مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۳۹)
شاہ میر خاندان کے عروج کا دور سلطان زین العابدین کا دور رہا ہے اور اس پچاس سالہ دور میں ان کا آفتاب اپنی پوری تمازت کے ساتھ چمکتا رہا ، اس کے بعد سے ہی اس کے ناقابل اور رذیل بیٹوں نے تخت اور اقتدار کی خاطر کتوں کی طرح ایک دوسرے کو پھاڑ کھانے کے انداز اپنائے اور جن دو بادشاہوں پر ہم آگئے ہیں وہ محمد شاہ اور فتح شاہ ہیں ، ان کی کہانی اس کے سوا کچھ نہیں کہ پورے سنتالیس سال یہ دونوں ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور تخت پر بیٹھنے کی تگ و دو میں سب کچھ ہار بیٹھے ، نہ ملا خدا اور نہ وصال صنم ،ان کا کوئی کارنامہ نہ تو قابل فخر ہے اور نہ میں اس سے قلمبند کرنا چاہوں گا اس کی وجوہات آپ اسی قسط سے سمجھ لیں گے بس اتنا عرض ہے کہ اس زمانے میں تین خاندان بڑے اور جنگجو رہے ہیں یہ تینوں دل بدلیاں کرتے رہے ہیں اور پوری نصف صدی تک کسی بادشاہ کو چین نہیں لینے دیا ہے اور نہ خود ان تینوں میں سے کوئی چین کی سانس لے پایا ہے ، ان دو بادشاہوں کا جو آپس میں بہت ہی قریبی رشتے دار اور ایک ہی خاندان کے افرادتھے ، نے اپنی خود غرضیوں اور تنگ نظری کے باعث اس مستحکم سلطنت کو دیمک کی طرح چاٹ لیا جو بڈ شاہ نے اپنے پچاس سالہ حکمرانی میں ایک مثال بنا دی تھی ، اور سچ یہی ہے کہ ہندو راجگاں میں سوائے ایک دو راجوں کے دور میں بھی کشمیری عوام کو اس طرح کی انصاف پر مبنی حکومت میسر نہیں رہی تھی اور نہ بڈشاہ کے بعد اس کا کوئی تصور باقی رہا ، سلطان محمد شاہ، سلطان فتح شاہ ۔ بار اول تخت پر ۱۴۸۷؁ءتا ۱۴۹۰ ؁ء ۲سال ۷ماہ ۱۴۹۰؁ء تا۹۳ ۱۴؁ء ۲سال ۱۱ما ۹۳ ؁ء تا ۱۵۰۱؁ء دوسری بار تخت نشین ہوا .۱۵۰۱؁ء تا ۱۵۱۴؁ء ۱۲سال ۸ماہ تیسری ۱۵۱۴؁ء صر ف پانچ مہینے کے بعدتخت سے محروم ۔تیسری بار ۱۵۱۴؁ء تا ۳۱۵۱۷سال ۴ماہ چوتھی مرتبہ ۱۵۱۷ ؁ءتا ۱۵۲۷ ؁ء ۱۰سال ۸ ماہ ،، پانچویں مرتبہ ۱۵۲۹ تا ۱۵۳۷ ۷سال ۹ماہ ۱۰ روز کل ملاکر وقفے وقفے سے ۳۰ سال ۴مہینے تک محمد شاہ بادشاہ رہا اور اس کے مقابلے میں فتح شاہ ۱۷ سال تک وقفوں سے تخت پر بیٹھا رہا ظاہر ہے کہ یہ ساری نصف صدی دو اشخاص کی آپسی دشمنی اور اقتدار کی رسہ کشی میں گذر گئی ہوگی آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ جب بھی ان میں سے کوئی تخت نشین رہا وہ کٹھ پتلی سے زیادہ کی حیثیت کا نہیں رہا ہوگا کیونکہ جنگیں لڑنا اور بادشاہوں کو تخت نشین کرنا اور اتارنا محظ تین بڑے خاندانوں کا کھیل رہا ہے جس میں سادات ، ماگرے اور چک خاندان پیش پیش تھے ، میں سوچتا ہوں کہ اگر یہ دونوں کزن آپسمیں اتحاد اور اتفاق کر چکے ہوتے اور وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر سلطنت کشمیر دو حصوں میں بانٹ کر بھی بادشاہی کر چکے ہوتے تو کسی بھی خاندان اور غرض پرست کوکہیں بھی اپنے مفادات اور ہوس پرستانہ مقاصد میں کامیابی کبھی نہ ملی ہوتی اور نہ سلطنت بڈشاہ تنکوں میں بکھرکر رہ گئی ہوتی ۔ لیکن میرے اور آپ کے سوچنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ، میں نے ان سنتالیس برس کے واقعات کو بالکل ہی حذف کردیا ہے کیونکہ یہ ہماری تاریخوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں اور مجھے ان واقعات اور حادثات میں شاہمیری خاندان کے ان وارثوں کی کم ظرفی اور کوتاہ نظری کے بغیر کچھ نظر نہیں آتا ، بلکہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ نصف النہار اور پوری تمازت کے بعد شاہمیری سورج غروب ہونے کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے تھا اور سلطنت بھی اتنی مستحکم تھی کہ سورج کو بھی دیڑھ سو برس کا انتظار کرنا پڑا ، سو کوئی قابل قدر کارنامہ اس کے بغیر نہیں کہ فتح شاہ اور محمد شاہ ایک لمبے عرصے تک ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہے اور کبھی ان دونوں خود سروں اور سر پھروںکے دماغ میں مفاہمت اور اتحاد کی بات نہیں گھسی یا گھسنے نہیں دی گئی ، جیسا کہ میں نے پہلے ہی لکھا ہے کہ تین خاندانوں کی ا س لڑائی میں اور ہماری تاریخ میں کچھ نام بار بار ان بادشاہوں کے نظر آتے ہیں جن میں ایک کاجی چک ، دوسرا علی رینہ اور تیسرا سکندر شاہ ہے یہ اپنے اپنے خاندانوں کے سردار اور سپاہ سالار سمجھے جاسکتے ہیں ، اور یہ لوگ بھی دل بدلو میں بڑی مہارت سے کام لیتے رہے ہیں ، یہ کاجی چک سلطان محمد شاہ کے ہراول دستے میں تھا اوپر دئے گئے اعداد و شمار میں بیچ میں کاجی چک نے محمد شاہ کو معزول کردیا اور اپنے بہنوئی کے بیٹے ابراہیم شاہ کو تخت پر بٹھایا اور خود مدارا لمہام بن کر ملکی امورات دیکھنے لگا یہی دور ہے جب پہلی بار ان دشمنان دین و ملک نے مشورہ کرکے ابدال ملک کو بادشاہ ہندوستان بابر کے دربار میں بھیج دیا اور انہیں کشمیر پر لشکر کشی کی دعوت دی ، بابر۔ ابدال کے ساتھ بڑی مہر بانی سے پیش آیا اور ابدال کے ہمراہ شیخ علی بیگ اور محمد خان کو بیس ہزار سپاہی ہمراہ کرکے ملک کشمیر کی طرف روانہ کیا ، ادھر سے کاجی چک اپنی فوجیں لے کر آگے بڑھا اور بمقام تانگل پرگنہ تانگل میں میدان کارزار گرم کیا ، ملک تازی ہراول دستے کا سالار تھا، اس معرکے میں کشمیری افواج نے شکست کھائی ،لیکن اس جنگ کی اس لئے بڑی اہمیت ہے کہ شکست کے باوجود جو جواں مردی کشمیری قوم نے دکھادی اس کے اثرات مغل سلطنت پر منقش ہوچکے تھے تاہم جیت کے بعد میدان جنگ میں کسی مغل سپاہی جس کے دل میں کاجی چک سے لڑنے کی تمنا تھی نے بلند آوازمیں کاجی چک کجااست ،کا نعرہ بلند کیا ، کاجی چک شکست کے باوجود میدان جنگ میں اس سپاہی کے مقابل کھڑا ہوا اور دوسرے ہی وار میں اس کے سینے سے اپنا نیزہ آرپار کردیا ، دولت چک نے اپنی بہادری سے مغل لشکر پر دھاک بٹھا دی ، سید ابراہیم خان نے بھی خوب داد شجاعت دے کر نام کمایا اس جنگ میں کشمیر کے کئی سالار مسیحی چک ، سرہنگ چک ، تازی چک ، سیہہ چک مارے گئے اور بہت سارے دوسرے نامور جنگجو قید ہوئے ،بابر شاہی فوج نے اس بار بہتر یہی سمجھا کہ صلح کی جائے ، اس بار ملک کشمیر کو چار حصو ں میں تقسیم کیا گیا اور ملک ابدال ، لوہر ماگرے ، ریگی چک اور علی رینہ نے اپنی اپنی جاگیروں میں حکمرانی شروع کی ، ساتھ ہی ان لوگوں نے محمد شاہ کو بھی کوہستان سے بلوا کر برائے نام تخت پر بٹھایا ، سلطان ابراہیم شاہ نے کل ملاکر لگ بھگ دو برس حکومت کی ،،سلطان محمد شاہ پانچویں بار تخت پر بیٹھا اور اب کی بار وہ اصل میں ماگرے خاندان کا کٹھ پتلی تھا ،۱۵۲۹ ؁ء میں یہ تخت نشینی ہوئی ، تھوڈی سی رقم بادشاہ کے اخراجات کے لئے مشخص ہوئی اور باقی ساری رقم امرا وزرا آپس میں بانٹ کھاتے تھے بدنظمی اور بد عملی کو پہلے ہی سے فروغ ہوچکا تھا اور اب حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہونے لگے ، ، اسی دوران نصیر الدین محمد ہمایوں کے بھائی مرزا کامران نے بھائی سے اجازت لے کر کشمیر کی طرف لشکر کشی کی اجازت حاصل کی اور ۱۵۳۱ ؁ء میں تیس ہزار سپاہ لے کر خود نوشہرہ میں رک گیا اور مجرم بیگ ،اور شیخ علی بیگ کی قیادت میں لشکر کشمیر کی طرف روانہ کئے ،جنہوں نے پہلی ہی یلغار میں اتھ واجن متصل سرینگر قیام کیا ،اب کشمیری غرض پرستوں کی آنکھیں کھلیں اور اس بات کا احساس ہوا کہ آپسی خانہ جنگیوں کے نتیجے میں ملک غیروں کے ہاتھوں میں جارہا ہے اس لئے سارے سرداران کشمیر اپنی اپنی افواج لے کر قلعہ چاودورہ میں مقیم ہوئے ، کاجی چک بھی گکھروں کے پہاڈوں سے اپنے بیٹوں اور افواج کے ساتھ کشمیری فوج سے آکر ملا ،مجرم بیگ یعنی مغلوں اور کشمیری افواج کا آمنا سامنا اتھ واجن میں ایک اونچے مقام پر ہوا ، زبردست جنگ ہوئی ،جس میں مغلوں کی افواج کو پیچھے ہٹنا پڑا ، اور دوسری طرف کشمیری لشکر کوہ سلیمان سے اتر کر گپکار میں فرد کش ہوا ، کچھ دنوں تک مغل اور کشمیری افواج میں شدید جھڑپیں ہوتی رہیں ، لیکن مجرم بیگ نے اپنی فتح کو مشکل سمجھ کر صلح کا دامن تھاما اور ادھر کشمیری امرا اور کماندار بھی اپنی کمزوریوں کو سمجھ رہے تھے اس لئے فوراً ہی صلح نامے پر دستخط ہوئے ، امرا کشمیر نے مجرم بیگ کو خانقاہ معلیٰ کے گھاٹ پر کشتیوں میں جمع ہوکر گفتگو کی اور آخر میں مرزا کامران کے لئے عجیب و غریب تحایف دئے اور اسطرح سے دوسرے روز یہ فوج بارہمولہ کے راستے سے رخصت ہوئی اس واقع کے بعد محمد شاہ اور ابراہیم خان کی جاگیروں کو الگ کرنے کے بعد ملک کشمیر کے پانچ حصے کئے گئے ، کاجی چک، ابدال ماگرے ،لوہرماگرے ریگی اور علی رینہ پانچوں کو بالترتیب زینہ پورشہر اور کچھہامہ، بانگل،کامراج ،اولر ، اور موضع ترش کا حصہ تفویض ہوا جہاں ان لوگوں نے اپنے اپنے حصے میں ایک سال تک بغیر کسی جنگ و جدل کے حکمرانی کی ،ظاہر ہے کہ ان لوگوں کا کوئی ایسا کارنامہ ہو ہی نہیں سکتا جو عوام کی آسانی اور بہبود کے لئے کیا گیا ہو ، یہ لوگ ہوس حکمرانی میں سب کچھ بیچ کھانے والے لوگ ہی رہے ہوں گے اور ان کی بصیرت اور بصارت بھی شاہانہ نہیں رہی ہوگی ، بس خود بادشاہوں کی طرح اٹھتے بیٹھتے اور کھاتے پیتے رہے ہوں گے ، اس ایک سال کے بعد ۹۳۹ ھ (۱۵۳۲)؁ء میں والی ء کاشغر سلطان سعید خان نے ایک بڑی بھاری فوج کے ہمراہ کشمیر پر ہلہ بولا ، خود تو تبت میں مقیم رہا لیکن اپنے بیٹے سکندر خان کو اپنے بھتیجے مرزا حیدر کی سر کردگی میں چودہ ہزار پیادوں اور سات ہزار گھوڑوں کے ساتھ کشمیر روانہ کیا ( حیدر ملک نے ستائس ہزاگھوڑے لکھا ہے ) جب یہ فوج لار کے راستہ سے کشمیر میں داخل ہوئی تو کچھ اہل شہر کاشغریوں کے خوف سے وطن چھوڑ گئے ، بہت سے علماء فضلا اور اکابرین اولر کے درمیان واقع جزیرے میں چھپ گئے یہ زینہ لانک کی بات ہے شاید کیونکہ اور کوئی جزیرہ اولر میں نہیں ، مرزا حیدر نے نوشہرہ میں قیام کرکے کامراج یعنی شمالی کشمیر کی طرف سے حملہ کیا ، جس طرف بھی گیا لوٹ مار اور قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا ، عورتوں اور بچوں کو قید کیا ، پورے چھ مہینے یہاں اس دہشت کا ماحول بھی قائم رہا اور بچے کھچے لوگ جنگلوں بیانوں میں کھلے آسمان کے نیچے اپنی راتیں ڈر اور خوف میں گذارنے پر مجبور تھے ، ،یہ پورے چھ مہینے خزاں سے سرما تک کا سفر تھا اور ان دنوں اور مہینوں کی برفباری اور زمستانی ہواؤں کا اندازہ صرف کشمیری عوام ہی کو ہوسکتا ہے ، موسم بہار کی شروعات میں امرائے کشمیر نے جنگ کے لئے اپنی صفیں درست کرنا شروع کیں ،،،،