنگھ کے عہد سے بڈشاہ کے عہد تک ر اجاؤں اور سلاطین کے حالات مفصل قلمبند کئے ہیں،،، تاریخ اودھ بھٹ ،، زینی ترنگنی کا ضمیمہ ہے ، جس میں بڈ شاہ سے لے کر اکبر کے زمانے تک کے حالات لکھے گئے ہیں ،،،،وقائع ملک کشمیر ،، سلطان زین العابدین کے زمانے میں ملا احمد نے رازہ ترنگنی اور رتنا گر کا ترجمہ کیا ہے ،،اس میں ان پنتیس راجاؤں کے احوال بھی ہیں جن کا پنڈت کلہن نے اپنی تاریخ میں ذکر نہیں کیا تھا کیونکہ شاید اس سے ان پنتیس را جاؤںکے بارے میں معلومات نہیں ملی تھیں لیکن ان کا ذکر رتناگری میں تھا ، جس کا استفادہ ملا احمد نے کیا ہے ،، تاریخ ملا نادریم زین العابدین کے عہد میں تصنیف ہوئی ہے لیکن کہیں کوئی نسخہ موجود نہیں ،،تاریخ قاضی حمید ،، تاریخ ملا حسین قادری ،،منتخب التواریخ ،،تاریخ سید علی ، تاریخ حیدر ملک ،ان تاریخوں کا ذکر ضرورکیا گیا ہے لیکن کوئی نسخہ موجود نہیں لگتا ، ،’’ بہارستان شاہی‘‘ ،،،رازہ ترنگ کے نام سے مشہور ہے ، اس میں جہانگیر شاہ تک کے زمانے کے حالات ملتے ہیں ، لیکن مصنف کا نام معلوم نہیں ،اس کے بعد واقعات کشمیر،، خوجہ اعظم دیدہ مری کی تصنیف ہے کشمیر کے راجاؤں اور سلاطین کے علاوہ اولیا، علما اور نشائخ کے حالات افرا سیاب بیگ خان کے زمانے تک اختصار کے ساتھ درج ہیں ، ، میرے خیال میں یہ ایک بہتر اور عمدہ کوشش ہے کیونکہ اس میں اختصار سے کام لیا گیا ہے اور زبان بھی خاصی آسان ہے ، تاریخ مارکیٹ میں موجود ہے اور کہیں بھی کسی بھی بکسٹال میں نظر آتی ہے ،تاریخ نافعی،، محمد زمان نافع نے محمد شاہ غازی کے زمانے تک مسلماں سلاطین کے حالات درج کئے ہیں اس میں حضرت شیخ حمزہ ا ور امیر حمزہ کریری کے حالات تفصیل کے ساتھ ملتے ہیں ،،اس کتاب کا ایک نسخہ نوہٹہ میں کسی مولوی کے پاس محفوظ ہے ، واقعات نظامیہ،، دیوان کرپا رام کے زمانے تک واقعات کشمیر کا ضمیمہ ہے ،،،،ڈاکٹر صوفی کے مطابق اس کا ایک نسخہ غلام محمد نقشبندی خانیاری کے پاس موجود ہے،شاہنامہ کشمیر ،، سوکھ جیون نے سات شعرا کو یہ تاریخ لکھنے کے لئے متعین کیا تھا، لیکن کام مکمل نہیں ہوا ، باغ سلیمان ،،، میر سعداللہ شاہ آبادی نے منظوم لکھی ہے اور اس میں بھی خواجہ اعظم دیدہ مرہ کی پیروی کی گئی ہے ،ابجد حساب سے (باغ سلیمان )۱۱۹۴ بنتا ہے شاید یہی اس کا سال آغاز بھی ہے ، اس کے نسخے محکمہ ریسرچ جموں و کشمیر کے پاس ہیں ،جمعہ خان کا دور جو ۱۷۸۷؁ء میں یہاں حاکم تھا ،، لب التواریخ،، ملا بہاوالدین نے شیخ غلام محی الدین کے عہد تک راجاؤں اور سلاطین کے حالات لکھے ہیں ،برٹش میوز یم میں ایک نسخہ موجود ہے ،، تحقیقات التواریخ،،، اعظم دیدہ مری ،کے انداز میں امیرالدین پکھلیوال نے حکام و سلاطین اور مذہبی بزرگوں کے حالات شیخ محی الدین کے عہد تک قلمبند کئے ہیں ،، منتخب التواریخ ،، منشی نرائن کول نے شہنشاہ عالمگیر کے عہد تک کے راجاؤں اور سلاطین کے حالات لکھے ہیں ،، مجموعہ تواریخ ،،، پنڈت بیربل کاچرو راجاؤں اور سلاطین کا ذکر شیخ غلام محی الدین کے زمانے تک کیا ہے ،کلام کی رنگینی زیادہ اور تحقیقات کی کمی ہے ،،، ’’گلزار کشمیر ،،،دیوان کرپا رام کی تصنیف ہے مہاراجہ گلاب سنگھ کے زمانے تک مختصر رنگین اور عالمانہ زبان میں لکھی ہے ۱۸۷۰ اور ۷۱ میں لاہور سے چھپی ہے ،،، خلاصتہ التواریخ ،،،، مرزا سیف الدین نے رازہ ترنگنی کا نئے سرے سے ترجمہ کرایا اور مہاراجہ گلاب سنگھ کے عہد تک کے حالات مرتب کئے کہتے ہیں کہ اس کا ایک نسخہ مرزا کمالدین شیدااور دوسرا نسخہ ایڈن برگ یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے ، ، تاریخ کشمیر ۔۔۔۔ پنڈت دیا رام کاتب نے مختصر اور منظوم تاریخ مہاراج کے عہد تک لکھی ہے ،، ناردرن بیریر آف انڈ یا ،،،،(فر درک ڈریو ) نے۱۸۷۷؁ء لکھی ہے اور لندن سے ۱۸۷۷؁ میں شائع ہوئی ،،، ویلی آف کشمیر ،، بہت ہی معروف و مشہور کتاب ہے جو سر والٹر لارنس نے لکھی ہیں ۔ والٹر روپر لارنس، ۱۸۵۷ ؁ ء لندن میں پیدا ہوئے ، ۱۸۷۷ میں آکسفورڈ میں آئی سی ایس کے لئے داخلہ لیا ، بہت ہی ذہین اوجینیس تھے ، ڈگری مکمل کرنے کے بعد سیدھے وارد ہند ہوئے اور دس سال کے دوران ہندوستان میں کئی عہدوں پر زبردست پرفارمنس دی جس کی وجہ سے ان کی قدروقیمت بھی بڑھتی گئی ، ،اور اپنے تجربات اور بہتر کارکردگی کی بنا پر اس سے تین عہدوں کی آفر کی گئی ، جن میں ایک آفر مہاراجہ پرتاپ سنگھ کی بھی تھی جو جموں و کشمیر کے حکمران تھے ، کشمیر اس سے پسند تھا اس لئے اس نے ہندوستان میں عہدوں کے بجائے یہاں کام کرنا شروع کیا اور ۱۸۸۹ میں یہاں کے کمشنر سٹلر کے عہدے پر فائض ہوئے ، حسن کھوئہامی نے بھی ان کے ساتھ بہت کام کیا ہے اور زمین کی سٹلمنٹ کے دوران وہ ان کے ساتھ ساتھ بھی رہے ہیں بلکہ والٹر کا اعتراف ہے کہ انہوں نے کشمیر ی حَسن کی کوششوں سے ہی سیکھی ہے ،،، جس کامطلب ہے کہ مورخ حسن بھی اسی زمانے میں اپنی تاریخ لکھ رہے تھے ، سر والٹر لارنس یہاں بہت ہی مشہور شخصیت رہی ہے ، اور کشمیری عوام انہیں ، ’’لارن صاحب ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں ، لارنس نے ثابت کیا کہ اس سے بہتر کوئی کشمیر کی زمینوں کی سٹلمنٹ نہیں کر سکتا تھا، بعد میں لارنس لارڈ کرزن کے زمانے میں ہند کا وائیس رائے بھی رہا ،، لارنس نے دو کتابیں لکھی ہیں ایک the indian we served .and the valley of kahmir۔ویلی آف کشمیر اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جس میں کشمیر کے تمام پہلوؤں پر بحث اور معلومات شامل ہیں یہ کتاب ۱۸۹۵؁ء میں لندن سے پبلش ہوئی ،اسی برس انہوں نے کشمیر میں زمین کی سٹلمنٹ بھی مکمل کی تھی ۔۔ اور حسن کھئہامی کی تاریخ بھی ظاہر ہے اسی دور میں لکھی گئی ہے ،تاریخ حسن شاہ ،،، تین جلدوں پر محیط ہے ،ایک جغرافیہ ، دوسرا جلد کشمیر کی سیاسی تاریخ اور تیسری جلد اولائے کشمیر،، پیر حسن شاہ ۱۸۳۳ ؁ء میں گامرو بانڈی پور میں پیدا ہوئے ، اور جیسا کہ لکھا ہے کہ والٹر لارنس کے ایک مدد گار کی حیثیت سے مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے ان کا انتخاب کیا تھا ، اس کے بعد کئی تاریخ دانوں کی کتابیں بھی مارکیٹ میں ہیں ، شبنم قیوم کی مفصل ’’تاریخ و تحریک کشمیر ‘‘، بھی ہمارے زیر مطالعہ ہے جو میرے خیال میں دور حاضر کی بہت ساری تاریخوں پر سبقت لے رہی ہے کیونکہ اس میں جو انکشافات انہوں نے کئے ہیں وہ کسی دوسری تاریخ میں نہیں ملتے ، تو یہ سب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے ماخذ ہیں ، ہماری معلومات کی آجگاہیں ہیں ،، جو ہم مختصر بمصداق کوزے میں سمندر بند کرکے آپ تک پہنچا رہے ہیں ، لیکن دعویٰ یہی ہے کہ ہم کوئی مورخ نہیں ،،،، بس طالب علم ہیں۔