مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

پچھلی قسطوں سے آپ جان گئے ہوں گے کہ سہ ہدیو کے عہد میں تین خاندان کسمپرسی اور مفلسی میں وارد کشمیر ہوئے تھے ، ایک رینچن دوسرا شاہمیری اور تیسرا چک خاندان ،، رینچن بادشاہ ہوا اور یہی پہلا بادشاہ بھی ہے جس نے حضرت بلبل شاہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور مسلمان ہوا ، یہ اپنی جگہ پر ایک اور عظیم انقلاب تھا ، دوسرا شاہمیری خاندان تو شاہ میر کے جنم پر ہی اس کے دادا قور شاہ نے بچے کو گود میں لیتے ہی پیشگوئی کی تھی کہ یہ بچہ کشمیر کا بادشاہ ہوگا ، اور ایسا ہی ہوا اور اس خاندان نے ملک کشمیر پر لگ بھگ ڈھائی سو برس حکومت کی جن میں کئی بادشاہ زبردست تھے لیکن زین العابدین کی خاک پا کے برابر ان میں کوئی سلطان نہیں ہوا جس نے پچاس برس کی حکمرانی کے بعد ایک مستحکم اور مظبوط سلطنت اپنے پیچھے چھو\ڑی تھی ، جس کے وارث تین ناہنجار اور کمینہ فطرت اس کے بیٹے تھے ، بڈشاہ کو حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی نے اپنی کلاہ شریف تحفے میں دی تھی جس سے فتح شاہ تک سارے شاہمیری بادشاہ اپنے تاج کے نیچے پہنتے رہے، لیکن فتح شاہ یہ کلاہ شریف اپنی قبر میں ساتھ لے گیا، اور تبھی کسی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ اب شاہمیری خاندان کے کفن دفن کا بھی وقت قریب ہے اور ایسا ہی ہوا کہ اس خاندان کے آخری بادشاہ کو علی خان چک نے بھرے دربار میں رسوا کیا ، حبیب شاہ کے سر سے تاج اتار کر غازی چک کے سر پر رکھا ، اور اس طرح چکوں کا دور شروع ہوا ، جو بہت زیادہ عرصے قائم نہیں رہ سکا ، تو اس طرح غازی چک اس خاندان کا پہلا بادشاہ گذرا ہے ، غازی خان ولد کاجی خان ۹۶۲ھ(۱۵۵۴)؁ء میں اسی دن اور اسی پہر سے تخت نشین ہوا جب ایک سر سے تاج بغیر کسی جنگ و جدل کے حبیب شاہ کے سر سے غازی چک کے سر پر منتقل ہوا تھا اس سے اندازہی کیا جاسکتا ہے کہ اس دور کے آتے آتے چکوں نے کتنی قوت اور کتنا غلبہ حاصل کیا تھا کہ اس اتنے بڑے معاملے پر سارے دربار میں ایک آواز بھی اس بادشاہ کے حق میں نہیں اٹھی جس کے خاندان نے بڈ شاہ کو پیدا کیا ،،اور جنہوں نے کم وبیش ڈھائی صدیوں تک بادشاہت کی تھی ،، اور ملک کشمیر کے وقار اور عزت کو اتنی بلندی بخشی کہ بڑے بڑے شہنشاہ اور بادشاہ سلطان زین العابدین کے ساتھ رشتوں اور دوستی پر فخر کیا کرتے تھے ، لیکن یہ بھی کوئی انہونی بات نہیں کیونکہ تاریخ قدم قدم پر ہمیں اپنے حادثات زمانہ سے متحیر کر کے رکھ دیتی ہے ، اب اگلا پڑاؤ جو ہے وہ چکوں کا زمانہ اور عہد ہے لیکن میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس بات کا بھی ایک سرسری جائزہ لیا جائے کہ اس دوران جب شاہمیری یہاں گرتے پڑتے سنبھلتے کم و بیش ڈھائی صدیوں تک باد شاہت کر ہی چکے ہیں تو باہر ہندوستاں میں جہاں یہی دورِ مسلم رہا ہے ۔کیا ہورہا تھا ،،اور یہ کہ کتنے بادشاہ وارث تخت ہوئے اور کتنے بادشاہوں کو تختہ دار حاصل ہوا ، شاہ میر نے ملک کشمیر کی بادشاہت ۱۳۴۷؁ء میں حاصل کی اور ان کی اولادیں ۱۵۸۶ ؁ء تک کشمیر پر راج کرتی رہیں ، جن میں کچھ آخری سال یہ بادشاہ برائے نام تھے بلکہ دوسروں کے وظیفہ خوار ہی تھے ، بالکل یہی بات مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کی بھی تھی ، جو بہت اچھے شاعر بھی تھے ،، لیکن سلطنتوں میں چنگ ورباب پہلے ہونا نہیں چاہئے بلکہ زمانے کی رو یہی کہہ رہی ہے کہ شمیر وسناں ہی بادشاہ کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے اور جنہوں نے بھی بڑی بڑی حکومتیں قائم کی ہیں وہ اسی اصول پر چلتے رہے ہیں اور وہ اقوام جن کے قدم صحراؤں اور خار زاروں سے قالینوں کی زینت بنے ۔بڑی دیر تک سلطنتوں کو نہیں سنبھال پائے ، یہ دور ہند میں تغلق خاندان کا تھا اور غیاث الدین تغلق تخت شاہی پر جلوہ افروز تھے ، فیروز شاہ تغلق اور محمد تغلق کے بعد ۱۴۵۰ ؁ ء تک یہ خاندان حکمراں رہا اور اس کے بعد ۱۴۵۱؁ء امیر تیمور کے وائسرائے سید خضر خاندان کی حکمرانی ۱۴۵۱ ؁ء سے تک رہی ، یہاں سے ۱۴۸۸ ؁ء لودھی خاندان ہند کے تخت و تاج کا مالک رہا جن میں بہلول لودھی ، سکندر لودھی اور ابراہیم لودھی بادشاہ رہے، ۱۵۲۶ ؁ء سے ۱۵۳۰ ؁ء تک بابر بادشاہ ہوئے ، بابر کے بعد نصیر الدین ہمایوں ۱۵۳۰؁ء سے ۴۰ ۱۵ ؁ء تک اور پھر ۱۵۵۵؁ء بیچ میں شیر شاہ سوری بھی حکمراں ہوئے، اس کے ۱۵۵۶؁ء سے جلالادین محمد اکبر نے ہند کا تاج و تخت سنبھالا اور آگے ایک مدت تک بہادر شاہ ظفر کے زمانے تک مغلیہ خاندان کی حکو مت رہی ، ، اوپر اس مختصر تفصیل سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ جب یہاں ملک کشمیر میں شاہمیری خاندان یعنی ایک ہی خاندان کی حکمرانی رہی تو ہند میں کئی خاندان آئے اور گئے اور ان خاندانوں کے کئی بادشاہ تخت کے وارث ہوئے ،، ان خاندانوں اور ان کے بادشاہوں کی تعداد اور ان کے کارنامے اور حالات و واقعات ہمارا موضوع نہیںکیونکہ یہ سب ہند میںرہے ۔لیکن اس کے باوجود ملک کشمیرپر ہند کے حالات اور واقعات کا گہرا اثر بار بار ابھر کر آجاتا ہے ،کشمیر کے کئی بڑے بڑے لوگ بہر حال کئی بار امداد اور تعاون کی خاطر یہاں آتے رہے اور اکثر مرتبہ ان بادشاہوں کی افواج یہاں آتی رہی ہیں ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغلیہ خاندان کے لئے یہاں کے راستے آسان ہوتے گئے ، بہر حال غازی چک ۱۵۵۴ میں یہاں کا بادشاہ ہوا اور اس طرح چک خاندان کی بنیاد پڑی ، غازی چک اپنی خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ منصف مزاج بھی تھا ، خاصا منتظم بھی تھا اور اس کے ساتھ ہی بہادر اور نڈر بھی تھا ، جب یہ تخت نشین ہوئے اور بغیر کسی جنگ و جدل کے تخت پر بیٹھ گئے تو کشمیر کے آس پاس لشکر کشی کی اور گھکھڑوں پر حملہ کرکے اس کے سر گنہ کمال گھکھڑ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں لایا ۔اس کے بعد پکھلی ۔ گلگت،اسکردو ، کشتواڈاور بھمبر پر قابض ہوکر یہاں اپنے صوبیدار رکھ لئے ، طبیعت میں تعصب بھی تھا اس لئے ہندؤں اور مسلمانوں دونوں پر سختی کی اور شیع مسلک کے فروغ کی کوششیں کیں ، ، نصرت چک نے اپنے بھائیوں کے ساتھ بغاوت کی ،شہر کے پل توڈ دئے ، ،ادھر سے غازی چک بھی مقابلے میں آیا نصر ت چک کے بہت سے ہمراہی مارے گئے،کچھ بھاگ گئے اور اس لڑائی میں یوسف چک اور نصرت چک گرفتار ہوئے ، تھوڑے ہی دنوں بعد بہرام چک ، فتح چک اور شنکر چک نے علم بغاوت بلند کی اور سوپور میں آکر اپنا مورچہ سنبھالا ، ، ان سب کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اور بہرام چک کھوئہامہ سے گرفتار ہوکر قتل ہوا غازی چک نے ملکی امور میں سختی اور مہیب سزائیں دے کر مجرموں اور باغی افراد کو کچھ وقت کے لئے پشت بہ دیوار کردیا اورکچھ عرصے کے لئے تمام سازشوں سے نجات پاکر سلطنت کو تھوڑا سا استحکام دیا لیکن مذہبی تعصب کی وجہ سے راکھ کے ڈھیر میں چنگاری بدستور باقی رہی ، ، غازی کا طرز حکمرانی اس ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ حیدر خان کے ملازموں میں سے کسی نے ایک آدمی سے کچھ ُعنا ب چھین کر اس کے بیٹے حیدر کو دئے ، مالک نے فوراً ہی اس کی شکایت غازی سے کی ،جس نے خطاوار کے ہاتھ کٹوادئے ، اس بات سے رنجیدہ ہوکر حیدر ،غازی کے بیٹے نے باپ کے خلاف احتجاج کیا ماموں کے ہاں پناہ لی، ماموں نے اس سے سمجھانے کی کوشش کی تو غصے میں خنجر سے وار کرکے اس سے قتل کیا ، غازی خان کو پتہ چلا اس سر کشی کی پاداش میں بیٹے کو عید گاہ کے راستے میں کہیں تختہ دار پر لٹکادیا جہاں کئی روز تک اس کی لاش لٹکتی رہی چوروں کے ہاتھ کٹوادئے ،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں وہ سفاک اور بے رحم تھا وہاں کسی قصور وار کو بنا سزا دئے کبھی نہیں چھوڑتا تھا جس نے ایک چھوٹی سی مدت کے لئے عوام کو سکون کے ساتھ دن گذارنے کے مواقع دئے ، وہ بیدار مغز نڈر ،بیباک اور موقع شناس تھا ،اس کا یہ کارنامہ بڑا تھا کہ اس نے ملک کو مغل حملوں سے بچائے رکھا ،،اور غازی کے بیس سال بعد اس کے جانشین مغلوں سے ملک کو بچا نہیں سکے ،، غازی آخر کسی بیماری میں مبتلا ہوا اور قمری حساب سے نو سال ۲ماہ تک کی حکمرانی کے بعد ۱۵۶۳ ء میں تخت اپنے بھائی حسین چک کو تفویض کرکے خود کنارہ کش ہوگیا ، غازی کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ متضاد اوصاف کا پیکر تھا ،لیکن اس کے باوجود سلطنت کشمیر کو اس کے دور میں استحکام حاصل ہوا ،، ساری دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات منکشف ہوجاتی ہے کہ جنہوں نے سختی اور سخت قوانین نافظ کرکے حکمرانی کی ان کے ادوار میں عوام نے اکثر و بیشتر اطمینان کی سانس لی ہے اور جرائم پیشہ افراد کے لئے ڈر اور خوف کی وجہ سے کوئی سپیس نہیں چھوڑی ہے جس وجہ سے جرائم پیشہ افراد یا تو ان ممالک سے فرار ہوکر کہیں اور جابسے یا جرائم سے توبہ کرکے مجرمانہ زندگی کو خیر باد کہنے پر مجبور ہوئے ہیں ، ایک آدمی کے پھانسی پر چڑھانے سے ہمیشہ نناوے افراد محفوظ ہوگئے ہیں اور ایک جرم پیشہ فرد کو کیفر کردار تک نہ پہنچانے کے سبب مجرم اور جرائم کو فروغ حاصل رہا ، ہماری جمہوریتوں کا حال ہمارے سامنے ہے، انسان اور انسانیت کی بقا ہی اس میں ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو ان کے جرائم کی سزا ملے جو ان انسانی ذہن کے بنائے ہوئے قوانین اور حالیہ عدالتوں سے ممکن نہیں ہورہا اس لئے کہ انصاف اور عدل میں دیر بھی اپنی جگہ پر بذات خود ناانصافی اور ظلم عظیم ہے ،،