مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے
(قسط: ۳۵)

تاریخ کشمیر کے ان اوراق میں اگر چہ بہت ساری یا تمام اہم چیزوں کا ذکرآتا ہی رہتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کچھ خاص چیزوں کا تذکرہ الگ اور اسی عنوان سے ناگزیر بھی بنتا ہے ، اس لئے کہ پڑھنے والے ’’ہماری اس کہانی ‘‘ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ان خاص اہمیت کے مقامات ، دریا جھیلوں اور باغات یا صحت افزا مقامات سے آشنا بھی ہوں اور ایک دم سے قسط نمبر سے ہی اپنی مطلوب معلومات حاصل کر سکیں ،میں نے پچھلی کسی قسط میں باغات کا ذکر کیا تھا ، اور اب اس قسط میں کشمیر کے بہت ہی مشہور و معروف ناگوں،، چشموں کا ذکر کروں گا ، جن کے ساتھ بہت ساری کہانیاں اور زمانہ بعید کی توہم پرستی سے جنم لی ہوئی دیوی دیوتاؤں کے قصے بھی جڑے ہیں ،،، اگر چہ یہاں ہر طرف خوبصورت اور دلکش چشمے جنگلوں اور پہاڈوں کے دامنوں یا چوٹیوں پر بھی موجود ہیں لیکن ہم چند ایک ہی چشموں کا ذکر کریں گے جو معروف و مشہور زمانہ ہیں ،، ویر ناگ ،،، پرگنہ شاہ آباد میں بانہال پہاڈ کے دامن میں نیچے مشہور معروف چشمہ ہے، گہرائی پندرہ گز اور اس کی گولائی چالیس گز ہے ،اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس کے پانی سے ستر پن چکیاں چلائی جاسکتی ہیں اس کا مطلب ہے کہ پانی کی کثرت نے اس سے عجوبہ بنادیا ہے ، ،حیدرملک نے بادشاہ جہانگیر کے حکم سے اس چشمے کو یہ لافانی حسن عطا کیا،ایک حوض تیار کرایا اس کے ارد گرد بڑی مظبوط اونچی عمارتیں تعمیر کیں اور چار دیواری میں چوبیس محرابیں تعمیر کروائیں جو مغل دور کے فن کی بہترین اور انوکھی مثال ہیں ،ایک محراب پر یہ عبارت کندہ ہے ،، (ترجمہ سات ملکوں کے بادشاہ ابوالمظفرنورالدین جہانگیر فرزندِ اکبر بادشاہ گازی پندرہ سنہء جلوس کو اس فیض بخش چشمے پر تشریف لائے )اس کے بعد شاہجہاں کے زمانے میں اس کے ساتھ باغ شاہ آباد بنوایا ،، ویری ناگ کے بارے میں کلہن پنڈت نے اس سے نیلہ ناگ اور اسکی ایک اساطری کہانی سے منسوب کیا ہے ، جس کا ذکرہ یہاں ضروری نہیں ، یہ دریائے جہلم (بہت ) کا منبع بھی تصور کیا جاتا ہے،، اچھ بل ،، برنگ کوٹہار پرگنہ میں پہاڈوں کے نیچے ایک چشمہ پھوٹتا ہے ، اس چشمے کا پانی بھی اس سے نابغہ روز گار بادیتا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ برنگی دریا کا پانی جو وان دیو لگام سے پہاڈوں کے نیچے غائب ہوجاتا ہے وہی اچھ بل سے ابلتا ہے ، باغات میں اس کا تذکرہ ہم نے کیا ہے ،،، مچھ بَون ،،،، ماٹنڈ میں مٹن تیلے کے نیچے دامن میں ایک خوبصورت اور حسین چشمہ ہے ، (تحصیل اننت ناگ ) ہندو لوگ اس سے بہت متبرک سمجھتے ہیں بلکہ (گیا جی چشمے )سے بھی افضل مانتے ہیں (گیا سے مراد( بدھ گیا بہار )ہندو لوگ یہاں شرادھ بھی چڑھاتے ہیں اور سر اور داڈھی بھی منڈواتے ہیں ،۔ اننت ناگ ،،،قصبہ اسلام آباد میں مٹن ٹیلے کیپاس ہی ایک چشمہ ہے اس میں بھی کافی پانی ہے اور اسکے گردا گرد بھی چشمے ہیں بادشاہ عالمگیر کے عہد میں اسلام خان (نواب اسلام خان کشمیر کا صوبہ دار (۱۶۶۳؁ء)نے اس چشمے کو پتھروں سے تراشتے ہوئے حوضوں ، دلکش فواروں اور آبشاروں سے مزین کر کے ایک وسیع باغ میں تبدیل کیا اور اس کانام اسلام آباد رکھا ،، ککرناگ،،، پرگنہ برن میں بندو زلن نامی گاؤں میں یہ چشمیہ ہے ، بہت ہی مشہور و معروف ہونے کی وجہ سے یہاں سیاح اور طالب علم کثرت سے سیر و تفریح کی خاطر آتے ہیں ، بہت زیادہ پانی کے اخراج میں ویری ناگ سے بھی آگے ہے ،، بہت بہت ہی میٹھا اور ہاضم پانی ہے (آئین اکبری ) ککر ناگ دو الفاظ کا مجموعہ ہے ، ککر کشمیری میں مرغ کو کہتے ہیں اور ناگ سنسکرت لفظ ہے جس کے معنیٰ چشمہ ہوتا ہے ، حضرت شیخ العالم نے اس کے نام میں تھوڈی سی تبدیلی کرکے یوں کہا ،، ( ککر ماگ ‘‘برنگ چھء سونہ سند پرنگ)ککرماگ سونے کا تاج ہے ،،پانزت ناگ،،، پرگنہ دیو سر میں پانزت گاؤں میں یہ مشہور چشمہ ہے ۔پانی کی فراوانی کے لئے ویری ناگ کے برابر ہے ،اس کے ساتھ ہی اور چار چشمے ابلتے ہیں،، واسُک ناگ ،،، دیوسرمیں ولہ ٹینگ گاؤں کے پہاڈی دامن میں ہے ، کہتے ہیں کہ چتہر مہینے کی تیسری تاریخ کو اس سے پانی ابلنا بند ہوتا ہے اور پھر لوگوں کی عاجزی اور انکساری اور نذرونیاز کے بعد بھا دو ن مہینے میں پھر پانی جاری ہوجاتا ہے،جب غائب ہوتا ہے تو اس کا پانی گوئل گاؤں سے پھوٹنے لگتا ہے ، (تاریخ حسن ) پہلو ناگ ،، دیوہ سر میں ہی پہلو نامی گاؤں میں ہے اگلے زمانے کے مورخوں نے لکھا ہے کہ لوگ رومال میں چاول باندھ کر ڈالتے تھے اور وہ پک کر کھانے کے قابل ہوجاتے ، اس کا مطلب یہی لیا جاسکتا ہے کہ کافی گرم چشمہ تھا لیکن اب یہ تاثیر نہیں ، تاریخ کشمیر ، کے مصنف ملک حیدر چاوڈورہ اس بارے میں کوئی اور ہی کہانی سناتا ہے کہ لوگ سال بھر کے لئے اپنی قسمت کا حال جاننے کے لئے اس میں چاول ڈالدیتے اور ایک سال کے بعد جس کا برتن سطح پر چاول سمیت آجاتا اس پر قسمت مہر باں سمجھی جاتی ،، ملک ناگ ،، قصبہ اسلام آباد میں ہے ، سارے قصبے کو سیراب کرتا ہے ، جاڈے کے موسم میں اس کا پانی خاصا گرم اور گرمیوں میں خاصا ٹھنڈا ہوتا ہے،۔۔۔ چشمہ کانو ،،، پرگنہ شاہ آباد میں نور پورہ میں واقع ہے،اگلے مورخین نے اس کے بارے میں یہ عجیب توضیح کی ہے کہ اس چشمے کی ساری مچھلیاں ایک آنکھ والی ہوا کرتی تھیں ، کشمیری زباں میں ایک آنکھ والے کو ’’کانا ‘‘ کہتے ہیں اسی لئے اس چشمے کا نام بھی چشمہ کانا ہے ،، لدرہ سند ،، پرگنہ شاہ آباد کے ہلر گاؤں میں واقع ہے یہ بھی ایک عجیب کیفیت والا چشمہ ہے جیٹھ کے مہینے میں چند دنوں تک اس کا پانی پھوٹ پڑتا ہے اور پھر چند گھنٹوں میں ہی بند ہوجاتا ہے اور سوکھ جاتا ہے اس کے بعد پھر نئے سرے سے یہی عمل دہراتا رہتا ہے ، ۔۔۔۔ سند براری۔۔۔ برنگ کے ضلع لُہرنی زلن گام نامی گاؤں میں ہے ایک عجیب و غریب چشمہ ہے ، ماہ چیت کے ابتدائی دنوں میں اس سے پانی پھوٹتا ہے اور جیٹھ مہینے کی پندرہ تاریخ تک جاری رہتا ہے ، (ماہ مئی و جون )واقعات کشمیر تاریخ میں ، عجائب و غرائب کشمیر میں اس کا تذکرہ یوں ہے کہ سند براری ایک تالاب ہے جو گیارہ مہینے خشک رہتا ہے ، اور اول بہار میں ایک ماہ تک ہر روز تین بار پانی سے بھر جاتا ہے ،لیکن ابو الفضل کے بیان کے مطابق یہ ایک تالاب ہے جو سات گز لمبا اور گہرائی میں ایک قدِ آدم کے برابر ہے ، یہ جگپ بہت متبرک مانی جاتی ہے کیونکہ یہ تالاب گیارہ مہینے تک خشک رہتا ہے اور قدرت کاملہ سے اردی بہشت مہینے میں اس کا پانی فوارے کی طرح ابلنے لگتا ہے ، کبھی یہ چشمہ تین گھنٹوں تک ابلتا ہے اور کبھی ایک لمحے میں پانی غائب ہوجاتا ہے ، ملک حیدر چاوڈورہ نے پانی ابلنے کی جگہ کو دیالگام قرار دیا ہے ، (تاریخ کشمیر قلمی نسخہ ص ۱۰۶ ) پونہ سند ،، شاہ آباد پرگنہ میں سڈار گاؤں میں یہ عجیب چشمہ ہے ، جس کا پانی جاڈے کے موسم میں سوکھ جاتا ہے اور پھر پھاگن ، چہتر اور بیساکھ کے مہینوں میں پھر سے جاری ہوتا ہے ،اس کے بعد ساون کی مہینے تک انسانی سانسوں کی مانند پھوٹتا ہے یعنی زمین میں پانی کی ایک سانس پھٹ نکلتی ہے اور ندی جاری ہوجاتی ہے لیکن دوسری سانس جیسے اٹک جاتی ہے یعنی حوض سوکھ جاتا ہے ، ہندو اس کی عبادت کرتے ہیں ، شیخ داوؤد خاکی ؒ فرماتے ہیں ، ایک چشمہ ہے کشمیر میں نام پونہ سند ،،اس کا آنا اورجانا لوگوں کی سانسوں کی طرح ہے ۔۔ ھلدر ،، لار پرگنہ میں رنگنو نامی پہاڈ کے اوپر یہ چشمہ ہے جس کا پانی ایک پتھر سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے اور ایک تالاب میں جمع ہوجاتا ہے ،خواجہ محمد اعظمدیدہ مری کا بیان ہے کہ رنگنو پہاڈ کے اوپر ایک کھلا پتھر ہے جس سے فروردین کی اٹھارہ تاریخ سے اتنا پانی جاری ہوجاتا ہے کہ دس ہزار آدمی بھی پئیں تو کوئی کمی محسوس نہیں ہوگی ، ایک دن اور رات ایسا ہوتا ہے ،، (واقعات کشمیر )چشمہ ھیہ مال ،، پرگنہ سمن کے بلہ پور نامی گاؤں میں یہ ایک نہایت ہی خوبصورت اور دلکش چشمہ ہے ، ، ہی مال کشمیر کی ایک لوک کہانین ہے بھی ہے جس کا عاشق ناگی ارزن تھا ،، چشمہ ناگِ ارزن ،،،،باٹھو پرگنہ کے سوپن نامن گاؤں میں ہے ،، میں نے اوپر لکھا ہے کہ کشمیر میں ہی مال ،، ناگرائے ، کی جوڈی اسی طرح کی جوڈی مشہور ہے جس طرح سے ہیر رانجھا ، یا لیلیٰ مجنوں کی ، اس جوڈی پر ہمارے کئی بڑے شاعروں نے منظوم مثنعیاں بھی کہی ہیں جو ابھی تک مقبول ہیں ان میں پوری کہانی پڑھی جاسکتی ہے ،، چشمہ پاھہ ہارون،، کہاہورپرگنہ کے سالیہ گاؤں میں مشہور چشمہ ہے ، ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ یہاں نہانے سے پاپ دھل جاتے ہیں ،اڈپل ناگ ،،، اولر پرگنہ میں پہاڈ کے دامن میں ایک چشمہ ہے پانی کی بہتات میں ویر ناگ کی طرح ہے اور اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو اس سے مراد وہی ناگ ہے جو کرالہ سنگری کے دامن میں آج بھی موجود ہے اور جہاں سینکڑوں ٹرک پانی کے روز قصبوں کی طرف بھیجے جارہے ہیں ،،، مہا پدم ناگ ،، اولر پرگنہ ترال گاؤں میں واقع ہے ،اب سوکھ چکا ہے لیکن کئی ہندو مورخ اس کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں ، مہاپدم ناگ کبھی چھپ گیا تو سندیمت نگر میں پھوٹا جس سے سندیمت نگر سارے کا سارا پانی میں ڈوب گیا ، یہ جھیل ولر کی بات ہورہی ہے جس کے بارے میں کسی پچھلی قسط میں تفصیل سے بات ہوئی ہے ،، قدیم زمانے کے ہندوؤں نے اس کے ساتھ کئی کہانیاں منسوب کی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ چشمہ مہاپدم ناگ (بہت بڑی سانپ کی رہائش گاہ تھی ،سرزمین کشمیر میں اس نے رہنے کی اجازت بادشاہ نیلہ مت سے لی تھی ، اور چندر پور میں جو اس کے بعد سندیمت نگر سے مشہور ہوا ، رہنے لگا ، ریشی درواساجب ایک بار یہاں پدھارے تو اس کا شایان شان استقبال نہیں ہوا تو اس نے بد دعا دی اور مہا پدم اپنی اصلی صورت پر آگیا اور اسنے بادشاہ کو سندیمت نگر کے ڈوبنے کی اطلاع دی اور خود ،وشوگا ،، ( سوپور ) کی طرف آیا اور یہاں ایک نئے شہر کی بنیاد ڈالی ،اس کے بعد سندیمت نگر ایک جھیل میں تبدیل ہوا جس سے ولر کے نام سے جانا جاتا ہے ،، (این شنٹ جیو گرافی آف کشمیر ص ۱۱۵)