بلاگ

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط: ۴۲)
اب ہم اس موڈ پر آچکے ہیں جہاں ہماری ملاقات یوسف شاہ چک سے ہونے والی ہے ، اور میں چاہوں گا کہ اس بادشاہ کا تعارف ذرا سا تفصیل کے ساتھ آپ کو دوں اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ کوئی ’’بڈشاہ‘‘ثابت ہوا اور نہ یہ کہ وہ کوئی زبردست جنگجو ، دلیر اور شجاع حکمراں تھا ، لیکن پھر بھی ایک معقول وجہ یہ بنتی ہے کہ کہ اگرچہ وہ کوئی تاج محل اپنی محبت کی یاد میں تعمیر نہیں کر سکا لیکن اس نے اپنے عشق اور محبت کی داستان اپنے پیچھے ضرور چھوڈی ہے ، اور یہ داستاں اتنی مشہور و معروف ہے کہ ہمارے لوک گیتوں میں یوسف اور اس کی محبوبہ زون (چاند )کے قصے امر ہوگئے ہیں ، ابھی تک بالی وڈ نے بھی اس کی کہانی پر ایک فلم بنائی ہے جسمیں اجے ساہنی نے یوسف کا کردار نبھایا تھا اب ہیروئن کا نام یاد نہیں ، شاید اس کے بعد بھی ایک اور فلم بنی تھی ، لیکن ڈرامہ سیرئل اس کہانی پر مبنی فلمائے اور ٹیلی کاسٹ کئے جاچکے ہیں ، ڈراموں کی تو بات نہیں ہر ڈرامہ تھیٹر نے لگ بھگ یوسف اور زون پر ڈرامے دکھائے ہیں ، کشمیر میں کسی بادشاہ کو سوائے بڈشاہ کو عوامی سطح پر اتنا یاد کیا جاتا ہو یہ مجھے اندازہ نہیں اور اس کی وجہ اس کی عشقیہ داستاں ہے ۔ اور میں اگر غلطی نہیں کر رہا تو یہ جوڈی سلیم انارکلی کی یاد دلارہی ہے ، لیکن ،فی الحال یوسف شاہ چک کی بادشاہت سے متعلق بات ،،، علی شاہ چک کی موت کے بعد اس کے بھائی ابدال نے کوشش کی کہ وہ تخت پر قابض ہوسکے ،لیکن سید مبارک خان کی کوششوں اور اثر و رسوخ کے باعث یوسف تخت پر قابض ہونے میں کامیاب ہوا ،میرے خیال میں یوسف کسی طرح تخت نشینی کے قابل نہیں تھا بس یہی تھا کہ وہ تخت کا حقدار تھا ، اور تخت نشین ہوتے ہی اس کی رنگین مزاجی ، رنگیلا پن ، مستانگی اور رندانہ طبیعت اپنی شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوئی اور یوسف فوراً ہی امور ات ملکی کو خیر باد کہہ کر رنگ و نور اور بادہ و جام میں غرق ہوا ، ملک میں انتشار اور اضطرابی کیفیت پھیل گئی اور وہ لوگ جو تخت کے ہوس اور فراق میں رات دن بے قرار رہا کرتے تھے پھر ایک بار مصروف عمل ہوئے ، سید مبارک کے مشوروں پر جب قوالوں اور رقص و سرود والوں کے مشورے اور عقل حاوی ہوئی تو سید مبارک نے گوشہ نشینی اختیار کر کے یوسف کو اپنے حال پر چھوڈ دیا ، سید مبارک کی جگہ محمد بٹ وزیر مقرر ہوا جس کی وجہ سے ابدال بٹ اور اس کے ساتھیوں نے یوسف کے خلاف کمر کس لی اور ۶ ماہ صفر ۱۵۸۰ ء کو آدھی رات کے وقت اس نے لوہر چک ، شمس چک ، کوپہ دارہ اور علی چک کی مدد سے دریائے بِہت (جہلم ) کے پل کاٹ ڈالے اور سید مبارک کے گھر آکر ان سے امداد کے طالب ہوئے ، لیکن جہاندیدہ اور فہم و فراست کے حامل سید مبارک نے انہیں وعظ و نصیحت سے اس خون ریز مہم سے باز رکھا اور دوسرے روز بابا خلیل کو بادشاہ کی خدمت میں روانہ کرکے باغیوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے اور ان کامداوا کرنے کی درخواست کی لیکن یوسف کے پاس اب اہل دانش بھی قوال ہی تھے اور مشورے دینے والیاں بھی ناچنے گانے والی ناقص عورتیں تھیں اس لئے اس نے سید مبارک کے مشورے کو کوئی اہمیت نہیں دی بلکہ اس کے برعکس سید مبارک کو پیغام بھیجا کہ ایک دن کے اندر باغیوں کو پابہ زنجیر ہمارے حضور پیش کردو نہیں تو تمہاری زندگی کی بھی خیر نہیں، اور دوسرے روز ہی یوسف نے ایک لشکر بھیج کر سید مبارک کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا ، اب سید کے پاس بھی اپنے بچاؤ کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا اس لئے وہ بھی ایک بڑی جماعت کے ساتھ یوسف شاہ کی افواج کے ساتھ نبرد آزما ہوئے اور یہ جنگ نوا کدل کے اس پار لڑی گئی کیونکہ یوسف شاہ کی فوجوں نے نواکدل کی مرمت کرکے دریا پار کر لیا تھا ۔اس جنگ میں سید مبارک نے اپنی تیغ زنی اور بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے ، یوسف شاہ کی افواج کے بہت سارے بڑے سالاروں کو موت کے گھاٹ اتارا جن میں ،محمد خان ، میر قاسم ،علی ، ملک ابراہیم گنائی ، اور شیر خان ماگرے جیسے بڑے شہسوار بھی تھے جس کی وجہ سے یوسفی لشکر میں سراسیمگی پھیلی اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے کچھ تو واپس گئے اور بہت سارے سپاہی سید مبارک کے خیمے میں آگئے ، اب یوسف کا نشہ ہرن ہوا اور صلح کا پیغام بھیجا جس کے جواب میں سید مبارک نے اتنا ہی کہا کہ فی الحال آپ تخت و تاج سے دستبردار ہوکر کہیں جاکر اپنے آپ کو سدھارئے اور کسی مناسب وقت پر میں آپ کی امانت لوٹا دوں گا ، یوسف کے پاس اب کوئی چارہ نہیں تھا اس لئے اپنی جائداد علی چک کے گھر میں امانت چھوڈ کر۱۳ ماہ صفر ۹۸۸ھ ایک سال ایک ماہ اور ۱۹ روز کی بادشاہت کے بعد تخت سے محروم ہوکر کوہستان چلا گیا ، یوسف چک کی بر طرفی کے بعد کئی روز تک تخت خالی رہا ، آخر علی چک ، لوہر چکے اور دوسرے با اثر اشخاص نے سید مبارک کو تخت پر بیٹھنے پر قائل کیا ، جہاں تک میں سمجھ رہا ہوں سید مبارک کسی بھی طرح تاج و تخت کی تمنا نہیں رکھتے تھے بلکہ اس کے برعکس اپنی ایک سادہ لوح ، لیکن جہاں دیدہ ، اورذہین و فقیر قسم کا آدمی تھا ، اس نیک دل اور درویش صفت انسان نے تاج کو اپنے سامنے رکھنے کے بعد یہ شعر کہا ، جہان و کار جہان جملہ ہیچ در پہیچ است ،،ہزار بار من ایں نقطہ کدہ ام تحقیق ،،،( یہ جہان اور کار جہان حقیر پست ہے ، اور اس نقطے کو میں نے ہزار بار تحقیق کیا ہے)او ر اس کے بعد تاج اپنے سر پر سجالیا لیکن فوراً ہی اقتدار اور ہوس پرست لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کیونکہ سید مبارک نے تاج شاہی توڈ ڈالا ، شاہی لباس سے پرہیز کیا اور ہیرے جواہرات سے مرصع تخت سے قیمتی جواہرات نکال کر بیچ دئے اور رقم مساکین اور غربا میں تقسیم کی ، بہت سارے ایسے اعمال کو برخواست کیا جو ظلم و زیادتی یا کرپشن کو فروغ دینے میں معاون تھے اور اس طرح فوراً ہی کئی قوانین کو منسوخ کیا جو انسانی اقدار کے خلاف تھے ، اس صورتحال سے یہ لوگ پریشان ہوئے اور پھر وہی محلاتی اور باہری سازشوں کے جال بھنے جانے لگے ، دوسرے بڑ ی وجہ یہ رہی کہ ان ہوس پرست اور غرض پرست لوگوں کو اس بات کا بہت جلدی احساس ہوا کہ مبار ک اپنے اوپر کسی کو نہ تو حاوی ہونے دے گا اور نہ ہی کسی لالچ ، عیش و عشرت کا خو گر ہے بلکہ اس میں جو درویشانہ صفات تھیں ان کی وجہ سے یہ لوگ ڈر گئے اور پھر ایک بار یوسف شاہ کو کشمیر واپس بلانے لگے ، ، سید مبارک کو اس بات کا احساس تھا اور وہ خود بھی اس بادشاہت سے بیزار ہی تھا اس لئے داود میر کو خط دے کر یوسف شاہ کے پاس بھیجا ، یوسف اپنے بیٹوں یعقوب اور ابراہیم کو داؤد میر کے ساتھ واپس بھیجنے پر آمادہ تھا لیکن ابدال بٹ نے اس سے مشورہ نہیں دیا بلکہ بہکا دیا کہ یہ کوئی چال ہوسکتی ہے ، ابدال بٹ پہلے ہی سے سید مبارک کے مخالف تھا اس لئے اس نے یوسف کو غلط مشورہ دیا ، اس خط کے جواب میں جو خط لکھا وہ بڑا تلخ اور خلوص کو پامال کرنے والا تھا جس وجہ سے سید مبارک نے میدان کارزار میں آکر یوسف شاہ کی حمائتی افواج کا مردانہ وار مقابلہ کیا ، اور اس جنگ میں بھی یوسف کی فوج کے سالار گدا بیگ ،ترکمان ، اور تمیز خان مارے گئے اور دوسرے بڑے بڑے سردار قیدی ہوئے ، اس کے بعد وہی دغابازیوں، فریب کاری اور پس پردہ سازشوں کے کئی واقعات ہیں ، جنگ میں کئی چک اشخاص نے یوسف کی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کوئی بھی میدان جنگ میں اس کی حمائت میں کھڑا نہیں ہوا ،، ابدال بٹ نے سید مبارک کا تختہ الٹنے کا ایک اور منصوبہ بنایا ،اس کا مختصر سا تذکرہ اس طرح سے ہے کہ ابدال بٹ نے سید مبارک کو اس بات پر قائل کیا کہ یوسف کی یہاں واپسی کے لئے علی خان ولد نوروز چک کا ہاتھ ہے اور مبارک نے اس سے قید کیا تو دوسری طرف کئی چک امرا کو باور کرایا کہ سید مبارک ہی کے احکامات پر علی خان کو قید کیا گیا ہے ، اس طرح ابدال بٹ ان دونوں فرقوں کو لڑانے میں کامیاب ہوا ،یہ جاننے پر سید مبارک نے ابدال بٹ کو مقابلے کے لئے للکارا بھی لیکن ابدال بٹ منافق اور شر پسند آدمی تھا اپنی چالبازیوں اور فریب کاریوں سے ہی آگے بڑھا تھا ، بہر حال سید مبارک اپنی دانائیوں سمیت اس جال میں آگئے اور بابا خلیل کی خانقاہ میں ایک اجلاس میں چک امراء نے مبارک کو معزول ہونے پر مجبور کیا چونکہ یہ پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ جہاں وہ انتہائی درجے کا نڈر اور بہادر جنگجو تھا وہا ں اس سے خون بہانا بھی پسند نہیں تھا اور تخت تو خیر ایسا لگتا ہے کہ وہ پہلے ہی سے تخت’’ بیزار ‘‘ تھا انہیں صرف ۶ ماہ ۲روز مطابق ۱۵۸۰؁ء حکمرانی سے معزول کرکے شنکر خان کے بیٹے لوہرچک کو مسند حکومت پر بٹھا دیا گیا اور ابدال بٹ خود وزیر مقرر ہوا اور اپنے خدشا ت کو دور کرتے ہوئے علی چک اور اس کے بیٹے یوسف کو گرفتار کرکے یوسف شاہ چک کو جو باہر تھا کو کہلا بھیجا کہ یہاں نہ آئے ، ، یوسف شاہ امداد کا طلب گار بن کر ۱۵۵۰کودربار اکبری میں پہنچا ، اکبر نے یوسف شاہ کو احترام سے رکھا اور مان سنگھ ا ور مرزا یوسف خان کو یوسف شاہ کی مدد کے لئے مقرر کیا ، ۱۵۸۰ میں یوسف شاہ ان دونوں کی میت میں لاہور روانہ ہوا ، لیکن اس بیچ سابق وزیر محمد بٹ اپنے ایک ہزار لشکریوں کو بہاول پور میں چھوڈ کر خود یوسف سے لاہور ملنے آیا ، اور اسی کے مشورے پر یہ طئے پایا کہ مغلوں کے لشکر سے کام نہیں لیا جائے گا ، اس کی وجوہات ظاہر ہیں کہ دونوں سابقہ وزیر اور بادشاہ کو یہ خدشہ رہا ہوگا اور یہ فکر ستارہی ہوگی کہ ایک بار مغل افواج کشمیر میں ساتھ آگئیں تو ان سے بعد میں پیچھا کیسے چھڑایا جائے ؟ یو سف نے کچھ سوداگروں کو بھرتی کیا اور کوئی بہانہ بناکر بہاول پور آیا اور کچھ کشمیری امرا کی مدد سے ۳ ہزار کے قریب فوج اکٹھا کی ، ، نوشہرہ میں اس نے یوسف ڈار کو شکست دی جو لوہر چک کی طرف سے حکمران تھااور پھرراجوری کی طرف بڑھا ، لوہر چک نے حسین شاہ کے بیٹے یوسف خان اور ابدال بٹ کے بیٹے نازک بٹ کو محاظ کی طرف روانہ کیا سداؤ گاؤں پہنچ کر یوسف خان نے نازک بٹ کو گرفتار کرکے یوسف شاہ کے حوالے کیا اور خود بھی اسی کیمپ میں پناہ لی ، کئی اور سردار بھی یوسف سے مل گئے ، یہاں یوسف شاہ نے ایک اور جنگی چال چلی کہ وہ پیر پنجال کے راستے کو کاٹ کر درہ توس میدان سے کشمیر میں داخل ہوا ، اور لوہر کی فوج کو پہلے چیرا ہار اور پھر میرے سوپور میں شکست دی سوپور میں جہلم کو پار کرکے پل جلادیا اور آس پاس کے علاقوں پر قابض ہوا ،تفصیل کچھ اور بھی ہیں لیکن اختصار کرتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے ابدال بٹ بھی مارا گیا اور لوہر چک آخر کسی طرح اپنی جان بچانے کی خاطر سوپور میں ہی قاضی موسیٰ کے گھر میں چھپااور پکڑا گیا جب کہ لوہر کا بھائی محمد بارہمولہ میں حسن چک پرگنہ بانگل کے گاؤں مموسہ میں پکڑا گیا ، لوہر شاہ اس کے بھائی محمد اور حسین چک کی آنکھیں نکالی گئیں ، لگتا ہے کہ یہ اندھا بنانے کا اندھا قانون اچھی طرح رواج پا چکا ، لوہر شاہ کی حکمرانی بھی ایک سال ایک ماہ کے بعد اختتام ہوگئی اور یوسف شاہ دوسری بار ۱۵۸۱ ؁ ء میں تخت پر براجمان ہوا اور محمد بٹ کو وزیر مقرر کرکے بادشاہت کی شروعات کی ، اور اسی دوران اس عشقیہ داستان نے جنم لیا جو کشمیر میں مشہور ہے پوری کہانی کے لئے ہم اگلی قسط کو محفوظ رکھتے ہیں ،،، انشا اللہ۔