مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۴۰)
مرزا حیدر اور دایم بیگ کاشغری سپاہ سالاروں اور افواج کے ساتھ کشمیری افواج نے چھاپہ مار جنگ شروع کی اور بہت سارے شبخون مارنے کے بعد کاشغری سپاہ کو تردد ہوا اور صلح کی کوششیں شروع ہوئیں ، مرزاحیدر چونکہ کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم رول ادا کر چکے ہیں اس لئے اس کا تھوڑا سا بیک گراونڈ دینا بھی مناسب ہی رہے گا ،( مرزا حیدردوغلت ۱۵۰۰ ء میں صوبہ شاش کے صدر مقام تاشقند میں پیدا ہوا ،جہاں اس کا باپ حکمران تھا ، چغتائی قبیلے سے تھا اور بابر کی ماں اور اس کی ماں بہنیں تھیں ،،مرزا حیدر کے باپ کو ایک ازبک سردار نے قتل کروایا اور حیدر کو کچھ رشتے دار بخارا اور پھر بدخشاں لے گئے ۔ایک سال کے بعد کابل آیا جہاں وہ بابر کے ساتھ رہا بعد ازاں اس کے چچا مغلستان کے خان سلطان احمد نے اپنے پاس بلایا،سلطان احمد کا انتقال ہوا تو مرزا حیدر نے خان کے بیٹے سلطان سعید کی ملازمت کی جہاں وہ دس سال رہا ،اور تمام معرکوں میں سلطان سعید کے ساتھ شامل رہا ،، مرزا حیدر لداخ کی فتح کے لئے نکلا ، لیہہ پر قابض ہوا لیکن شدید سردی کی وجہ سے سیدھا کشمیر میں پناہ لینے کے لئے مجبور ہوا ، اس طرح پہلی بار مرزا حیدر خطہ کشمیر کی خوبصورتی اور دلکشی سے متاثر ہوا) ، مرزا حیدرنے محمد شاہ کی بیٹی کو عقد میں لیا اور اپنے سلطان سعید خان کے لئے بہت سارے تحائف کے ساتھ لار کے راستے سے کاشغر کا سفر شروع کیا ،کشمیر کے جاگیر دار پھر ایک بار حکمرانی اور تخت پانے میں کامیاب ہوئے چونکہ لوگ ایک مدت سے زمینوںکو کاشت نہیں کر سکے تھے اس لئے قحط عظیم آپڑا اور اس قحط کی نوعیت اسقدر شدید تھی کہ تاریخ حسن میں درج ہے کہ والدین نے اپنے بیٹوں کا گوشت کھاکر اپنے آپ کو زندہ رکھا ،( یہ بات دوسری تاریخوں میں نہیں لیکن قحط عظیم کا تذکرہ ضرور ہے ) یہ قحط ۹۴۱ھ میں پڑا (۱۵۳۵؁ئ)اس کے بعد دوسال تک زندگی اسی پرانے ڈھرے پر چلتی رہی سلطان محمد شاہ ۱۵۳۷؁ء میں اس دار فانی سے رخصت ہوا اور اس سلطان نے کل ملاکر وقفوں سے ۱۹ سال ۲ماہ تک حکمرانی کی،۱۵۳۷؁ءمیں محمد شاہ کا بیٹا شمس الدین تخت نشین ہوا ۔لیکن اصل حکمرانی قاضی چک کے ہاتھوں میں رہی جو شمس الدین کا ماموں بھی تھا ،یہ سلطان بھی وظیفہ خوار سلطان ہی تھا، جس سے آج کل ربر کی مہر کہا جاتا ہے ،آخر لگ بھگ ایک سال کی نام نہاد بادشاہت کے بعد یہ سلطان اپنے آخری سفر پر روانہ ہوا ،، ۱۵۳۸ ؁ء میں کاجی چک نے اپنے داماد اسماعیل شاہ کو تخت پر بٹھایا ،کاجی چک کے بارے میں یہ پہلے ہی کہا جاچکا ہے کہ خود سر ، چالباز ،اور نخوت پسند تھا ،اس لئے اپنے اس برتاؤ سے امرا کو ناراض کردیا جنہوں نے ملک ابدال کے کیمپ میں پناہ لی۔ جب کاجی چک کو احساس ہوا کہ اب اس کی خیر نہیں تو کوہستان کی طرف بھاگا ،اور موسم بہار میں گکھڑقوم کی معاونت سے پھر ایک بار کشمیر پر چڑھ دوڈا، ماگریاں قلعہ سوپور میں جمع ہوئے ،،( سوپور میں یہ قلعہ کہاں تھا جس کا تذکرہ کئی بار تاریخوں میں آیا ہے ابھی تک ایک سربستہ راز ہے )اور کاجی چک موضع گیو میں فردکش ہوا ، اس لڑائی میں بھی کچھ قبیلے ادھر اُدھر ہوکر لڑے لیکن میدان کاجی چک کے ہاتھ رہا اور آخر وہ سوپور کی طرف آیا ،یہاں بھی اس سے فتح نصیب ہوئی اور سرینگر کی طرف فاتح بن کر کوچ کیا ،،اس بار ملک کی تقسیم تین حصوں میں ہوئی ایک حصہ سلطان اسماعیل شاہ، دوسرا کاجی چک اور تیسرا سید ابراہیم خان کے حصے میں آیا،چونکہ یہ خاندان شمس عراقی کی وجہ سے اہل تشیع ہوچکا تھا اس لئے کاجی چک نے اپنے اس دور میں بہت سارے ہندوؤں اور اہل سنت مسلموں کو شیعہ مسلک میں داخل کرنے میں کافی دباؤ کا استعمال کیا،، میر شمس عراقی نے احوط نامی ایک کتاب تصنیف کی تھی جس سے کاجی چک نے دستورا لعمل بناکر تمام ملک میں شائع کرادیا ،، سلطان اسماعیل ڈیڑھ سال کی حکمرانی کے بعد ۱۵۳۹؁ء میں فوت ہوا ،۱۵۴۰؁ء میں ا سماعیل شاہ کے فرزند ابراہیم شاہ کی تخت نشینی ہوئی لیکن کاجی چک بدستور مالک سلطنت و مختار رہا ، ، ملک ابدال اور ریگی ماگرے جنہوں نے کاجی چک سے شکست کھائی تھی مرزا حیدر اور حاجی بانڈے کی وساطت سے بادشاہ ہمایوں کے دربار لاہور پہنچے ، اور کاجی چک کے مظالم کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ ان کے سامنے کتاب (احوط ) کا ایک نسخہ بھی دیا ، ہمایوں چونکہ خود ابھی اپنی سلطنت مستحکم کر رہا تھا اس لئے مشیروں نے اس سے فوج کشی سے باز رکھا لیکن مرزا حیدر ہمایوں سے اجازت لے کر ابدال ماگرے وغیرہ کے ساتھ بجانب کشمیر روانہ ہوا ،کاجی چک نے راستوں میں مورچے سنبھالے لیکن چیرہ ہار کا راستہ کھلا چھوڈا اور مرزا حیدر اسی راستے سے ۲۰ ماہ رجب ۹۴۷ھ کو وارد کشمیر ہوا ، اسی دوران سلطان ابراہیم کا اچانک انتقال ہوا ، کاجی چک مایوس ہوا ،اور براستہ ہیرہ پور پنجاب شیر شاہ سوری سے امداد کا طالب ہوا ۔مرزا حیدر اس مرتبہ جاہ جمال کے ساتھ شہر سرینگر داخل ہوا اور اس مرتبہ امرائے کشمیر سے شفقت کے ساتھ پیش آیا ، اس نے بھی ملک کے تین حصے کئے ،ایک اپنے پاس ، دوسرا ملک ابدال اور تیسرا حصہ ملک ریگی چک کو دیا ، کچھ مدت کے بعد ہی ابدال ماگرے انتقال کر گیا اور مرزا حیدر نے اس کے بیٹے حسین ماگرے کو باپ کی جاگیر عطا کی۔ مرزا حیدر نے اقتدار میں آنے کے بعد مرحوم فتح شاہ کے بیٹے نازک شاہ کے سر پر تاج سلطنت رکھا اورخود منصب مدرالمہام پر براجمان ہوا ۔اس بار حیدر شاہ نے اپنے آپ کو کافی بدل دیا اور وزراء کے ساتھ نہایت اچھے تعلقات بنائے رکھے ، اور سلطنت کے امور دیکھنے لگا ۔اہل ہنود اور مسلم رعایا کے ساتھ بھی اچھا سلوک روا رکھا ،اس طرح یہ سب اسکی حکمرانی پر مطمین رہے ،کاجی چک شیر شاہ سوری سے امداد کا طالب ہوا ،اپنی ہمشیرہ کو شیر شاہ کے عقد میں دیا ،اپنی بہادری کا سکہ بٹھانے میں بھی کامیاب ہوا ،اور شیر شاہ نے اس سے خان خانان کا خطاب عطا کرکے حسین خان شیر وانی اور عادل خان کو پانچ ہزار کا لشکر دے کر کشمیر کی طرف روانہ کیا اور وارد کشمیر ہوتے ہی کشمیر میں غارتگری مچانے لگا ،۔مرزا حیدر ریگی چک ، عیدی رینہ اور حسین ماگرے کے ساتھ بمقام دتہ نار مقابل ہوا ، اور یہ لڑائی ایک مہینے تک جاری رہی ، جس میں آخر تمام کوششوں کے باوجود کاجی چک کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ دولت خان ،سید ابراہیم خان سمیت چیرہ ہار پونچھ بھاگ گیا ، مرزا حیدر فاتح ہوا ، تاریخ ملا میں یوسف خطیب نے فتح ۹۴۶ھ مکرر کہی ،، ریگی چک اپنی سلطنت کامراج آیا، کچھ عرصہ بعد ہی ریگی چک کی نگاہیں بدل گئیں جس کے نتیجے میں مرزا حیدر ۹۵۰ھ کو حاجی پانڈے ، حسین ماگرے اور حیدر رینہ کے ساتھ ریگی چک پر چڑھ دوڈا ، ، ریگی چک گھبرا کر کرناہ کے راستے کاجی چک کے پاس کوہستان پہنچا مرزا حیدر نے اس کے تمام مال و دولت کو آگ لگادی لیکن دوسرے ہی سال ۹۵۱ھ ( ۱۵۴۴ ؁ء کو وہ پھر کاجی چک کے ہمراہ گلمرگ پہنچا ، ، مرزا حیدر ان دنوں کامراج میں براجمان تھا ، خبر سنتے ہی لشکر لے کر مقابلے میں آیا ، اس بار بھی کاجی چک شکست کھا گیا ،تھنہ بھاگ گیا ، اور یہیں پر کسی بیماری سے انتقال کر گیا ، تاریخ وفات ۹۵۱ھ ہے ، کاجی چک کی وفات کے ساتھ ہی کشمیر میں فتنہ وفساد اور خون ریزی میں زبردست کمی توآگئی لیکن کاجی چک کی وجہ سے شیعہ آبادی میں کافی اضافہ ہوچکا تھا اور بد قسمتی سے اب مذہبی خانہ جنگی نے زور پکڑا ، جب حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو مرزا حیدر اس نتیجے پر پہنچا کہ یہاں پہلے اس طرح کی منافرت تو تھی نہیں در اصل اس نفرت اور خانہ جنگی کی وجہ اہل تشیع ہیں ، اس بات نے جب اس کے دل میں گھر کرلیا تو اس کی توجہ تعمیر و ترقی سے ہٹ کر اس فتنے کا قلع قمع کرنے پر مرکوز ہوئی ، جس کے نتیجے میں اہل تشیع کے مال وجان کو کافی نقصان پہنچنے لگا ، یہاں تک کہ جڈی بل سرینگر میں شمس الدین عراقی کی خانقاہ بھی جلائی گئی ، چونکہ چک خاندان کے بہت سارے رئیس شیعہ مسلک قبول کر چکے تھے وہ سب مرزا حیدر کے مخالف ہوئے ، ، بابا علی نجار کے مرید شنگلی رشی کو قتل کیا گیا ، قاضی میر علی کو جلائے وطن کیا گیا غرض میر عراقی کے سینکڑوں مرید اور معتقد ین ا س ہنگامے میں مارے گئے ، سنی لوگ بھی ان ہنگاموں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ،ملک عیدی رینہ اور ملک تاجی رینہ جن کا بہت اثر تھا شیعہ ہوچکے تھے انہوں نے بھی مرزا حیدر کے خلاف مورچہ سنبھالا ، کیونکہ مرزا حیدر سنی لوگوں کی حمایت کے حق میں تھا جس کی وجہ سے شیعہ لوگ ان فسادات میں زیادہ نشانہ بن رہے تھے اس دوران یہ اہم واقع بھی ہوا کہ میر شمس عراقی کے بیٹے وانیال کو اسکردو سے یہاں لایا گیا ،ایک سال تک قید کیا گیا اور اس کے بعد قاضی ابراہیم اور قاضی عبدالغفور کے فتوے پر پھانسی دی گئی ، اس واقعہ کے بعد مرزا کے خلاف سازشوں میں تیزی آگئی جنہیں حیدر نہیں سمجھ پائے ، اور اپنے ان سازشیوں نے ہی انہیں ایک ایک ایسی مہم پر آمادہ کیا جہاں ان لوگوں نے پہلے ہی سے اپنا جال بن کے رکھ دیاتھا اس مہم کے دوران مرزا کی افواج جس میں کشمیری افواج کا حصہ بھی تھا پہلے ہی ایک منصوبے کے تحت الگ ہوگئے اور مغل افواج ایک تنگ درے میں محصور ہوکر رہ گئی اور خود کشمیری اور آس پاس کے تمام علاقہ جات سے کمک منگا کر مغلوں پر حملہ آور ہوئے ،کئی اور اطراف سے بھی مرزا کے خلاف شورشیں اور بغاوتیں ہونے لگیں ، اور مرزا کے خلاف چک خاندان کے امیر و جنگجو ہراول دستے میں تھے ، ایک تو یہ اہل تشیعہ تھے دوسرے یہ لوگ دہائیوں سے اقتدار میں یا اقتدار کے شریک رہے تھے ، امرائے کشمیر قلعہ خا م پور میں عیدی رینہ کی سربراہی میں مقیم تھے اور مرزا حیدر بہ نفس نفیس موضع واہتورہ میں فرد کش ہوئے ، مرزا حیدر کی افواج تعداد میں بہت کم تھی اس لئے اس نے رات کے وقت شبخون مارنے کا فیصلہ کیا ، کئی سرداروں نے اس سے اس فیصلے سے باز رہنے کا مشورہ دیا لیکن وہ نہیں مانا ، اور اپنے بھائی عبدالرحمان کو اپنا وارث نامزد کرکے آٹھ سو سواروں کے ساتھ دشمن پر حملہ آور ہو ، قلعہ کے نیچے پہنچ کر ان سواروں کو بھی پیچھے چھوڈا اور صرف تیس سواروں کے ساتھ قلعے کی پشت سے حملہ کیا ، لیکن اس کے زیادہ تر ساتھی مارے گئے اور آخر میں اس کے ساتھ صرف سات آدمی رہ گئے کہ یکایک مرزا کو ایک تیر آلگا ،اس بارے میں کئی اور روایتیںبھی ہیں ، ایک یہ بھی کسی کمال دھوبی نے اس سے قتل کیا ، دوسری یہ ایک قصاب نے تیر چلایا ، یا کلہاڈی سے قتل کیا لیکن اصل یہی لگتا ہے کہ جب وہ حملے کی رہنمائی کر رہا تھا تو شاہ نظر کا تیر اس سے اتفاقاً لگ گیا ، ، صبح کے وقت اس کی لاش چکوں کو ملی اور اس کی بے حرمتی کرنا چاہی تو حسین ماگرے اور سید محمد بیہقی نے انہیں روکا اور لاش کو سلطان زین العابدین کی قبر کے قریب ہی دفنادیا ،مرزا حیدر کی موت کے بعد مغل اندر کوٹ بھاگ گئے، یہاں کشمیریوں نے ان کا معاصرہ کیا ،تین دن کی جنگ کے بعد مرزا حیدر کی بیوہ نے صلح کی پیشکش کی ۔اس میں کشمیریوں نے یہ ضمانت دی کہ مرزا کے خاندان اور ساتھیوںکوتنگ نہیں کیا جائے گا اور اس کے بعد یہ سارا خاندان اندر کوٹ سے سرینگر اور اس کے بعد ان کو پکھلی اور کابل کے راستہ سے کاشغر روانہ کیا لیکن کچھ لداخ کے راستے سے گئے جہاں لداخیوں نے انہیں قتل کیا ۔