مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۴۱)
تاریخ کے جس موڈ پر ہم ہیں یہاں میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تھوڈی سی تفصیل کے ساتھ ان واقعات کا تذکرہ کیا جائے جن کی وجہ سے شاہمیر ی خاندان کی مستحکم سلطنت ٹکڑوں میں بٹ گئی بلکہ بہت جلد اس کا سور ج غروب ہوا ، اس کی سب سے بڑی وجہ نااہل، فہم و فراست سے عاری شہزادگان شاہمیری پر عائد ہوتی ہے اور اس کے بعد ایک دوسری وجہ شیعہ سنی فساد بھی بنا جس نے مسلمانان کشمیر کو دو حصوں میں بانٹا ، اور اسطرح تقسیم کیا کہ منافرت کی آگ ہر طرف پھیل گئی جس نے بڑی تیزی سے سارے ملک کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لیا ، یہاں بھی سلاطین بہ احسن خوبی ان فتنوں کا تدارک نہیں کر پائے اور کوئی حکمت عملی انہوں نے ایسی نہیں بنائی جو معتدلانہ ہوتی بلکہ یا تو اہل تشیع کی طرف جھکے یا سنیوں کا پلڑا بھاری رکھا اور اسطرح یہ زبردست اور انتہائی نفرت انگیز آگ جب بھڑکی تو امن و امان اور تعمیر و ترقی کو غارت کیا اور جب بجھی بھی تو اپنے پیچھے سنی شیعہ کی ایسی منافرت سے بھر پور ہوائیں پیچھے چھوڈ دیں جن کی ناخو شگوار بو ابھی تک واضح محسوس کی جارہی ہے ، اس لئے مناسب ہے کہ جس نے اس مسلک کو یہاں متعارف کرایا تھا اس کے بارے میں اور پھر ان حادثات اور واقعات کا مختصر تذکرہ کیا جائے تاکہ پڑھنے والے کے اذہان میں کوئی زیادہ تشنگی باقی نہ رہے ، میں تاریخ بہت ہی مختصر کرکے پیش کر رہا ہوں اور ساتھ ہی اس بات کا بھی بار بار ذکر کر رہا ہوں کہ تفصیلات ہماری ساری تاریخوں میں موجود ہیں جنہیں پڑھا جاسکتا ہے ،،، فتح شاہ کے دور میں جب ملک موسی ٰرینہ کا تسلط ملک کشمیر میں تھا کئی ناخوشگوار واقعات ہوئے جن میں ایک یہ بھی تھا اور میرے خیال میں اس واقعہ نے کشمیر کی تاریخ کو نیا موڈ دیا ہے ۔وہ میر شمس عراقی کی کشمیر میں آمد تھی،اتفاق اس بات پر ہے کہ یہ شخص بادشاہ حسن شاہ کے دور میں ۸۹۲ھ (۱۴۸۷)؁ء میں والئی خراسان سلطان حسین مرزا کی طرف سے بطور سفیر کشمیر آیا ،شاہی خط کے علاوہ سلطان کے پہننے کے لئے ایک خاص پوستین سلطان حسن شاہ کے لئے تحفے کی صورت میں لایا اور اس کے ساتھ ہی والئی خراسان کے لئے کشمیر کے کچھ تحفوں کی خواہش بھی ظاہر کی ،، یہ وہی دور ہے جب حسن شاہ کثرت جماع اور شراب نوشی کے سبب کئی امراض میں مبتلا ہوچکا تھا ، پہلے پہل کچھ عرصہ صوفیوں اور شیخ اسماعیل کبروی کی ولایت کے حامل متوسلین کے لباس میں ملت اسلامیہ کے مروجین گروہ میں شامل ہوا ، اُس زمانے میں یہاں بت شکنی کا دور چل رہا تھا ، ، جناب شیخ سے خاص ارادت کا اظہار کرتے ہوئے بابا علی نجارسے قربت حاصل کی یہ صاحب حضرت بابا اسماعیل کے مریدوں میں سے تھا اور اس دور تک کشمیر کے بزرگان دین اس مسلک سے ناواقف ہی تھے ، بابا علی نجار کے بارے میںیہی معلوم ہوتا ہے کہ بڑے پائے کے بزرگ اور سیدھے سادھے صوفی منش تھے جن کے ارادت مندوں کی کافی بڑی تعداد دور و نزدیک موجو د تھی ، شمس عراقی چونکہ چرب زباں اور ایسا کہا جاتا ہے کہ کئی علوم پر دسترس رکھتے تھے جن میں کچھ ایسے علوم بھی تھے جو یہاں کے بزرگان دین کے لئے عجیب اور اجنبی تھے ، اس بنا پر شاید بابا علی نجار اور بابا اسماعیل نے انہیں اپنے ارادت مندوں سے نہ صرف ملوایا بلکہ انہیں ان کا احترام کرنے کی تلقین بھی کی ،اس کے باوجود شمس الدین عراقی کا کوئی خاص اپنا حلقہ نہ بن پایا ۔ تاریخ حسن میں ہے کہ شمس عراقی بادشاہ کے انتقال کے بعد بھی یہاں آٹھ سال تک رہا اور اس کے بعد واپس خراسان لوٹ گیا ، خراسان کے والئی حسین شاہ کو جب کچھ مدت کے بعد شمس الدین عراقی کا باطن معلوم پڑا تو اس سے اپنی ملازمت سے معزول کیا ، اور اس طرح پھر ایک بار عراقی نے کشمیر آنے کا فیصلہ کیا ،کہا جاتا ہے کہ اس بار عراقی نے اپنے کسی خاص آدمی کو پہلے کشمیر بھیج کر یہاں کے پورے حالات سے واقفیت حاصل کی ، ، بابا اسماعیل عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے تھے جہاں ملنے ملانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہتی ، اس لئے انہوں نے ارادت مندوں سے بھی ملنا بہت کم کردیا تھا ، بلکہ ترک ہی کیا تھا، شمس الدین عراقی نے ایک خط بابا علی کے نام لکھ دیا کہ میں نے ترک دنیا کے بعد حضرت سید نور بخش سے خلافت پائی ہے ، اور میں اب کشمیر آرہا ہوں ، بابا علی نے بڑے جوش و جذبے کے ساتھ شمس عراقی کا خیر مقدم کیا اور بڑے اہتمام کے ساتھ اپنی خانقاہ میں اس کے رہنے کا بندوبست کیا ، یہ قابل ذکر بات ہے کہ سید محمد نور بخش کا سلسلہ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی سے ملتا تھا جن کی وجہ سے سارا کشمیر ہی حلقہ بگوش اسلام ہوچکا تھا اور جن کے وظایف اب تک ہماری مسجدوں میںصبح گونجتے رہتے ہیں ، ، عراقی نے اپنے آپ کو ان کے ساتھ جوڈ کر جیسا کہ واقعات کشمیر خواجہ دیدہ مری کی تاریخ میں صفحہ ۱۵۹ پر درج ہے یہ فریب دیا تھا اور اسطرح انہوں نے خانقاہ کے اندر رہ کر حضرت بابا اسماعیل کے ارادت مندوں میں اپنی مظبوط پناہ گاہ اور حصار پیدا کیا اور کھلے عام اس نئے مسلک کا پر چار شروع کیا ، بابا علی کی کوششوں سے کشمیر کے اکثر امرا ء ا ن کے پاس آنے جانے لگے اور اسی دوران انہوں نے جڈیبل سرینگر میں اپنی خانقاہ بھی تعمیر کرکے اس میں سکونت اختیار کی ، عام لوگوں کا یہ طریق کار رہا ہے کہ وہ اپنے اشراف کی تقلید کرتے ہیں ، اپنے روساء کی نقل کرتے ہیں اس لئے دیکھا دیکھی جب درباری لوگ شمس عراقی کے پاس آتے جاتے دکھائی دئے تو ا ن کے نام کا ڈنکا بھی اسی زور سے بجنے لگا ، اور بہت جلد شمس الدین کا رابطہ دربار کے ساتھ ہوا ، اس دوران انہوں نے اپنی کرامات و خوارق ظاہر کرنے کے کئی وعدے بھی کئے ، کشمیر کے بارے میں اب بھی یہی حال ہے کہ ہم ایک ریوڈ کی طرح ایک مویشی کے پیچھے بنا کسی سوچ و فکر کے چلتے ہیں اس پر یہ یاد آیا کہ بیسوی صدی میں جب کہ سائنس بہت آگے بڑھ چکی تھی کشمیری عوام نے شیخ محمد عبداللہ کو بھی خاکم بدہن پیغمبری درجے پر فائظ کرکے اس کی ہر بات کو منجانب اللہ سمجھا اور اس کا نتیجہ جو بھی ہے اس سے پچھلے ستر سال سے یہ قوم بھگت رہی ہے اور شاید آگے بھی بھگتنا پڑے گا ، بابا اسماعیل کے مخلص ارادت مندوں کے ساتھ جہاں جہاں بھی شمس کی رسائی ہوئی اس نے شیعہ مسلک کے پھیلانے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ، اسی اثنا میں عراقی کو ایک زبردست کامیابی حاصل ہوئی جس نے آگے کشمیر پر اپنے گہرے نقوش ثبت کئے وہ واقعہ یہ تھا کہ کاجی چک نے شمش عراقی کے ہاں آنا جانا شروع کیا اور کاجی چک کی ہمشیرہ سلطان محمد شاہ کے نکاح میں تھی اور دوسری اہم بات یہ بھی کہ لگام حکومت کاجی چک کے پاس ہی تھی ،ان ہی دنوں کاجی چک نے شمس عراقی کے ساتھ مکمل تعاون کرکے تشیعہ مسلک اختیار کیا۔اسی اثنا میں شمس عراقی نے کسی طرح کاجی چک اور دوسرے اہم شخصیات کو اس بات پر قائل کیا کہ امیر کبیر کی خانقاہ کو منہدم کرکے نئے سرے سے تعمیر کرکے دو منزلہ بنادی جائے ، یوں تو دکھنے میں یہ بڑی خوبصورت تجویز تھی لیکن غالب خیا ل یہ ہے شمس کا پلان تھا کہ ایک بار یہ عمارت منہدم ہوجائے تو بنانے کی کبھی نوبت ہی آنے نہیں دی جائے ، شاید اس بات کے پیچھے ان کی یہ سوچ تھی کہ اس خانقاہ کے بعد ان کی اپنی خانقاہ جو ز ڈی بل میں تعمیر ہوئی تھی اسی طرح کی اہمیت کی حامل ہوکر ویسی ہی متبرک اور محترم خانقاہ کا درجہ حاصل کر پائے ، ، بادشاہ خانقاہ کو گرانے پر آمادہ ہوئے ، اور اس کے بعد ایک مدت تک خانقاہ کو نئے سرے سے تعمیر نہیں کیا جاسکا بلکہ کسی نہ کسی وجہ سے تاخیری حربے استعمال ہوتے رہے ، لیکن کسی طرح کاجی چک ہی کی بہن جو سلطان کی بیوی تھی اورجس کا نام (صالح ماجی ) صالح ماں نے اس تاخیر کو برداشت نہ کرکے ۔اپنا جہیز اور دوسری اشیاء فروخت کرکے ایک خاصی رقم جمع کی اور خانقاہ کی تعمیر شدومد سے شروع کی۔سلطان محمد کی یہ بہن حضرت امیر کے ارادت مندوں میں بھی تھی ، ، تاریخ دیدہ مری میں ہے کہ اس زمانے کے مروجہ سکوں میں اس تعمیر پر تین ہزار اور ساٹھ ہزار تنکے خرچ ہوئے ، اور اس سارے پیسے سے زبردست ، خوبصورت اور نہایت ہی دلکش تعمیر کھڑی ہوئی ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صالح ماجی نے خانقاہ کے تیار ہونے پر ایک ہزار دوسو زینہ گیری پٹو ،، کے کرتے معماروں اور کاریگروں میں اور پانچ ہزار ’’کلہ پوش ‘‘مزدوروں میں تقسیم کئے (میرے خیال میں کلہ پوش اس اونی ٹوپی کو کہتے ہیں جو برفباری اور سرما میں اکثر کشمیری لوگ سر پر پہنتے ہیں ) اس روز شہر کے دس ہزار لوگوں نے یہاں کھانا تناول کیا ، محمد شاہ کی مہر کے ساتھ وقف نامہ تیار کیا گیا اور خانقاہ کی تولیت سید محمد سید علی کے سپرد ہوئی جو سادات میں سے تھے ، ،،، اس کے بعد چاوڈورہ کے ملک خاندان میں سے دادا موسیٰ شمس عراقی کا مرید ہوا ، چونکہ یہ بھی بہت ہی اثر و رسوخ اور صاحب ثروت تھا اس لئے اس کی وجہ سے شیعہ مسلک کی ترویج کچھ اور تیز ہوئی، اسی دوران شمس الدین نے شعیہ مذہب سے متعلق ایک کتاب بھی تصنیف کی جس کا نام (احوط )تھا اور اس کی تشہیر کا بھی انتظام کیا ، ،بابا علی نے حسن آباد میں اس مسلک کے پھیلانے میں بڑی سرگرمی دکھائی ، اور اس کے بعد اپنے وقت کے معروف اشخاص بابا خلیل ، بابا طالب اور شیخ حسن زڈیبلی نے ان کی تائید کی اور اس طرح یہ مسلک شہر میں تیزی سے پھیلتا گیا ،، ہماری تاریخ پر اس مسلک کے پھیلنے سے جو گہرے نقوش مرتب ہوئے آگے ان کا جائزہ لیاجائے گا۔