مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۳۷)
میرا خیال تھا کہ یہ قسط سلطان زین العابدین کے دور کے ان مشائخین ، صوفی بزرگوں ، ریشیوں منیوں ،وحانی پیر طریقت و شریعت اور سادات کے نام کردوںجو یہاں آکر کشمیر کی مٹی ہی میں آسودہ حال ہوئے اور جنہوں نے بڑی محنت و مشقت اٹھاکر اسلام کے پودے کو خون جگر سے سینچ کر ایک تناور درخت کا روپ دیا بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہے کہ باغ سلیماں میں اسلام کی کیاریاں اور گلستاں کھلادئے ، لیکن پھر خیال آیا کہ انہیں اگلی قسط میں جگہ دوں ، تو زین العابدین جو واقعی عابدوں کے زینت تھے اس دار فانی سے ایسے رخصت ہوئے کہ پچاس سالہ بادشاہت اور وہ بھی زبردست شہنشاہی ، ایک مستحکم اور مظبوط مملکت اپنے تین بیٹوں کے ساتھ چھوڈ گئے ، اوہم ، حاجی اور بہرام ، سلطان کی وفات کے بعد حاجی خان کی دلی تمنا پوری ہوئی اور باپ کے انتقال کے بعد تیسرے دن تخت شاہی پر براجمان ہوا ،اور جشن جلوس کی تیاریوں میں مصروف ہوا ، یہ جشن اس نے بڑے پیمانے پر بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا کہ اب تک ضرب المثل ہوکر رہ گیا اس جشن میں قرب و جوار کے راجوں مہاراجوں نے شرکت کی اور اپنے تحفے تحائف سے حاجی خان کو مسرت بخشی جس نے تخت پر آکر سلطان حیدر شاہ کا لقب اختیار کیا اور اسی نام سے تاریخ میں بھی جانا جاتا ہے ۔اپنے بھائی بہرام خان کو منصب وزارت عطا کرکے خوش کرنا چاہا ۔ اس لئے پرگنہ ناگام بھی اس کی جاگیر میں دے دیا ،ساتھ ہی اپنے بیٹے حسن خان کو ولی عہد مقرر کر کے اس سے کامراج کا حاکم مقرر کیا ،،،تھوڑا سا اتفاق دیکھ کر امرا اور بد خواہ وزرا میں تشویش پیدا ہوئی اور انہوں نے فوراً ہی سازشوں کے جال بھننے شروع کئے ،حسن خان اپنی فوج لے کر پنجاب کی طرف نکل گیا ، ،اور راجوری ، گھکڑ وغیرہ علاقہ جات کو فتح کرکے جہلم کی طرف بڑھا ،، بہت سے شہروں کو مسمار کرکے چھ ماہ کے بعد واپس کشمیر بے شمار مال و اسباب لے کر واپس آیا ، سلطان حیدر شاہ جیسا کہ میں نے پہلے کہیں ذکر کیا ہے شرابی تھا ،اور زانی بھی ، دونوں کمینگیاں اس کے ساتھ ہی پرورش پاتی گئی تھیں جس وجہ سے سلطان اسے بالکل بھی پسند نہیں کرتا تھا بلکہ اپنا آخری وقت سلطان نے زبردست تکالیف اور ذہنی پراگندگی میں گذارا۔ اس کے تینوں بیٹے ذلیل اور رذیل ثابت ہوئے تھے اور ان میں سے کوئی بادشاہت کے قابل نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ سلطان نے ان میں سے کسی کو ولی عہد مقرر نہیں کیا تھا ، حیدر شاہ (حاجی) رات دن شراب کے نشے میں دھت رہنے لگا اور امرا وزرا ء نے سارا نظام جو سلطان نے محکم کیا تھا،کی بیخ کنی شروع کی ، ، حیدر شاہ نے ہندؤں کو تکلیفیں دینا شروع کیں ، ظاہر ہے کہ اس میں حیدر شاہ کا ہاتھ نہیں رہا ہوگا کیونکہ وہ سرے سے ملکی امورات سے غافل انگور کی بیٹی میں سما چکا تھا اور یہ اندازہ پہلے ہی سے وزرا امرا کو رہا ہوگا ، اس دوران کچھ ہندوؤں نے بعض مسجدوں اور نئی قبروں کو منہدم کیا ، اس سے حیدر کا غصہ بے قابو ہوگیا اوراس کی وجہ سے ہندو لوگ عتاب کا شکار ہوئے ، ، بعض سرکردہ ہندوؤں کو پھانسی بھی ہوئی ، اس دور میں حیدر شاہ کے مقربین میں ایک حجام (لولی) تھا بلکہ یہ شخص جیسا کہ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے اپنے زمانے کا ٹاپ چاپلوس، اور کمینہ تھا ، اس نے حیدر شاہ کو اپنے وش میں کر رکھا تھا۔لولی خان نے اسقدر دسترس حاصل کی کہ حسن خان اور اس کا باپ بہرام خان بھی اس سے ڈرنے لگے ، لولی نے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا اور جو اس سے رشوت نہیں دیتا تھا اس سے سلطان کی نظروں سے گرا کر اس سے سزا دلانا اس کا معمول ہوکے رہ گیا ،یہاں تک حسن خان کچھی جس نے سب سے پہلے حاجی خان کی بیعت کی تھی اور جس کی مدد سے ہی حاجی تخت پر بیٹھا تھا اس سے بھی قتل کر وایا ، تاریخ گلدستہ میں اسکی تفاصیل ملتی ہیں لیکن دوسرے مورخین کی تاریخوں میں اس کے بارے میں خاموشی ہی دکھائی دیتی ہے ، جس کی بنا پر بہت ساری باتیں مشکوک ہوکر رہ جاتی ہیں ،انہی دنوں اوہم خان تسخیر کشمیر کے لئے بہت سا لشکر لے کرتبت سے جموں پہنچا ، ،لیکن یہاں راجہ جموں کے ساتھ شامل ہوکر جنگ صفو لان میں شامل ہوا۔جس میں ایک تیر سیدھا اس کے سینے میں پیوست ہوا اور وہیں مرگیا ، سلطان حیدر شاہ نے اس کی نعش کشمیر منگوائی اور محلہ سپہ یار متصل نوا کدل میں دفن کی ، یہی وہ دور ہے جب حاجی خان (حیدر شاہ کی صحت بھی کثرت شراب نوشی سے بگڑ گئی ، امرا ء جو حاجی خان سے پہلے ہی تنگ آچکے تھے نے اتفاق سے بہرام خان کو تخت پر بٹھانے کے لئے ناگام سے بلانا چاہا ، لیکن اس کی خبر اوہم کے بیٹے فتح خان کو ہوئی جو ان ایام میں سر ہند میں تھا وہ فوراً ہی سرہند سے کوچ کرکے لشکر جرار لے کر بلا اجازت کشمیر وارد ہوا ، دشمنوں نے بیمار حاجی خان کے کان بھر دئے جس سے سلطان اپنے بھتیجے سے ناراض اور برافروختہ ہوا ، فتح خان مایوس ہوکر گھر میں بیٹھا رہا ۔آخر ایک سال ایک ماہ اور ۱۹ روز کی بادشاہت کے بعد حیدر شاہ جب شراب کے نشے میں دھت تھا تو اپنے ہی محل کی چھت سے پیر پھسلنے سے گر کر جاں بحق ہوا ،، ایک تاریخ میں یہ عرصہ ایک سال دس مہینے بھی ہے ، حیدر شاہ میں کئی صفات بھی تھیں ، وہ فیاض تھا علم و فن کا قدر داں تھا ، خود بھی شاعر تھا ، اور فارسی میں نظموں کا ایک مجموعہ بھی اس کا ہے ، ، شری در کا بیان ہے کہ سلطان ستار بجانے میں ماہر اور استاد تھا ، ، اپنے باپ کی طرح سرینگر میں ایک پل نواکدل بھی اسی کی یاد گار ہے ،،، لیکن وہ کمزور قوت ارادی کا مالک تھا اور جیسا کہ اوپر آیا ہے شراب نوشی نے اس کی تمام صلاحیتوں کو زنگ لگا دی اور وہ کوئی بڑا کام یانام پیدا نہیں کرسکا ، اس کا زیادہ تر وقت تاریخ کے مطابق ، شراب نوشی ، عورتوں اور گویوں کی صحبت میں گزرتا تھا ،، اور کوئی بھی بادشاہ ان صفات کے ساتھ اقتدار پر کبھی مظبوط گرفت نہیں رکھ سکتا ،،، سلطان حیدر شاہ کی اچانک موت کے بعد ۱۴۷۵؁ء کو اس کے بیٹے حسن شاہ نے عنان حکومت سنبھالی ، اپنے چچا کی مرضی کے خلاف ملک احمد یتو کی معاونت سے دولت خانہ نوشہر پر قابض ہوا ، اور ملک احمد کو منصب وزارت پر فائض کیا ، سنجر رینہ اور احمد ماگرے کو سپاہ سالار اور رئیس ملک کے عہدے سونپ دئے ،،بہرام خان اس کا چچا خوف زدہ ہوکر اپنے بیٹے یوسف خان کو ساتھ لے کر ہندوستان آگیا ، لیکن اس کے ساتھی راستے ہی میں اس سے بیزار ہوکر علیحدہ ہوئے ، حسن شاہ مطمئن ہوا تو ملکی امورات کی طرف توجہ دینے لگا ، باپ کے طرز عمل اور قوانین کو منسوخ کرکے زین العابدین کے قوانین جاری کئے ، اراکین سلطنت نے فوری طور سازشیں شروع کیں اور بہرام شاہ کو بلایا جو ایک لشکر لے کر کامراج کے علاقہ سوپور میں وارد ہوا ، ادھر سے حسن شاہ بھی فوجیں لے کر سوپور کی طرف آیا ، یہاںمیدان کارزار گرم ہوا ، جنگ کے دوران بہرام کے چہرے پر ایک تیر لگا اور وہ بھاگ کھڑا ہوا ، لیکن تازی بھٹ نے تعاقب کرکے باپ بیٹے کو گرفتار کیا ، حسن شاہ نے اپنے چچا بہرام کی آنکھوں میں سلائی پھر وادی اور اس تکلیف کی وجہ سے بہرام تیسرے دن فوت ہوا ،ملک احمد اس کی لاش کی بے حرمتی کے درپہ تھا لیکن زین العابدین کے پرانے وزیر زین بدر نے لاش دفن کی اور اس بات سے سلطان برافروختہ ہوا اور زین بدر کی بھی آنکھیں نکلوادیں ،جو تین سال اس عذاب میں مبتلا رہکر دار فانی سے کوچ کرگیا ، احمد یتو اور تازی بھٹ میں اختلافات بڑھتے گئے، جس کے باعث خانہ جنگیاں شروع ہوئیں ، دونوں فریقوں نے ایکدن رات کے وقت دیوان خانہ شاہی پر ہلہ بول دیا اور شاہی محلات میں آگ لگا دی ، بادشاہ نے احمد ملک کو قید کیا اور اس کے سارے خاندان کو قید میں ڈال دیا اور اسی قید میں مرگیا ، اس کے بعد بادشاہ نے اپنے خسر حسن کو دہلی سے بلوا کر زمام ملک اس کے ہاتھ میں دی ، جس نے بادشاہ کو بہت سارے امراء سے بد ظن کرکے ان کو قتل کروایا ، سلطان حسن شاہ بھی اپنے باپ کے نقش پر قدم پر گامزن ہوا اور رقص و سرود اور شراب سے دل بہلانے لگا ،یہاں تک کہ ملکی امورات سے غافل ہوکر سلطنت کشمیر اور شاہمیری خاندان کی بادشاہت کو تیزی سے زوال کی سمت عطا کی ، ۱۴۸۰؁ء کو ایک مہیب آگ سے قطب الدین پورہ اور سکندر پورہ خاکستر ہوئے آگ میں لگ بھگ نصف شہر راکھ ہوا اور خانقاہ معلی کے ساتھ ساتھ جامع مسجد بھی آگ کی نذر ہوئی ، لیکن سلطان نے ان دونوں متبرک مقامات کو از سر نو تعمیر کرایا ،۸۹۲ھ میں میر شمس الدین عراقی وارد کشمیر ہوئے ، ان کی اپنی یہ اہمیت ہے کہ انہوں نے یہاں شعیہ مذہب کی طرف لوگوں اور امرا کو مائل کرنے کی کوشش کی ، اسی دوران سلطان حسن شاہ شراب نوشی اور کثرت جماع سے کسی بیماری میں مبتلا ہوا مرنے سے پہلے وصیت کی کہ یوسف خان ولد بہرام خان اور فتح خان ولد آدم خان کو تخت پر بٹھائیں لیکن میرے بیٹے جو ابھی نابالغ تھے ، محمد خان کو ولی عہد نامزد کیا جائے ، سلطان حسن شاہ اس بیماری سے جانبر نہ ہوسکے اور ۱۴۸۷؁ء کو ۱۲سال ۸ماہ کی حکمرانی کے بعد اس دار فانی سے کوچ کر گئے،بادشاہ کے انتقال کے بعد شمس عراقی یہاں آٹھ سال گذار کر واپس چلے گئے لیکن فتح شاہ کے عہد میں ایک بار پھر کشمیر آکر مسلک شعیہ کو فروغ دیا ، ،سلطان حسن شاہ کے دور تک سلطان زین العابدین کے نقوش سلطنت کشمیر میں کئی شعبوں میں موجود رہے ، لیکن سلطنت روبہ زوال ہوچکی تھی اور ان بادشاہوں نے جو کسی بھی طرح سلطان زین کے خاک پاء کے برابر بھی ثابت نہیں ہوئے تھے ایک مستحکم اور مظبوط ملک کو تنکوں کی طرح بکھیر کر رکھدیا ، جو سرکردہ لوگ شمس عراقی کی وجہ سے شعیہ مسلک کی طرف مائل ہوئے تھے ان میں چک امراء بھی تھے ، اس دور میں کشمیر میں زبردست اور بے شمار مذہبی جھگڑے ہوئے جس نے خانہ جنگی کو جنم دیا اور سلطنت کے زوال میں سرعت پیدا کی،،