مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۳۶)
چشموں کا مختصر تذکرہ کرنے کے باوجود کئی اہم ایسے چشمے پچھلی قسط میں رہ گئے تھے اور میں نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ انہیں مکمل ہذف کردوں کیونکہ ان چشموں کے ساتھ ہزاروں برس کی تاریخ ، اور وہ توہمات یا کہانیاں منسوب ہیں جو ہماری تاریخ میں آج بھی موجود ہیں اس لئے ، ان کا تذکرہ بھی لازمی اور ناگزیر ہوجاتا ہے ،،چشمہ زیون ،،، وہو پرگنہ کے ز یون نامی گاؤں میں ہے ہندو لوگ اس چشمے کو بھی بہت ہی متبرک مانتے ہیں (آئین اکبری )ابوالفضل کے بقول زیون ایک چشمہ ہے جس سے ہندو شبھ اور اشبھ فال نکالتے ہیں ، اس کے لئے وہ زعفران کی فصل کاٹنے کے وقت مذکورہ چشمے میں گائے کا دودھ ڈالتے ہیں اگر دودھ پانی میں جذب ہوا تو بہتر ورنہ جان لیتے ہیں کہ اب کے سال فصل اچھی نہیں ہوگی ،،نیلہ ناگ ،، چرار جانے والے راستے پر ناگام ٹیلے میں واقع ہے ایک تالاب کی طرح لمبا اور کشادہ ہے اب اس میں پانی نہیں ۔کہتے ہیں ۱۲۹۶ ہجری میں اچانک سوکھ گیا،،نیلہ ناگ دوئم ۔۔ پرگنہ ناگام کے گوگجی پتھری نامی گاؤں میں ایک پہاڑ کے دامن میں ندی کی طرح ایک گہری اور وسیع جھیل ہے ، اس کا پانی اپنی حدود میں ہمیشہ بند رہتا ہے اور باہر نہیں آتا کوششوں کے باوجود بھی نہیں ،،ہندو اس کی پرستش کرتے ہیں یہ بھی ایک کہا نی ہے کہ چندرہ پنڈت نامی ایک شخص دیوؤں کے ہاتھوں اس میں ڈوب گیا تھا اور اس نے اس جھیل کے اندر ہی نیلہ ناگ سے نیل مت پوران کی تعلیم پائی تھی ،آئین اکبر ی میں درج ہے کہ بڈشاہ کے عہد سلطنت میں ایک برہمن اس میں اترا کرتا تھا اور کئی کئی روز بعد تحفے تحائف کے ساتھ واپس آجاتا ۔
چشمہ کر میشور۔۔۔ پرگنہ اچھ کے کر میشور گاؤں میں ہے ، جاڈے کے چھ مہینوں میں ہمیشہ خشک رہتا ہے ، بہار کے ابتدائی دنوں میں یہاں کی مقامی آبادی ایک بھیڑ یہاں ذبح کرکے کھانا پکاتی ہے اور تقسیم کرتی ہے ، کشمیری میں اس طرح کھانا پکانے کو ’’مچامہ ‘‘ کہتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ اس کے بعد فوراً ہی اس چشمے سے پانی رواں ہوجاتا ہے (واقعات کشمیر عنوان کشمیر کے عجائب و غرائب ص ۲۶۷)
نرائن ناگ ۔۔۔بیرو کے گاؤں کھاگ میں واقع ہے ، بڑی مقدار میں پانی ایک ندی کی طرح یہاں بہتا ہے اور کئی دیہات کو سیراب کرتا ہے اس کے آس پاس کئی اور چشمے بھی اسی گاؤں میں ہیں کئی مورخوں نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص نرائن ناگ چشمے پر زور سے سے آواز دیتا ہے تو اس چشمے کا پانی حرکت میں آجاتا ہے یعنی یہاں سے لہریں اٹھنے لگتی ہیں ، (واقعات کشمیر،دیدہ مری ص ۲۷۲لیکن یہاں کھاگ کے بجائے پھاگ آیا ہے ) چشمہ تتہ دان ،،، تتہ دان کا مطلب ہی گرم چولہا ہوتا ہے ،، اس چشمے کا پانی بارہ مہینے گرم رہتا ہے ، شوپیاں کے متصل ذبحن گاؤں میں ہے (،جنوبی کشمیر کا قصبہ )
گپت گنگا ۔۔۔ پرگنہ پھاگ کے ایشہ براری گاؤں میں ہے اس سے کم پانی نکلتا ہے ،لیکن ہندو اس سے متبرک مانتے ہیں اور بیساکھ کی پہلی تاریخ کو یہاں میلہ لگتا ہے ،، (آئین اکبری جلد میں اس کا ذکر آیا ہے لیکن چشمے کا نام گپت گنگا کے بجائے َسریاسرآیا ہے ،،،، وچار ناگ ،،،سرینگر نوشہرہ میں واقع ہے ا ور اب ایک بڑا محلہ بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے ہندو لوگوں کے لئے متبرک ہے اور اس میں نہانے سے ان کا عقیدہ ہے کہ پاپ دھل جاتے ہیں ،یہاں بھی چیتر میں ایک میلہ لگتا ہے ( چیت ماہ کے آخری دن )چشمہ کھیر بھوانی ،،،پرگنہ لار کے تولہ مولہ نامی گاؤں میں ہے ،یہ صدیوں سے ہندوؤں کی بڑی عبادت گاہ اور متبرک استھان رہا ہے اس کے پانی کا رنگ بدلتا رہتا ہے ، کہتے ہیں کہ یہ جگہ راگنیا دیوی کے ظاہر ہونے کا مقام ہے ،،ہر ماہ اشٹمی شکلہ پچ کے دن یہاں ایک میلہ مقرر ہے اور اشٹمی جیٹھ کو ایک بڑا میلہ لگتا ہے جس میں کافی لوگ دور دراز جگہوں سے بھی آکر پوجا پاٹھ میں حصہ لیتے ہیں ( ہندوؤں کے مطابق ہر ماہ دو حصو ںمیں تقسیم ہوتا ہے پہلے پندرہ دن روشن اور دوسرے پندرہ دن تاریک ، ۔۔ انہیں پورنماشی اور اماوس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ،وتر گنگ ۔۔ پرگنہ لعل کے میکام گاؤں میں واقع ہے ، اس کا پانی صاف شفاف اور ہاضم ہے ، بارش ہونے کے وقت لوگ کبھی کبھی گائے کی کھال کا ایک ٹکڑا چشمے کے دہانے پر چھپاکے رکھتے ہیں ، اور لوگ سمجھتے ہیں کہ فوراً ہی بارش اور اولے گرنے لگتے ہیں ، حسن کھوئہامی لکھتے ہیں کہ ایک دن میں نے اس بات کا مشاہدہ بھی کیا ہے ، ملک حیدر چاوڈورہ مصنف ’’ تاریخ کشمیر ‘‘نے بھی اس بات کو آزمایا ہے ،وہ لکھتا ہے کہ ( لار پرگنہ میں ایک اونچے پہاڑ پر جنوب کی جانب ایک ندی بہتی ہے جس کا نام اوتر گنگ ہے ، یہاں اگر کوئی مرغ یا گائے کا گوشت پکائے تو موسم نہ ہوتے ہوئے بھی شدید برفباری ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس کو بھی توہمات ہی کے ذمرے میں ڈالا جانا چاہئے ۔ناران ناگ ،، پرگنہ لار کے وانگت گاؤں میں بو ٹیشور پہاڈ کے دامن میں واقع ہے راجہ جلوک(۱۳۳۲۔۳۵۲ ق ،م ) کا بنایا ہوا بوٹیشور مندر یہاں موجود ہے ، ، ہر موکٹہ گنگا کے میلے سے واپسی پر ہندو لوگ یہاں اس چشمے پر نہاتے ہیں اور اپنا سفر مکمل سمجھتے ہیں ۔ شنگہ پال ناگ ،، پرگنہ کھوئہامہ میں برارودچھ گاؤں میں ہے۔شیخ بابا داؤد خاکی ؒ نے یہاں ایک مسجد بنوائی ہے اور چالیس چلے کاٹے ہیں ، ( حضرت بابا داؤد خاکی ؒ حضرت شیخ مخدوم شیخ حمزہ کشمیرسلطان العارفین، کے مرید تھے ، ’’واقعات کشمیر‘‘ میں ان کا تذکرہ ہے کہ بڑے صاحب حال بزرگ تھے ، آپ کی کئی تصانیف ہیں ، جن میں ورودالمر یدین ، ْسیدہ جلالیہ بہت ہی مشہور تصانیف ہیں ، ۹۹۴ھ میں آخری چک بادشاہ یعقوب چک کے دور میں وفات پائی ہے )۔ پچھ ناگ ۔۔ کھویہامہ میں گرورہ گاؤں میں واقع ہے ، کہتے ہیں کہ کھجلی والوں کے لئے اس کا پا نی بہت ہی مفید ہے ، شاید اس میں گندھک کی آمیزش ہوگی ۔ پاپ چھن ،، کھوئہامہ میں نامی گاؤں بانڈی پور سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ، ، ہندو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں نہا نے سے ان کے پاپ دھل جاتے ہیں ، یہاں بھی نئے سال کے دن میلہ لگتا ہے ،،چکر یشور،، کھوئہامہ کے آتھ مول گاؤں میں ہے بانڈی پور سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ،،زلیشور۔۔ پرگنہ زینہ گیر کے ہرون نامی گاؤں میں ہے ، ہندوؤں کی عبادت گاہ بھی ہے ، لچھمن ترت ۔۔ زینہ پرگنہ میں ایک گاؤں لٹی شاٹ ہے وہاں واقع ہےہر ناگ ۔ زینہ گیر میں ہر ون گاؤں میں ہے اس کے گردا گرد اور بھی آٹھ چشمے ہیں ، ،، شیوہ ناگ۔۔وتر پرگنہ میں ترہ گام نامی گاؤں میں ہے اس کا پانی بھی صاف ستھرا ہے ۔۔ شومہ ناگ ۔۔۔وتر پرگنہ میں شومہ ناگ گاؤں میں واقع ہے اور اس میں بڑی تعداد میں مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں،، کشمیر میں جہاں کہیں بھی چشموں میں مچھلیاں ہیں تو انہیں لوگ کھاتے نہیں بلکہ انہیں پکانے سے ڈر جاتے ہیں ،، چشمہ زیتی شاہ ،،،زیتی شاہ مستانہ کے مقبرے کے صحن میں واقع ہے ( زیتی شاہ ایک مجذوب تھے ۔عریاں پھرا کرتے تھے۔ آپ کا مقبرہ کامراج میں ہے واقعات کشمیر کے مطا بق حضرت مخدوم کے زمانے میں تھے ۔ان کے علاوہ چشمہ منز ہار ۔۔ ناران ناگ ،، بُبر ناگ ، تینوں پرگنہ وتر میں ہیں ۔۔۔۔ رام کنڈ ۔ سیتا کنڈ ۔ لچھمن کنڈ۔ ہنومان کنڈ۔۔یہ چاروں چشمے پرگنہ وتر ہری علاقے میں میل پال نامی گاؤں سے تھوڑی دور پروٹ کوہ کی کمر میں واقع ہیں۔ کہتے ہیں رام چندر جی نے یہاں مندر بنوایا تھا ، رام کا زمانہ کئی ہندو مورخ آٹھ لاکھ سال پہلے بتاتے ہیں ،، (جامع الغات اردو)ہندو لوگ اجودھیا کو رام جنم بھومی مانتے ہیں جب کہ نیپال کا دعویٰ ہے کہ رام کی جنم بھومی نیپال ہے ،، ، گوتم ریش ناگ ۔۔ پرگنہ گزریال گاؤں میں یہ چشمہ ہے اس سے کافی پانی نکلتا ہے اور حوض میں مچھلیاں بھی ہیں ۔ میرا دیکھا ہوا ہے ،، ۔چشمہ شاہی ، سرینگر کے نزدیک شالمار پہاڈ کے دامن میں ہے ، پانی نہایت شیریں ، لطیف اور ہاضم ہے ملک کے سلاطین اور بیروکریٹ اس کا پانی آج بھی استعمال کرتے ہیں ،شاہجہاں نے اپنے عہد سلطنت میں یہاں ایک بہت خوبصورت عمارت (پری محل ) اور ایک شاندار باغ لگوایا ،۔نیلہ ناگ ۔۔ لترا گہلر سے متصل شاورہ پرگنہ میں ایک ٹیلے کے دامن میں واقع ہے ۔۔سوکھ ناگ ۔۔ یچھ نار میں اس کا پانی بلندی سے دریائے لدر میں گرتا ہے ، بڑا ہی دلفریب چشمہ ہے ،، کوٹھیر ناگ ۔۔ کوتھیر گاؤں ۔ پرگنہ کوٹھار میں خوبصورت چشمہ ہے اس کے کنارے پر کسی مندر کے نشانات موجود ہیں ،چشمہ شمہ ہال ،، شمہ ہال پہاڑ کے دامن میں ہے ، یہ شمہ ہال کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے ، ہندو اس سے تچھک ناگ کہتے ہیں ، عام لوگوں کا ماننا ہے کہ یہاں حضرت امیر کبیر تشریف لائے تھے اور یہ چشمہ ان کی ایک کرامت کا اظہار ہے ،(، خدا ہی بہتر جانتا ہے )کاضی ناگ۔۔ میں نے جو تفاصیل چشموں کی دی ہے ، میری بیشتر معلومات کا ماخذ تاریخ حسن رہی ہے ، لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ حسن نے چشموں میں ایک مشہور و معروف چشمے کاجی ناگ کا ان چشموں میں ذکر نہیں کیا ہے ، کیونکہ کاجی ناگ سارے کشمیر میں ایک بہت ہی مشہور چشمہ ہے ، لیکن دوسری جگہ انہوں نے اس کا تذکرہ کسی اور عنوان میں ضرور کیا ہے ، بہر حال میرے بچپن میں میری والدہ مجھے اس ناگ سے متعلق عجیب و غریب اور ڈراونی کہانیاں سنایا کرتی تھیں جن سے میں نے یہ اخذ کیا تھا کہ یہ کوہ قاف کی پریوں والا معا ملہ ہے ۔ بہرحال آگے بڑھ کر اس کی حقیقت معلوم ہوئی ، کہ سرینگر سے مغرب کی طرف کامراج یعنی میرے علاقے میں دچھنہ اور کرناہ علاقوں کے درمیان واقع ہے ،(قدیم زمانے میں در اصل کشمیر دو مملکتوں میں بٹا ہوا تھا ایک مراجیہ ۔۔ اور دوسرا حصہ کامراجیہ ، دونوں بھائی تھے اور ان کے باپ نے ان دونوں بیٹوں کو ان علاقوں کا اقتد ا ر انہیں سونپا تھا جس کی وجہ سے یہ مراجیہ اور کمراجیہ میں تبدیل ہوئے مراز کا حصہ کشمیر کا وہ علاقہ ہے جو سرینگر تک دریائے بہت (جہلم کے دونوں طرف آباد ہے اور کامراجیہ سے مراد نچلا علاقہ ہے یا شمالی کشمیر ہے جس میں ہم بھی بودوباش رکھتے ہیں ،، سر والٹر لارنس کے مطابق اس کی بلندی پندرہ ہزار پانچ سو چوبیس فٹ ہیں اور اس کی چوٹی ہمیشہ برف سے ڈھکی رہتی ہے اس پہاڈ کی چوٹی پر ایک چشمہ ہے جو کاجی ناگ کے نام سے مشہور ہے ، اور میرے خیال میں ابھی تک بہت ہی کم تعداد میں جیالے اس چشمے تک پہنچے ہیں کیونکہ یہ زبان زد عام بات ہے کہ اس چوٹی پر آندھیاں ، اور برفباری کے طوفان معمول کی بات ہے جس کی وجہ سے شاید ایک خوف اور ڈر بھی اذہان پر مسلط ہوا ہے ،،،