مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۳۸)
حسن شاہ نے اپنی موت سے پہلے یہ وصیت کی تھی کہ ’’یوسف خان ولد بہرام خان یا فتح خان ابن آدم خان کو میرے بعد تخت پر بٹھایا جائے لیکن میرے نابالغ بیٹے محمد شاہ کو ولی عہد نامزد کیا جائے ‘‘سید حسن نے یہ وصیت بہ ظاہر قبول کی تھی دونوں میں سے کسی ایک کو تخت پر نہیں بٹھایا بلکہ اس کے برعکس محمد شاہ کو ۱۵۴۴ء؁ میں تخت نشین کیا جب اس کی عمر صرف سات برس تھی اور خود اس کاسر پرست بن گیا ، ظاہر ہے کہ یہ اس لئے بھی کیا ہوگا کہ مکمل امورات اسی کے ہاتھ میں رہیں ، اور سید حسن نے اس بات کی پیش بینی بھی کی کہ کوئی دم نہ مارسکے،، لیکن اس کے مخالفین کی تعداد بھی بڑی تھی اور وہ فوراً ہی سازشوں کے جال بچھانے لگے ، چناچہ ایک رات راجہ جموں کے تعاون سے جو خود تاتار خان کے خوف سے کشمیر میں پناہ لئے ہوئے تھا ،۔ محل نوشہرہ کے اندر گھس کر سید حسن کو تیس سادات کے ساتھ قتل کردیا ،دریائے جہلم کے تمام پل توڈ دئے اور دوسرے کنارے پر جمع ہوکر مخالفوں کی پیش دستی روکنے کے مستعد ہوگئے ،سید حسن کا بیٹا جو سید محمد سلطان کا ماموں تھا اپنی جمیعت کے ساتھ مخالفوں کی سرکوبی کے لئے نکلا ، اس دوران عیدی رینہ نے تجویز دی کہ بہرام خان کے بیٹے یوسف خان کو رہا کرکے تخت پر بٹھایا جائے لیکن اس بات پر غور ہوہی رہا تھا کہ سید علی نے جیل کے اندر ہی یوسف خان کو قتل کر ڈالا، بجے بٹ نے اس کی مخالفت کی تو اس سے بھی ہلاک کر دیا ، یوسف خان کی والدہ ستان دیوی جو بیوہ گی کی زندگی گذار رہی تھی اور نہایت ہی پاکباز ا ور عا بدہ تھی نے۔ اپنے بیٹے کی لاش تین روز تک اپنے سامنے رکھی ، اور چوتھے دن دفن کراکر اسی قبر کے ساتھ ایک چھوٹا سا حجرہ بناکر ساری زندگی یہیں پر عبادات میں مشغول رہی ،اب پھر ایک بار سارا ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا، امراوزرا کی آپسی سر پھٹول کا نتیجہ یہ ہوا کہ چور اچکے بھی میدان میں سرگرم ہوئے ، اور اس لاقانونیت میں لوٹ مار کے دروازے کھلے پاکر بستیوں کی بستیاں تباہ کردیں ، ، باغیوں نے جہانگیر ماگرے کو جو لوہر کوٹ میں تھا بلایا ، اس کے بیٹے داؤد ماگرے اور معاون رفیق ماگرے نے اپنی فوج کے ساتھ پل بناکر سادات پر ہلہ بولا ، داؤد ماگرے مارا گیا اور رفیق ماگرے مایوس ہوکر بھاگ گیا ،، سادات نے باغیوں کے سروں کا مینار بناکر دہشت پیدا کی ،اس سے حوصلہ پاکر دوسرے روز سادات نے پل پار کرکے مخالفوں پر حملہ کیا ، لیکن مخالف ڈٹ گئے ،اتفاقاً پل ٹوٹ گیا اور دونوں طرف کے بہت سارے سپاہی دریا میں ڈوب کر مر گئے ،آخر باغیوں نے اپنی فوج کے تین حصے کرکے سادات پر زبردست حملہ کیا ، جس میں سادات کو شکست ہوئی ، بہت سارے مارے گئے اور باقی شہر میں روپوش ہوئے ، فاتح امرا نے شہر میں گھس کر لوٹ مار مچائی ، آگ زنی کی جس میں نصف سے زیادہ شہر جل کر راکھ ہوا اور آگ خانقاہ معلیٰ تک پہنچ گئی ،، باغی امرا محل میں داخل ہوگئے اور خلاف توقع سلطان محمد شاہ کی فرمانبرداری قبول کی جس کی عمر اب سترہ برس کی تھی ،لیکن فتنہ و فساد نے کہیں تھمنے کا نام ہی نہیں لیا اور فتح شاہ بہرام خان کے بیٹے نے کئی معرکوں کے بعد آخر تخت پر قبضہ کیا یہ وہی فتح شاہ تھا جس سے حسن شاہ نے اپنی ایک چوئیس قرار دیا تھا ،فتح شاہ نے آخری چوتھے معرکے میں فتح حاصل کی اور محمد شاہ تخت چھوڑ کر پناہ ڈھونڈنے کی فکر میں کہیں چلاگیا لیکن ، تاریخ فرشتہ میں مرقوم ہے کہ چند زمینداروں نے محمد شاہ کو گرفتار کرکے فتح خان کے حوالے کیا ، فتح خان نے بھائیوں اور محمد شاہ کو دیوان خانے میں قید کردیا اور تمام سامان عیش مہیا رکھوادیں ،، اس طرح سے سلطان محمد شاہ کی حکمرانی ۲ سال ۷ ماہ ۱۴۹۰ ؁ء تک قائم رہی اور یہ سارا دور ہی تخت اور اقتدار کی کشمکش میں گذر گیا جس نے تمام ملک کی رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڈ دئے ، خانہ جنگیوں کی وجہ سے تمام لٹیرے اور چور ڈاکو بھر پور فائدہ اٹھاتے رہے ، اب سلطان فتح محمد شاہ نے ۱۴۹۰؁ء نے تخت نشین ہوکر کاروبار مملکت اپنے معاون ملک ڈار کے سپرد کیا ،،لیکن ملک ڈار کی ترقی اور عروج کو شمس چک ، سرہنگ رینہ اور موسیٰ رینہ ملک کو ہضم نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے معمول کے مطابق سازشیں اور منصوبے شروع ہوئے ، بادشاہ کو بر گشتہ کر دیا اور آخر میدان جنگ سجا لیا جس میں داد شجاعت دینے کے بعد سیف ڈار ہلاک ہوا ، طرفین کے ہزاروں لوگ مارے گئے ، اور سر ہنگ کی آنکھ میں بھی ایک تیر آلگا اور سیف ڈار کے ساتھ ہی راہی ملک عدم ہوگیا ، سیف ڈار کی جگہ شمس چک نے منصب وزارت سنبھالی ، شمس چک کے بارے میں کچھ ضروری معلومات لازمی ہیں کیونکہ تیسرا خاندان یہی ہے جنہیں بادشاہت حاصل ہونے والی تھی ،(ملک شمس چک ملک ہمت چک کا بیٹا تھا ، ایک معمولی سے عام آدمی کی طرح سید محمد بیہقی کی ملازمت میں داخل ہوا ، ، اپنی صلاحیتوں کی بنا پر احمد یتو کے بیٹے نوروز ایتو کے مصاحبوں میں شامل ہوا ،ذاتی شجاعت کی وجہ سے ملک ڈار کے ہاں جگہ بنالی ،، پانڈو چک کے بیٹے حسین چک کی بیٹی سے شادی ہوئی اور اس طرح اشراف میں شامل ہوا ،آخر اپنے محسن کو مروا کر منصب وزارت پر فائض ہوا ) لیکن اعلیٰ ترین منصب نے فوراً ہی اس سے گمراہ کیا اور سید محمد بیہقی کی مخالفت پر آمادہ ہوگیا ، سید محمد نے معزول بادشاہ محمد شاہ سے ساز باز کرلی اور ابرہیم ماگرے ، حاجی پڈر ، اور ملک عیدی کو اپنا ہم نوا بنادیا ، اور خانقاہ بلبل شاہ کے متصل شمس چک کے مقابل آگیا ، شمس چک اپنی کمزوری سمجھ کر بھاگ نکلا اور عالی کدل پار کرکے دوسری طرف چلا گیا ،، کاجی چک بھی اس کے پیچھے روانہ ہوا،شمس چک اور کاجی چک نے یہاں پل کے پار ہوکر اتفاق کیا اور کامراج کی طرف بھاگ نکلے ، سید محمد اور ان کے طرفدار ان کا پیچھا کرتے ہوئے ترہگام تک آئے ، اور یہاں ان کے گھر اجاڈ کر واپس آگئے جب کہ چک دردستان چلے گئے ، ، چکوں نے بادشاہ کے لوٹنے کی خبر سنی تو واپس آگئے اور تین اقوام کو اپنے ساتھ ملاکر انتقام کی ٹھان لی ، اسی اثنا میں محمد شاہ ، جو قید میں تھا بھی سید محمد سے آملا ، ، شمس چک نے اپنا جائزہ لیا تو شبخون مارنے کا منصوبہ بنایا جس کی خبر کسی طرح سید محمد کو ملی اور اس نے چک کے لئے جال بچھا دیا ، رات کو چکوں نے حملہ کیا تو کیمپ میں بہت ہی کم سپاہی وہ بھی تیار ہی تھے لیکن سید محمد نے چکوں کو گھیرے میں لے کران کا قتل عام کیا ، ، حاجی چک کے جسم پر پچاس زخم لگے اور اس کا کان بھی کاٹ دیا گیا ، آخر شمس چک شکست کھاکر پنجاب کی طرف بھاگا اور اس کے پیچھے ہی فتح شاہ بھی اس کے ساتھ نوشہر میں ملا اس مرتبہ فتح شاہ کی حکومت دوسال اور گیارہ ماہ رہی ،، سلطان محمد شاہ دوسری بار فتح چک کی شکست کے بعد ۱۴۹۳؁ء میں تخت نشین ہوا ، اور سید محمد بیہقی جس کی وساطت سے اس سے یہ حکومت ملی تھی وزارت منصب پر فائض ہوئے ،اس موڈ پر ایک اور طرح کے انقلاب نے کشمیر میںجنم لیا ، اور یہ شمس عراقی کی وجہ سے تھا جس کے بارے میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ اس نے کشمیر میں شعیہ مسلک کے لئے تگ ودو کی تھی ، یہ صاحب خراساں میں آٹھ سال رہے اور جب سلطان حسین مرزا ( خراساں کے بادشاہ ) ان کے مسلک سے واقف ہوئے تو انہیں جلائے وطن کردیا ، چونکہ کشمیر میں ان کے بہت سارے مرید پیدا ہوچکے تھے اس لئے یہاں وارد ہوئے ،،یہاں بابا علی نجار کی معاونت سے اعلانیہ شعیہ مسلک کی ترویج میں مصروف ہوئے ، سید محمد کو اس کی اطلاع ہوئی تو فوری طور پر شمس عراقی کو اسکردو کی طرف دھکیل دیا ، سید کی یہ حرکت اس کے مریدوں کو ناگوار گذری اور اسکے مخالف ہوگئے ، تو تاریخ میں پہلی بار قتدار کی جنگ میں مذاہب شامل کر دئے گئے ، ، اس لئے ان مریدوں نے ابراہیم ماگرے ، حاجی پڈر سے عہدو پیماں کرکے فتح شاہ اور شمس چک کو بلوا بھیجا جو شکست کے بعد نوشہرہ میں ٹہھرے ہوئے تھے ، ، فتح شاہ اور ان سب نے مل کر بمقام خان پورہ میدان جنگ سجا لیا اور سید محمد بھی محمد شاہ کی طرف سے اپنی فوجیں لے کر میدان کار زار میں ڈٹ گئے ، جہاں انہوں نے بڑی شجاعت اور بہادری سے اپنی فتح کو بالکل قریب کردیا تھا کہ بد قسمتی سے وہ گھوڑے سمیت کسی پرانے کنویں میں گر گئے ، ان کے ساتھیوں نے انہیں نکالنے کی کوشش کی لیکن سپاہیوں کی بڑی تعداد نے ان کو بھی اسی کنویںمیں دھکیل دیا ، سید محمد اور محمد شاہ شکست کھا گئے ، پھر وہی انتقام ، جلانے ،مارنے اور لوٹنے کا بازار گرم ہوا، سید محمد کا عالیشان محل جو ابھی تیا ہوا تھا جلاکر راکھ کردیا گیا ، اس انقلاب عظیم میں سید محمد کے تین بیٹے موضع سویہ گام میں بہرام خان کے ہاں مقیم تھے ، ، سید مر تضے کو دشمنوں نے تبت کے پہاڑوں میں گھیر کر ہلاک کیا ، دوسرا سید ابراہیم علاقہ تبت میں گرفتار ہوا تیسرا چھوٹا اپنی ماں کے پاس ہی کہیں محفوظ رہا ، اس بار سلطان محمد شاہ دوسری بار ۸ سال ۹ ماہ تک حکمراں رہ کر بے دخل ہوا ، سلطان فتح شاہ ۱۵۱۴ ؁ء میں دوسری بار تخت نشین ہوا ، اور شمس چک کو وزارت کا منصب عطا کیا ، اس دور میں ملک کشمیر متواتر خانہ جنگیوں اور انتشار کا شکار رہا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ساری کہانی صرف کچھ جملوں میں یوں سمیٹی جاسکتی ہے کہ زین العابدین کے پچاس سالہ دور حکمرانی کے بعد کشمیر کی رعایا پر اللہ ہی کا قہر ٹوٹا ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محمد شاہ اور فتح شاہ پورے ۴۷ سال تک ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہے ، کبھی محمد شاہ غالب آئے تو کبھی فتح شاہ تخت نشین ہوئے لیکن دونوں میں سے کسی کو اقتدار کا سکھ چین نصیب نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے عوام ان دونوں کی جنگوں اور حسد کا خمیازہ بھگتے رہے اور مسلسل عذاب میں اپنے دن کاٹنے پر مجبور رہے ، ان دونوں کے پیچھے تین خاندانوں کی آپسی دشمنیاں اور مفادات کی جنگ میں سینکڑوں بار دل بدلی ہوتی رہی ، ۴۷سالہ دور میں محمد شاہ پانچ بار اور فتح شاہ تین بار تخت نشین ہوئے ، ،،،،،،